08:49 am
کالا پانی کی آزادی

کالا پانی کی آزادی

08:49 am

کالا پانی ،جو کبھی جزائرانڈیمان ونیکوبار میں انگریزوں کا قائم کردہ ایک بدنام زمانہ ڈیتھ اور ٹارچر سنٹر تھا ، مگر آج اس کی بھارتی جبری قبضے سے آزادی کے لئے نیپال میںشدید احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بھارت اور نیپال کے درمیان سرد جنگ شروع ہو گئی ہے۔انگریزوں کی سزائے کالا پانی بہت بدنام ہوئی ۔ کالاپانی میں جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے لا تعداد مسلم اور ہندو قید کئے گئے۔ آج مودی کے انڈیا میں صرف ہندوئوں کو ہی ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی قربانیوں پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیرسے لے کر مسلم دور کی شناخت کو ایک ایک کر کے مٹایا جا رہا ہے۔ انگریزوں نے 1906ء میں جب اس دنیا سے الگ تھلگ قید خانے کو شروع کیا تو اس میں سب سے پہلے شیر علی نامی ایک مسلم آزادی پسند کو قیدی بنایا گیا۔
 آج جس کالا پانی کی بات ہو رہی ہے یہ انڈیا کے زیر قبضہ ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلعے میں 35 مربع کلومیٹر اراضی پر محیط علاقہ ہے۔ کالا پانی،  بھارت، تبت(چین) اور نیپال کی سرحدوں کا سنگھم ہے۔ 1962ء سے یہاں بھارت کی انڈو تبتن سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی ایف)کے اہلکار تعینات ہیں۔ انڈین ریاست اتراکھنڈ کی سرحد نیپال سے 80.5 کلومیٹر اور چین سے 344 کلومیٹر تک ملتی ہے۔ دریائے کالی کی ابتدا بھی کالا پانی ہے۔ انڈیا نے اس دریا کو بھی اپنے نئے نقشے میں شامل کیا ہے۔اس کا نام مہا کالی دریا رکھا گیا ہے۔ 1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور نیپال کے مابین سگولی معاہدہ ہوا ۔ اس وقت دریائے کالی کی مغربی سرحد پر مشرقی انڈیا اور نیپال کے مابین نشاندہی کی گئی ۔ جب 1962ء  میں انڈیا اور چین کے مابین جنگ ہوئی تو انڈین فوج نے کالا پانی میں ایک چوکی تعمیر کی۔نیپال نے 1962ء کی بھارت چین جنگ سے قبل 1961 ء میں یہاں مردم شماری کروائی اور انڈیا نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ کالا پانی پر انڈیا کا قبضہ سگولی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
نیپال میں مظاہروں میں اضافے کے دوران وزیر اعظم کے پی اولی کا کہناہے کہ کالا پانی نیپال، انڈیا اور تبت کے مابین ایک سہ فریقی مسئلہ ہے اور انڈیا کو فوری طور پر وہاں سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہیے۔کے پی اولی نے کہا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کے وزیر اعظم نے انڈیا کے نئے سرکاری نقشے سے پیدا ہونے والے تنازعے پر عوامی طور پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔انڈیا نے نئے نقشے میں کالا پانی کو اپنے علاقے کے طور پر پیش کیا ۔ کالا پانی نیپال کے مغربی سرے پر واقع ہے۔ وزیر اعظم کے پی اولی کے بیان پر انڈیا کا کہنا ہے کہ نیپال کی سرحد پر انڈیا کے نئے نقشے میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے۔مگرکے پی اولی نے دو ٹوک کہہ دیا کہ ہم اپنی ایک انچ زمین بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے۔ انڈیا یہاں سے فوری طور پر نکل جائے۔ انڈیا کے نقشے میں کالا پانی کو شامل کیے جانے پر نیپال میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں۔ اس ایشو پر حکمران جماعت اور حزب اختلاف دونوں متحد ہیں۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے ایک بیان  جاری کرتے ہوئے کہا کہ کالا پانی نیپال کا حصہ ہے۔
اس وقت نیپال اور چین میں دوستی بڑھ رہی ہے۔ چین ’’ون بیلٹ، ون روٹ‘‘ منصوبے کی وجہ سے نیپال تک بھی پہنچ رہا ہے۔اس میں نیپال اور پاکستان سمیت میانمار اور مالدیپ بھی شامل ہونے ہیں۔ مگر بھارت اس منصوبے میں شامل ہونے سے انکاری ہے۔بلکہ وہ دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتا ہے کہ وہ اس میں شامل ہو کر قرض میں پھنس رہے ہیں۔ مگر بھارتی مخالفت کی وجہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ جس کے تحت چین سے گودار تک شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرتی ہے۔ اب اس میں آزاد کشمیر بھی شامل ہو رہا ہے۔ مانسہرہ سے براستہ مظفر آباد ایک شاہراہ میرپور تک تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی ہے جب کہ وادی نیلم کو بھی گلگت بلتستان سے ملانے کے لئے کئی منصوبے شروع کئے جا سکتے ہیں۔  بھارت نے نیپال کے نزدیک15سے زیادہ ڈیم تعمیر کئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے نیپال میں سیلاب آ رہے ہیں۔ جب نیپال میں دو برس قبل سیلاب آئے تو چین نے متاثرہ علاقوں کے لئے 10لاکھ ڈالرز امداد کا اعلان کیا۔ اس سیلاب میں 150سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس سے پہلے جب نیپال میں زلزلہ آیا ، چین نے اس وقت بھی امداد دی۔ 2015میں بھارت نے نیپال کا اقتصادی محاصرہ بھی کیا ۔ جس کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ 
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بنانے کے بعدایک نیا نقشہ جاری کیا ۔ نقشے میں گلگت بلتستان اورآزادکشمیر کے کچھ حصوں کو شامل کیا گیا ۔اس نقشے پر پاکستان اور آزاد کشمیر نے کوئی سخت ردعمل نہیں دکھایا۔ مگر نیپالی عوام سڑکوں پر آگئے۔ نیپالی وزیر اعظم اولی کہہ رہے ہیں کہ غیر ملکی فوجیں ہماری سرزمین سے واپس جائیں۔ اپنی زمین کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ اولی نے کہا 'کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ نقشے کو درست کرنا چاہیے۔ یہ تو ہم ابھی کر سکتے ہیں۔ یہیں پر کرسکتے ہیں۔ یہ نقشے کی بات نہیں ہے۔ معاملہ اپنی زمین واپس لینے کا ہے۔ ہماری حکومت زمین واپس لے گی۔ نقشہ تو پریس میں پرنٹ ہو جائے گا۔ لیکن یہ معاملہ نقشہ چھاپنے کا نہیں ہے۔ نیپال اپنی سرزمین واپس لینے کا اہل ہے۔ پتہ نہیں وزیراعظم عمران خان’’ اپنی شہ رگ‘‘ کے بارے میں دو ٹوک فیصلہ کب کریں گے، جیسے کہ نیپالی وزیراعظم نے کیا ۔

تازہ ترین خبریں