08:50 am
طاقت کانشہ

طاقت کانشہ

08:50 am

وہ بہت آہستہ سے اونچائی پرپہنچتی ہے‘ اور پھراور اوپراوراوپر‘اورجب پتنگ نقطہ بن جائے تب اسے سنبھالنابہت مشکل،بہت ہی مشکل ہوتاہے۔ہاں بہت صبرچاہئے، ہمت بھی اورحوصلہ بھی۔کبھی یوں لگتاہے ۔ایک جگہ ساکت ہوگئی اونچائی پرپہنچ کرلیکن کب تک!آخرکہیں پیچ لڑجاتاہے اورکوئی ایک کٹ مرتی ہے‘۔کوئی نہیں ہوتااسے سنبھا لنے والا ۔ا پنے مرکزسے کٹ کرڈولتی رہتی ہے اوربچے نگاہیں اٹھائے،ایک لمبی چھڑی جس کے اوپرکانٹے لگے ہوتے ہیں،لیکراسے لوٹنے کیلئے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ اکثرتووہ جب زمیں پرآرہی ہوتی ہے،کانٹوں سے الجھ کرہی برباد ہو جاتی ہے،اوربچ بھی جائے توبچے اسے پرزہ پرزہ کردیتے ہیں ۔سا لم تووہ کسی کے حصے میں نہیں آتی۔ ابھی توبہت اونچااڑ رہی تھی،اوراب اس کے پرزے ہوامیں اڑرہے ہوتے ہیں۔اورکیا خود اڑتی ہے پتنگ؟نہیں،خودنہیں اونچی اوربلند ہوتی، کوئی ہاتھ ہوتاہے اسے بلندیوں پرپہنچانے والا۔بس یہی ہے زندگی‘یہی ہے‘۔ہمیں سمجھ میں آئے تب ناں۔کسی نے بھی تو،ہاں یاروکسی شے نے بھی نہیں رہنا۔بس فناہے،زندگی کے پیچھے موت ہے،زندگی کی نگہبان بھی موت ہے۔آگے نہ پیچھے بس وقت ہواچل سوچل۔سا مان سوبرس کاہوتاہے اورپل سا منے کھڑا گھوررہا ہوتاہے۔ کوئی چارہ ہی نہیں۔نہیں بالکل بھی نہیں۔
ہم انسان ہیں،حماقتیں کرتے ہیں،گناہ کرتے ہیں،آلودہ ہوجاتے ہیں ہم،دلدل میں دھنس جاتے ہیں، سیاہ ہوجاتے ہیں ہما را قلوب،مر جاتاہے ہمارا اندر،تعفن اٹھ رہاہوتا ہے ہم اندر اور باہر خوشبو لگائے گھومتے رہتے ہیں،کبرمیں مبتلا،تکبرتوجان لیواہے چاہے ذرہ برابرہو۔علم کا،دین داری کا،تقوی کا، طاقت کا،خوبصورتی کا،صلاحیتوں کا،بہادری کا،پیسے کااورنجانے کیساکیسابھیانک روپ دھارتاہے یہ تکبر۔ بالکل بہروپئے کی طرح جوایک دن بھکاری اوردوسرے دن شہزادہ بناگھوم رہاہوتاہے۔یہی دنیا ہے جی،یہی ہے۔
ہاں یہ توفیق پرہے ،کرم پرہے،عنائت پر ہے، کوئی بھی تونہیں بچاسکتا ہمیں۔بس بچانے والاہی بچاتا ہے۔میں نمازپڑھتاہوں توافضل ہوں،روزے رکھتا ہوں،زکوۃ دیتاہوں، خیرات بانٹتاہوں،توبس میں افضل ہوں۔نہیں،نہیں یہ دھوکاہے،شیطان کا ہتھیار ‘ بہت مہلک ہے یہ۔بس رب نے توفیق دی ہے، عنائت کی ہے،میرے بس میں کیاہے! میرے پلے توکچھ بھی نہیں،ہاں کچھ بھی تونہیں ہے۔خالی دامن غبارے کی طرح پھولاہوا۔کچھ نہیں ہے میرے پاس۔
رب نے عنایت کی ہوئی ہے توبس شکرکرو،کہ تم اوروں کی طرح نہیں ہو۔ورنہ شکل وصورت میں سب مختلف ہو تے ہیں،با قی کس چیزمیں ہوتے ہیں!بس سرجھکاکرکہو‘اللہ جی آپ نے یہ توفیق دی بس دیتارہ،میری نمازکیانمازہے،میری قربانی کیاہے،کچھ نہیں،بس توہی اپناکرم رکھنا۔ہماراہاتھ تھامے رکھنا میرے  اللہ جی،اورہے ہی کون ہمار،کوئی بھی نہیں ہے،کوئی بھی نہیں ہے یارو۔
اللہ جی تمہارے پیڑمیں پھل لگائیں تو شکر کرو، نہ لگائے تب بھی شکرکرو،دولت ملے توامتحان لاتی ہے اورغربت میں تواوررب کے قریب پہنچتاہے،یہی توہے۔ پھرجب گناہ سرزد ہوجائے،آلودہ ہو جائو تو سرجھکائو،آہ وزاری کرو،مجھ سے غلطی ہوگئی،ہاں مجھ سے بڑاظلم ہوگیا،نہیں میں آئندہ نہیں کروں گا۔ ندامت کے اشک جب چہرہ بھگودیں توسکینت اترتی ہے۔رب کی کرم نوازی جوش ما رتی ہے اورآوازآتی ہے،ٹھیک ہے معاف کیا،آئندہ مت کرنا‘تو مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ہاں رب جانتاہے پھر کرے گا،یاپھرنہیں کرے گا۔
جب،جب بھی دلدل میں دھنس جاتونالہ نیم شبی کرو،معاف کردے،تقصیرہوگئی مولا،پھرہوگئی غلطی، تونے معاف نہ کیاتومیں یقینا تباہ وبربادہوجاں گا۔ میرے کرتوتوں کونہ دیکھ، اپنی رحمت کودیکھ مالک، اورجب ہچکیاں بندھ جا ئیں توپھرسے رب کہتاہے،ہاں چل ٹھیک ہے،مت کرناآئندہ۔ یہی ہے زندگی اوریہی ہے زندگی کااسرار۔ورنہ دھوکہ ہی دھوکا۔ بابااقبال ؒ کیاخوب کہہ گئے:
رحمت یہ چاہتی ہے کہ اپنی زباں سے
کہہ دے گناہ گارکہ تقصیرہوگئی
کرم کی طلب کرو، سرجھکاکر شکرکرو، پھر بڑھاتاہے نعمتیں۔سب کچھ بن مانگے بھی دیتاہے، سب کودیتاہے،اپنی راہ اسے دکھاتاہے جوطلب گار ہو،جس کے دل میں آگ سلگ رہی ہو،جوپگھل رہاہو ، پھرکرم کرتاہے اوراندرکی آنکھ کوبینا کر دیتاہے۔ یہی توہے نعمت، اشیاکی حقیقت کاعلم بلاطلب کئے نہیں ملتا۔ میرے سرکار،میرے آقاومولا ﷺنے بھی یہی مانگاناں۔ نہیں بلا طلب نہیں ملتا‘۔پھرطلب بھی ایسی کہ خاموش رہواورآنکھ بات کرے۔نینابرسیں رم جھم رم جھم،سیلاب امڈآئے۔آنکھ کی زینت آنسوہیں، آنکھوں کاوضوآ نسو ہیں،جوآنکھیں آنسوؤں سے محروم ہوں چاہے لاکھ نشیلی ہوں،مدھ بھری ہوں،بس آنکھ ہی ہے دیکھنے کیلئے،آنکھیں اورآنسوؤں کے بغیر! حیرت ہے کیسی آنکھ ہے وہ اشک بارنہ ہو۔بنجرصحراہے وہ آنکھ،خزاں رسید ہ ہے وہ آنکھ!
تلاش حق اصل ہے باقی تودھوکاہے، نرادھوکا۔دنیا فریب ہے،سراب ہے،نشہ ہے مہلک ترین نشہ۔بس طلب کرو،توراہ دکھااپنی۔میں اس قابل تونہیں ہوں،بس کرم کردے، دکھا دے۔
کتنا قابل رحم ہے یہ انسان،کتنے بڑے دھوکے  میں پڑاہواہے۔ہرروزسنتے تھے ’’کسی سے نہیں ڈرتا،میری تربیت دفاعی نہیں جارحانہ ہوئی ہے،فوج میرے ساتھ ہے،امریکا میرے ساتھ ہے، سب سے پہلے پاکستان،ڈرنامیری فطرت میں شامل نہیں اور حاصل کلام یہ جملہ’’فوج نے اگرپکڑاتوزندہ نہیں رہوں گا‘‘۔اوراب کہاں ہے؟کسے کہتے ہیں ڈر!
کون سمجھائے کہ اقتدارمیں اعتدال کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ طاقت کانشہ بے قابو کر دیتا ہے، پھراس بیماری کی نحوست ناقابل برداشت ہوتی ہے۔انصاف کانعرہ لگانے والے انصاف ہی کاخون کرنے لگیں توپھروقت خون آلودہاتھ قلم کردیتاہے۔ خطرناک بیماریاں بے بس کردیتی ہیں اورمال ودولت بھی کام نہیں آتا۔علاج کیلئے عائدپابندیاں ہٹانے کیلئے بھیک مانگناپڑجاتی ہے تب جاکرروکنے والے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔
ہاں بہت بلندی پراڑتی ہے پتنگ اورکٹ مرتی ہے اورڈولتے ڈولتے زمین پرآرہی ہوتی ہے، اکثرتووہ جب زمیں پرآرہی ہوتی ہے، کانٹوں سے الجھ کرہی بربادہوجاتی ہے،اور بچ بھی جائے توبچے اسے پرزہ پرزہ کردیتے ہیں،دھوکہ ہے سب دھوکہ یارو۔
کچھ بھی تونہیں رہے گا،زرداربھی نہیں ناداربھی نہیں،کچھ بھی نہیں۔بس نام رہے گا میرے اللہ کا!