08:51 am
نبی رحمت،مبلغِ اعظم ﷺ

نبی رحمت،مبلغِ اعظم ﷺ

08:51 am

بھیانک اونٹ: کفار قریش ایک دن خانہ کعبہ میں جمع تھے۔ حضور  ﷺ بھی قریب ہی نماز ادا فرما رہے تھے۔ ابو جہل ایک بھاری پتھر اٹھا کر دکھی دلوں کے چین، رحمت کونین  ﷺ کے سر مبارک کو سجدے کی حالت میں کچلنے کے ناپاک ارادے سے آگے بڑھا۔ جوں ہی وہ نزدیک پہنچا کہ ایک دم بوکھلا کر پیچھے کی طرف بھاگا۔ کفار نے حیرت سے پوچھا، ابوالحکم! تجھے کیا ہوا؟ بولا ’’میں جوں ہی قریب پہنچا میرے تو اوسان ہی خطا ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک دہشت ناک سر اور خوفناک گردن والا بھیانک اونٹ منہ کھولے دانت کچکچاتا ہوا مجھے ہڑپ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا ہے۔ ایسا بھیانک اونٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا‘‘ حضور  ﷺ نے فرمایا ’’وہ جبرئیل (علیہ السلام) تھے۔ اگر ابو جہل اور نزدیک آتا تو اسے پکڑ لیتے‘‘ (سیرت ابن ہشام)
اللہ عز و جل کی شان بے نیازی بھی خوب ہے کبھی اپنے محبوب مبلغ کو دشمنوں کے ذریعے مصائب والام میں مبتلا کر کے ان کے خوب خوب درجات بلند فرماتا ہے تو کبھی مبلغ اعظم ﷺ کے دشمن کو وار کرنے سے قبل ہی خوفزدہ کر کے یہ باور کرا دیتا ہے کہ کہیں ہمارے محبوب  ﷺ کو بالکل اکیلامت سمجھ بیٹھنا ! ہمارے آقائے مظلوم ، سرور معصوم  ﷺ پر کفار بد اطوار کے ظلم و ستم کا سبب صرف یہی تھا کہ اب آپ ﷺ کھل کر لوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کرنے لگے تھے جبکہ شروع میں حضور  ﷺ نے تین سال تک اسلام کی خفیہ دعوت دی۔ پھر اللہ عز و جل کی جانب سے علی الاعلان تبلیغ کا حکم ہوا۔
دروازے پر خون: اسلام کی اعلی الاعلان تبلیغ شروع ہوتے ہی ظلم و ستم کی جاں سوز آندھیاں چل پڑیں، آہ! نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور  ﷺ کے سر انور پر کفار بد اطوار کبھی کوڑا کرکٹ پھینکتے تو کبھی آپ  ﷺ کے دروازہ مبارک پر (جانوروں کا) خون ڈالتے۔ کبھی راستوں میں کانٹے وغیرہ بچھاتے اور کبھی آپ  ﷺ کے بدن اطہر پر پتھر برساتے ایک بار  ان میں سے ایک بے رحم نے سجدے کی حالت میں گردن شریف کو بہت شدت سے دبایا۔ قریب تھا کہ مبارک آنکھیں باہر تشریف لے آتیں۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ سجدے کی حالت میں پشت اطہر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دی۔ علاوہ ازیں کفار جفا کار آپ  ﷺ کی شان عظمت نشان میں گستاخانہ جملے بکتے، پھبتیاں کستے، آپ  ﷺ کو معاذ اللہ جادو گر اور کاہن بھی کہتے  :
پیمبر دعوت اسلام دینے کا نکلتا تھا
نوید راحت و آرام دینے کو نکلتا تھا
نکلتے تھے قریش اس راہ میں کانٹے بچھانے کو 
وجود پاک پر سوسو طرح کے ظلم ڈھانے کو
مگر وہ منبع حلم و حیا خاموش رہتا تھا
دعائے خیر کرتا تھا جفا و ظلم سہتا تھا
راہ خدا عز و جل میں مصیبت جھیلنا سنت ہے:   دیکھا آپ نے؟ ہمارے پیارے پیارے آقا علیہ اسلام نے اسلام کی خاطر کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائیں اور یہ سب کچھ کھل کر تبلیغ دین شروع کرنے کے بعد ہوا۔ لہذا جب بھی کوئی مسلمان کسی کو نیکی کی دعوت دے  اور اس کے سبب اگر اسے کوئی تکلیف اٹھانی پڑ جائے تو اللہ عز و جل کے پیارے محبوب دانائے غیوب  ﷺ کی راہ تبلیغ اسلام میں پیش آنے والی تکالیف کو یاد کر کے اللہ عز و جل کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے بھی دین کی خاطر سختیاں جھیلنے والی سنت ادا کرنے کی سعادت بخشی۔ اس طرح ان شاء اللہ عز و جل شیطان ناکام و نامراد ہو گا اور صبر کرنا آسان ہو جائے گا۔
سوئے طائف:  اعلان نبوت کے بعد 9 سال تک ہمارے میٹھے میٹھے آقا علیہ السلام مکہ مکرمہ میں لوگوں میں اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے۔ مگر بہت تھوڑے افراد نے آپ  ﷺ کی دعوت کو قبول کیا۔ کفار بد اطوار کی طرف سے مخالفت کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔ آپ  ﷺ اور آپ  ﷺ کے پیارے پیارے صحابہ (علیہم الرضوان) کو کفار بے حد ستاتے اور ان کا طرح طرح سے مذاق اڑاتے۔ ہاں کافر ہونے کے باوجود بعض لوگ ایسے بھی تھے جو آپ  ﷺ سے ہمدردی رکھتے تھے۔ انہیں میں سے آپ  ﷺ کے چچا ابو طالب بھی تھے، ان کا کفار پر کافی رعب و دبدبہ تھا، دسویں (10) سال انکا انتقال ہو گیا۔ اب کافروں کے حوصلے ایک دم بلند ہو گئے اور ان کی طرف سے ظلم و ستم کی آندھیوں نے خوب زور پکڑ لیا۔ چنانچہ آپ  ﷺ نے طائف کا قصد کیا تاکہ وہاں جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ طائف پہنچ حضور  ﷺ نے پہلے پہل بنو ثقیف کے تین سرداروں کو اسلام کا پیغام پہنچایا۔
وہ ہادی جو نہ ہو سکتا تھا غیر اللہ سے خائف، چلا ایک روز مکے سے نکل کر جانب طائف دیا پیغام حق طائف میں، طائف کے رئیسوں کو، دکھائی جنس روحانی کمینوں کو خبیثوں کو۔
قلم کانپتا ہے:  افسوس ! ان نادانوں نے حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور  ﷺ کی پیاری پیاری باتیں سن کر بجائے سر تسلیم خم کرنے کے نہایت ہی سرکشی کا مظاہرہ کیا اور طرح طرح سے بکواس کرنے لگے۔ آہ! ان بد اخلاق سرداروں نے ایسے ایسے گستاخانہ جملے بکے کہ ان کو قلمبند کرنے سے میرا قلم کانپتاہے۔ میرے آقا میٹھے میٹھے مصطفی  ﷺ نے اب بھی ہمت نہ ہاری۔
(جاری ہے)