08:51 am
جناب وزیراعظم بس کر دیں بس؟

جناب وزیراعظم بس کر دیں بس؟

08:51 am

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور (ر) بھارتی فوجی جنرل ایس پی سنہا نے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 8لاکھ بھارتی فوجیوں کو مشورہ دیا کہ ’’وہ کشمیری خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کریں‘‘ جب ہندوشدت پسند بے غیرتی اورکمینگی کی اس انتہا کو پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئے کہ کمینگی کی اس انتہا کو پہنچے ہوئے ہندو شدت پسندوں کا علاج ’’جہاد و قتال‘‘ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر وزیراعظم عمران خان تو کہتے ہیں کہ کشمیر میں جہاد کے لئے جانے کی کوششیں کرنے والے کشمیر کے دشمن ہیں۔ کشمیر کے بہادر اور باوفا جرنیل سید علی گیلانی نے عمران خان کے نام جو خط لکھا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ  بھارتی فوج کی طرف سے کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے  کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے‘ اس میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دے‘ سید علی گیلانی کے مطابق کشمیریوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔
جنرل ایس پی سنہا کے شرمناک مشورے اور سید علی گیلانی کے خط کے بعد عمران خان حکومت نے کشمیر کی عفت مآب مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟ اگر وزیر خارجہ قریشی قوم کو بتا سکیں تو ضرور بتائیں؟
بظاہر دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی لفظی گولہ باری کا نشانہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں ہیں‘ دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف توپوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں‘ دوطرفہ سنگین الزامات کے جھکڑ چل رہے ہیں‘ لیکن مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حوالے  سے حکومتی حلقوں میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ویسے تو اپوزیشن کا کردار بھی اس حوالے سے  مجرمانہ ہی ہے لیکن اپوزیشن سے بڑھ کر ذمہ داری چونکہ حکومت کی بنتی ہے اس لئے ہمارا سوال بھی حکومت سے ہی بنتا ہے کہ جب کشمیر کی عزت مآب خواتین کی عصمتوں کو لاحق خطرات کی باتیں زبان زد عام ہو چکی ہیں۔ ان خطرناک حالات میں کشمیریوں کو ظلم سے بچانے کے لئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے؟ چلیں ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا نہیں کیا‘ لیکن  کشمیری مجاہدین پر تو کڑی پابندیاں عائد کرکے وہاں جاری جہاد کو تو سخت نقصان پہنچایا۔ پتھروں کو باندھ کر کتوں کو کھلا چھوڑ دینا یہ کہاں کی امن پسندی ہے؟
بھارتی فوج کتوں کی طرح مظلوم کشمیریوں کو جھنجھوڑ رہی ہے‘ وہاں ظلم جبر کا بازار گرم ہے اور آپ کہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ امن کی بات ہونی چاہیے‘ بابری مسجد کی زمین ہندو شدت پسندوں کے حوالے  کرکے مسلمانوں کے دلوں پر گہرا گھائو لگا دیا گیا‘ مگر آپ پھر بھی کہتے ہیںکہ بھارت سے امن کی  بات ہونی چاہیے۔
پاکستان کے مسلمانوں کے لئے قومی خزانہ خالی ہے‘ لیکن گوردواروں اور مندروں کی تعمیر کے لئے آپ کے پاس خزانہ ہی خزانہ ہے‘ چونکہ لبرل اور غامدی سکول آف تھاٹ کے مفتیان کے فتوے کے مطابق پرائیویٹ جہاد جائز نہیں ہے‘ اس لئے مولانا محمد مسعود ازھر یا حافظ سعید کی بجائے ہم بار بار عمران خان کے دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہیں۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر وزیراعظم عمران خان سے سوال کرنا ہمارا حق ہے کہ کشمیری خواتین کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنے کے لئے انہوں نے کیا اقدامات اٹھائے؟
حکومتی دستر خوان کا کوئی راتب خور ہمیں یہ مت سمجھائے کہ ہم نے عالمی برادری کو متوجہ کیا‘ او آئی سی سے بات کی‘ اقوام متحدہ سے اپیل کی‘ امریکہ سے شکایت کی‘ نہیں جناب نہیں‘ کشمیری مقبوضہ کشمیر میں رہتے ہیں اور بھارتی فوج کے درندے بھی مقبوضہ کشمیر میں ہی ان پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں‘ امریکہ اور اقوام متحدہ کو اپنے پاس رکھیے...ہمیں یہ بتائیے کہ آپ کے امریکہ‘ اقوام متحدہ اور او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارتی ظلم و تشدد سے بچانے کے لئے اب تک کیا کردار ادا کیا؟
عمران خان کو ہندوئوں اور گوردواروں سے بڑا پیار ہے‘ ان کی ساری مسکراہٹیں نجوت سنگھ سدھو کے لئے وقف ہیں‘ ممکن ہے کہ وہ سکھ اور ہندو دوست وزیراعظم کے طور پر اپنی پہچان بنانا چاہتے ہوں؟ میری ان سے گزارش ہے کہ وہ سکھوں اور ہندوئوں سے دوستیاں ضرور نبھائیں‘ پانامہ کیس میں ’’عزت‘‘ پانے والے نواز شریف پہ بھی ضرور شفقت کریں مگر تھوڑا سا رحم مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھی کھالیں‘ وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں ظلم کی رات گہری سے گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر کی جہاں کی مائیں‘ بہنیں‘ بیٹیاں انہیں مدد کے لئے پکار رہی ہیں۔ وہ مقبوضہ کشمیر کہ جہاں پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے نوجوان گولیوں سے چھلنی ہو کر قبروں کے پاتال میں گم ہو جاتے ہیں ‘اور اب تو ہندو جرنیل مقبوضہ کشمیر کی عفت مآب خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں کھلے عام کرنا شروع ہوچکے ہیں‘ اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا وقت آئے‘ مگر قوم وزیراعظم عمران خان سے سوال کر رہی ہے کہ اگر خدانخواستہ ایسا منحوس وقت آن پہنچا تو پھر وہ کیا کریں گے؟ کیا پھر وہ سرکاری جہاد کا اعلان کریں گے یا نہیں؟ یاد رکھیے! بزدلوں کا کوئی حامی اور مددگار نہیں ہوا کرتا‘ پرائیویٹ جہاد پر پابندی اور حکومت نے ریاستی جہاد کا اعلان ہی نہیں کرنا‘ تو پھر ’’پیغام پاکستان‘‘ کے اکابرین فیصلہ کریں کہ مقبوضہ کشمیر آزاد کیسے ہوسکے گا؟
کشمیری مائوں‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کا دفاع کون کرے گا؟ کشمیر میں ایک سو سات دنوں سے جاری کرفیو کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟ ہر آنے والے سورج کے ساتھ بھارت کی گرفت کشمیر پر مضبوط ہوتی چلی جارہی ہے‘ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ پاکستان کشمیریوں کو شہہ رگ قرار دیتا ہے۔
نریندر مودی نے اپنے ’’اٹوٹ انگ‘‘ کو بچانے کے لئے تو آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں داخل کر رکھی ہے جبکہ شہہ رگ قرار دینے والا عمران خان کشمیریوں کے مطالبے کے باوجود وہاں ’’بلی‘‘ بھیجنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے‘ تو پھر کشمیر کو آزادی ملے گی کیسے؟ یا کہہ دو کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ نہیں ہے‘ تسلیم  کرلو کہ ہمیں ’’زندگی‘‘ کی محبت نے ’’موت‘‘ کے خوف میں مبتلا کرکے جہاد کی عبادت سے دور کر ڈالا‘ یہ کہنا بہت آسان ہے کہ ہم اخلاقی اور سفارتی سطح پر مدد کرتے رہیں گے‘ جب سید علی گیلانی خط میں بھارت کے ساتھ تمام معاہدوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے عمران خان حکومت نے سید علی گیلانی کے اس مطالبے پر اب تک کیا پیش رفت کی؟
’’ہم امن چاہتے ہیں‘ امن چاہتے ہیں‘‘ بندہ خدا! کون سا امن؟ ہندو جرنیل کشمیری خواتین کی عصمت دری کی باتیں کر رہے ہیں اور  آپ ہمیں امن کی لوریاں سنا رہے ہیں‘ جناب وزیراعظم بس کر دیں بس! قوم کو کہانیاں مت سنائیں‘ سبز باغ مت دکھائیں‘ بلکہ کشمیر کی آزادی کیسے ہوگی‘ وہاں کے بچوں‘ بوڑھوں‘ عورتوں‘ مردوں کو تحفظ کیسے ملے گا؟ اس حوالے سے وہ قوم کو اعتماد میں لیں۔