08:52 am
مودی کا صرف ایک ہی فلسفہ پاکستان اور اسلام دشمنی 

مودی کا صرف ایک ہی فلسفہ پاکستان اور اسلام دشمنی 

08:52 am

بھارت کا انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی 7 سال کی عمر سے گجرات (احمد آباد) میں چائے فروخت کیا کرتا تھا جس کا باپ بھی چائے کا ایک کھوکھا لگا کر بس اسٹاپ کے قریب چائے بیچتا تھا مودی بچپن ہی سے آر ایس ایس میں شامل ہو گیا تھا اور آر ایس ایس کے منتظم اس کو بہت پسند کرتے تھے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ سخت گیر لہجے میں مسلمانوں کے خلاف بات کرتا تھا ۔ آر ایس ایس کو ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت تھی جو مسلمانوں کے خلاف سختی کر کے بھارت کو ایک ہندو ملک بنانے میںمدد دے سکیں۔ بھارت کے اندرونی معاملات پر توجہ دینے کی بجائے پاکستان کے اندر اپنے زر خرید ایجنٹوں کے ذریعے مداخلت کر رہا ہے افغانستان بھی اس کا بہت بڑا حامی ہے ۔ مودی کی پاکستان اور مسلمان دشمنی اب کھل کر سامنے آگئی ہے ۔
 اس وقت بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو دنیا بھر سے جدید اسلحہ خرید رہا ہے تاکہ اس اسلحے کے زور سے وہ پاکستان کو زیر کر سکے یا پھر اپنی مادی قوت کا رعب ڈال سکے لیکن حقائق بتا رہے ہیں کہ وہ ان دونوں صورتوں میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا مزید براں نریندر مودی کی سربراہی میں بھارت ایک ہندو انتہا پسند ملک بنتا جا رہا ہے جہاں اقلیتوں کو ہر لمحہ ہراساں اور خوفزدہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ڈر کی وجہ سے اپنا مذہب ترک کر کے ہندو مذہب اختیار کر لیں ( گھر واپسی کا نعرہ ) لیکن اس میں بھی وہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا مسلمان انتہا پسند تنظیموں کی تمام تر زیادتیوں کے باوجود اپنے دین پر قائم ہیں اور ان کا ایمان مضبوط ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی مسلمان دشمنی پالیسی کی وجہ سے وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانیت کے حوالے سے حالات دگر گوں ہوتے جارہے ہیں 105دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے کشمیری مسلمان ایک اذیت ناک زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں ساری دنیا چیخ چیخ کر نریندر مودی سے مطالبہ کر رہی ہے کہ فی الفور کرفیو اٹھایا جائے خود بھارت کے ممتاز صحافی اور دانشور بھی بھارت کی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انسانیت کے ناطے کرفیو اٹھایا جائے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کی مرضی کے تحت زندگی گزارنے دی جائے لیکن فاشسٹ مودی کا اس جائز اور انسانی ہمدردی پر مبنی مطالبے کا کوئی اثر نہیں ہو پا رہا ہے وہ جن جن ملکوں میں دورہ کرتا ہے وہاں وہ پاکستان کے خلاف بات کرنے سے باز نہیں آتا اس کا پاکستان کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کرنے کا مقصد ماسوائے اس کے اور کچھ نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا ء کو مسلسل سیاسی تنائو اور کشیدگی میں رکھا جائے تاکہ آئندہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے میں آسانی پیدا ہو سکے ، حالانکہ اس کو معلوم ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں اس وقت خود بھارت کی اکانومی زوال پذیر ہے شرح نمو 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے سرمایہ کاری تقریباً رک چکی ہے 70 فیصدسے زیادہ آبادی مہنگائی کے ساتھ ساتھ بدترین غربت اور محرومی کا شکار ہے ۔
بھارت کی اقتصادی ترقی کا وہ خواب نریندر مودی نے 2018ء کے عام انتخابات میں دکھایا تھا وہ مسمار ہو گیا ہے اس پس منظر میں چین اور امریکہ بھارت کو اشارے کنائے میں مسلسل کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے چاہئے تاکہ جنوبی ایشیا ء میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زیادہ عوام کی کئی زندگیوں میں معاشی خوشحالی کے آثار پیدا ہو سکیں لیکن نریندر مودی کو یہ نصیحتیں اور تجاویز بھی پسند نہیں ہیں وہ ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں وہ اس پورے خطے کے لئے بربادی اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے چنانچہ باخبر صحافیوں کا یہ کہنا صحیح ہے کہ جنوبی ایشیا ء میں اس غیر تسلی بخش صورت حال کی ذمہ داری نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے جو دھرم کی بنیاد پر بھارت کو ایک انتہا پسند ہندو ملک بنانے کا تہیہ کر چکا ہے اس کے بر عکس  بھارت کا آئین سیکولر ہے جس کے مطابق تمام اقلیتوں کو ان کے مذاہب اور تہذیب کی بنیاد پر پر امن زندگی گزارنے کا معاہدہ کیا گیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ 1947ء کی آزادی کے بعد سے 2014ء تک بھارت سیکولر ازم کے راستے پر گامزن تھا لیکن فاشسٹ مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد اس نظرئیے کو یعنی سیکولر ازم کو ختم کر دیا ہے اس ضمن میں امریکہ سے متعلق یہ بات کہنا ضروری ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات ہونے کے باوجود بھی اس کی پالیسیوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے۔
 بھارت نے امریکہ کو فوجی نقطہ نظر سے ہر قسم کی سہولتیں مہیا کی ہوئی ہیں اگر امریکہ چاہے تو وہ بھارت پر دبائو ڈا ل کر پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کرانے میں بھارت کو مجبور کر سکتا ہے دنیا کے بڑے بڑے اخبارات بھی نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ امن کی خوبصورت صبح و ا ہو سکے ان اخبارات میں جو ادارئیے شائع ہو رہے ہیں اس میں پاکستان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی تکلیفوں پر نریندر مودی پر لعنت و ملامت کی گئی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی سطح پر مودی کے خلاف ہونے والی تنقید ، تبصرہ اور لعنت ملامت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کا رزق اور روزگار تنگ کیا جا رہا ہے ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک رواں رکھا جارہا ہے مزید براں نریندر مودی نے 31اکتوبر کی رات کی تاریکی میں مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے جنوبی ایشیاء کی سیاسی صورتحال کو مزید خراب کیا ہے اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے چین اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی بھارتی چال کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تقسیم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے جس کو فی الفور واپس لینا چاہئے دوسری طرف مقبوضہ کشمیر سے متعلق نریندر مودی کے روئیے سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ عالمی کمیونٹی مودی پر وہ دبائو نہیں ڈال رہی ہے جو اسے ڈالنا چاہئے تاکہ یہ انسانی مسئلہ حل ہو سکے یہی وجہ ہے کہ فاشسٹ مودی شیر ہو کر کشمیر اور پاکستان کے خلاف جار حانہ طرز اختیار کر کے جنوبی ایشیاء میں ایک سامراجی ایجنڈے کے مطابق جنگ کا عندیہ دے رہا ہے پاکستان کے باشعور عوام نریندر مودی کے عفریتی سوچ سے بخوبی واقف ہے اور اپنے پیارے وطن کے تحفظ اور دفاع کے لئے افوا ج پاکستان کے ساتھ مل کر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں یہ بات اقوام متحدہ سمیت عالمی کمیونٹی کو معلوم ہونی چاہئے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا ہے وہ ڈائیلاگ کے ذریعے تمام متنازعہ مسائل حل کرنے کے لئے نا صرف تیار ہے بلکہ زور بھی دے رہا ہے جس کا معقول و مناسب جواب بھارت کی طرف سے نہیں آرہا ہے بلکہ بھارت لائن آف کنٹرول پر مسلسل گولہ باری کر کے حالات کو بگاڑ رہا ہے تاکہ جنگ جیسے حالات پیدا ہو سکیں اس صورت حال کے پیش نظر دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں امن کی خواہش رکھنے کے باوجود ایک انجانے خوف میں مبتلاہیںاور انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ فاشسٹ مودی آئندہ اپنی منفی سوچ کی روشنی میں اس خطے میں کیا گل کھلائے گا ، ذرا سوچئے۔