08:53 am
شریف سیاست، آزادی مارچ، یکساں انجام

شریف سیاست، آزادی مارچ، یکساں انجام

08:53 am

٭نوازشریف: ایک وطن کے گھر سے دوسرے وطن کے گھر تک، بیچ میں کوئی ہسپتال نہ آیاO طیارے میں سوار ہوتے ہی صحت ٹھیک ہو گئی، پلیٹ لیٹس بڑھ گئے O آزادی مارچ، بی پلان بھی بے نتیجہ ختم!O نوازشریف کا علاج خفیہ رہے گا، حسین نواز…کوئی پیچیدگی پیدا نہیںہوئی، مریم اورنگزیب۔
٭اندرون ملک اک رام کہانی ختم ہوئی، لندن کی بالاتر رنگین فضائوں میں نئی داستانیں شروع! لاہور کے جاتی عمرا کے گھر سے نہائت ’تشویش ناک‘ حالت میں روانہ ہونے والے مسافر کے پلیٹ لیٹس (خون کے خلیے)24 ہزار تھے، طیارے میں سفر ممکن نہیں تھا مگر طیارے میں داخل ہوتے ہی پلیٹ لیٹس 45 ہزار تک پہنچ گئے، ڈاکٹرو ںنے سفر کی اجازت دے دی۔ شہبازشریف ساتھ تھے۔ ہوائی اڈے سے دس بج کر 26 منٹ پر روانہ ہونے والا قطر کا شاہی ایمبولینس طیارہ (بالکل مفت) 12 گھنٹے بعد ساڑھے دس بجے رات لندن پہنچا۔ لاہور سے لندن کا عام سفر سات گھنٹے کا ہوتا ہے۔ اس کا راستہ ایران، ترکی اور جرمنی کی فضائوں سے گزرتا ہے مگر ایمبولنس طیارے کا رخ بائیں طرف بہت دور قطر کی طرف موڑ دیا گیا۔ جہاں تقریباً دو گھنٹے آرام کیا، اہم ملاقاتیں ہوئیں طیارہ پھر روانہ ہوا۔ لندن کے ہوائی اڈے پر بڑا بیٹا حسین نواز موجود نہیں تھا، دبئی سے بعد میں آیا (دبئی میں کیا کر رہا تھا؟) چھوٹے بیٹے حسن نواز اور سلمان شہباز نے اپنے اپنے باپ کا خیر مقدم کیا۔ خبریں چلتی رہیںکہ حالت بہت خراب ہے، ہوائی اڈے سے سیدھا ہسپتال پہنچایا جائے گا۔ مگر ہسپتال کی بجائے سیدھا حسن نواز کے گھر پہنچایا گیا۔ صحت ٹھیک تھی، خون کے خلیے بڑھ چکے تھے، لندن کی آزاد فضا، گھر کے باہر زندہ باد کے نعرے، اب ہسپتال جا کر کیا کرنا تھا جبکہ ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا بیان بھی آ گیا کہ سفر میں اول سے آخر تک کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی (پیچیدگی ہوتی تو پیدا ہوتی!) الف لیلہ کی اس داستان کو مختصر کر رہا ہوں۔ صرف چند نظر طلب باتیں!
ایک بات تو یہ کہ جیسا لکھ چکا ہوں، اب غیر معینہ طویل عرصے تک سات سال جاری قید کا ’مجرم‘ لندن کی آزاد فضائوں سے واپس نہیں آئے گا۔ 70 سال عمر، بہت سی بیماریاں طویل علاج چاہتی ہیں، ’اپنے‘ ڈاکٹروں کی سفارشی رپورٹیں آتی رہیں گی، ضمانت میں توسیع ہوتی رہے گی، توسیع نہ بھی ہو تو کیسے واپس لایا جا سکے گا؟ پرویز مشرف، اسحاق ڈار، حسین حقانی، مفرور اشتہاری مجرم قرار پا گئے، بلا ضمانت وارنٹ، ریڈ وارنٹ، انٹرپول! کوئی واپس آیا؟ اور بیماریاں! بڑا بیٹا حسین نواز کہہ رہا ہے کہ بیماری اور علاج خفیہ رکھا جائے گا! خفیہ کیوں؟ کوئی بیماری ہے تو سامنے آئے! خفیہ رکھنے کی وجہ؟ ’صحت‘ تو طیارہ میں سوار ہوتے ہی ٹھیک ہو گئی تھی۔ اور ایسا عجیب کیس کہ اپوزیشن، حکومت، عدالت اور گھر والے سب خوش! گھر والے خوش کہ جیل سے جان بچ گئی، عدالت خوش کہ دونوں فریق مطمئن ہو گئے، حکومت خوش کہ روز کی چخ چخ سے جان چھوٹی!! باغبان بھی خوش، صیاد بھی خوش! ہاں ایک مسئلہ کہ ن لیگ کے رہبر نوازشریف، صدر شہباز شریف دونوں غیر معینہ عرصے تک ملک سے باہر! ن لیگ اک دم خالی ہو گئی! جانے سے پہلے شہباز شریف نے صدارت کا حکم خواجہ آصف کو پکڑا دیا! فردوس عاشق اعوان کے کٹڑ روائتی حریف خواجہ آصف کو تھما دیا۔ اب فردوس عاشق  اعوان کو خواجہ آصف کے احکام کی پیروی کرنا ہو گی، تعریفی بیانات جاری کرنا ہوں گے!! سیاست!
٭کچھ باتیں حکومت کی! ملک کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے کہ اس کا ہر رکن الگ الگ ڈفلی بجا رہا ہے! وزیراعظم جو کچھ کہتا ہے، وزرا اس کی ہنسی اڑانے لگتے ہیں۔ وزیراعظم نے نوازشریف کے باہر جانے کی حمائت کی اور اجازت دے دی۔ اس پر خود بخود حکومت کے ’رہبر‘ فواد چودھری نے ڈانٹا کہ کیوں اجازت دی! ان صاحب کی سیاست کا اونٹ کسی کروٹ دَم ہی نہیں  لیتا۔ فردوس عاشق اعوان کا وجود ایک آنکھ نہیںبھاتا۔ وہ جو کچھ کہتی ہے اس کی تردید ضروری ہوتی ہے مگر اپنے علم کا معیار یہ کہ نوازشریف کو ہوائی اڈے کی خصوصی لفٹ کے ذریعے ایئر ایمبولینس کے گیٹ تک پہنچایا گیا اور فواد چودھری نے بیان دینا ضروری سمجھا کہ نوازشریف بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر طیارے میں گئے!! حیرت ہے یہ صاحب ملک کے وزیراطلاعات رہے!
٭اسلام آباد میں 13 دن کا آزادی دھرنا اور پھر کچھ سڑکوں پر ذیلی علامتی دھرنے! سب ختم! کوئی نتیجہ ہاتھ نہ آیا۔ دھمکی دی تھی کہ عمران خان دو دنوں کے اندر وزیراعظم کے عہدے سے استعفا دے ورنہ!! وہی پرانا قصہ کہ ملازم نے مالک سے کہا ’’میری تنخواہ برھائو ورنہ!‘‘ مالک نے گھور کر پوچھا، ’’ورنہ کیا؟‘‘ ملازم نے ہاتھ جوڑ دیئے کہ ورنہ یہی تنخواہ ٹھیک ہے! 13 دنوں کے بعد اسلام آباد میں 70 ٹن کچرے چھوڑ کر چل دیئے پھر چند بڑی سڑکوں پر دھرنے دے کر لاکھوں کروڑوں شہریوں کی آمد ورفت اور سبڑیوں، دودھ وغیرہ کی سپلائی روک دی۔ میں نے ٹیلی ویژن پر راستہ مانگنے والے ایک بزرگ شہری کی سخت پٹائی دیکھی۔ یہ حربہ بھی بے کار گیا، کچھ حاصل نہ ہوا، اتحادی ساتھی ناراض ہو گئے، بلاول نے مذمت کر دی، ن لیگ باہر چلی گئی، اوپر سے سائبیریا کی سرد برفانی ہوائیں آ گئیں۔ دھرنے ان ہوائوں کے ساتھ اڑ گئے۔ سڑکوں پر پتھروں کے ڈھیر چھوڑ گئے! کیا اس پارٹی میں کوئی ایسا سیانا، مدبر شخص نہیں تھا جو سمجھاتا کہ تمہاری لڑائی حکومت کے ساتھ ہے، لڑتے رہو، عوام پر تشدد کیوں کر رہے ہو؟ عوام نے کیا بگاڑا ہے جو سڑکیں بند کر کے ان سے انتقام لے رہے ہو! 
٭جے یو آئی کے کچھ سنجیدہ قارئین نے مجھ سے اہم اور درست سوال کیا ہے کہ یہ جو عمران خان بار بار مولانا کے خلاف ڈیزل کے پرمٹوں کی باتیں کرتا ہے اور یہ جو میں کشمیر کمیٹی کے دس برسوں میںملنے والے تقریباً 50 کروڑ روپے کا ذکر کرتا ہوں، حکومت ان چیزوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیوں نہیں کراتی تا کہ سارے الزامات اور ان کی اصل صورت حال نکھر کر سامنے آ جائے۔ یہ مطالبہ بالکل درست اور جائز ہے مگر وزیراعظم کو کون سمجھائے جو ابھی تک انتخابی دھرنے والے کنٹینر پر کھڑے انتخابی تقریریں کئے جا رہے ہیں؟
٭مقبوضہ کشمیر:80 لاکھ کشمیری قیدیوں پر لاگو کرفیو کے 109 دن گزر گئے، مودی نام کے سفاک ہلاکو خاں کے مسلم کش رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گزشتہ روز بھارتی فوج نے مزید دو کشمیری نوجوان شہید کر دیئے!
٭نیب کے چیئرمین نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے نیب آفس کا کام سب سے بہتر ہے۔ ٹھیک ہی تو ہے کہ ایک سابق صدر اور چار سابق وزرائے اعظم (نواز شریف، یوسف گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی) کو قابو کر رکھا ہے۔ آصف زرداری رہائش کراچی میں عدالت اسلام آباد میں! اطلاع ہے کہ یہ مقدمہ اب کراچی منتقل ہو رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے ایک اور اہم بات کہی ہے کہ ہوا کا رُخ بدل رہا ہے اب حکومت والوں کی باری ہے! ہوا کا رُخ تبدیل ہونے پر دہلی میں مقام شاعر مغیث الدین فریدی کا شعر یاد آ گیا کہ…
’’تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رُخ ہوا کا بدل رہا ہے
تیری نظر سے بہکنے والا فریب کھا کر سنبھل رہا ہے‘‘
اسی موضوع پرمیری ایک غزل کا ایک شعر
زمیں کے تیور بتا رہے ہیں، ہوا کا لہجہ بدل رہا ہے
صدائے انساں لرز رہی ہے، خدا کا لہجہ بدل رہا ہے
٭قارئین محترم! شادباغ لاہور کی معروف آبادی ہے۔ میں نے فیس بک میں ایک عزیز کو شادباد رہنے کی دُعا کی۔ شادباد کی جگہ شادباغ درج ہو گیا۔ اس عزیز کا پیغام آیا ہے کہ شاد باغ میں اس کے سسرال والے رہتے ہیں، وہ وہاں نہیں رہ سکتا!
٭ فیس بک پر ایک لطیفہ: ’’وہ دن سے میرا خون نہیں اٹھا رہی تھی۔ میں نے دروازے کے باہر جا کر آواز لگا دی۔ ٹماٹر 30 روپے کلو! فوراً بھاگی آئی…!