08:16 am
کیاواقعی تبدیلی کی ہوا چل پڑی

کیاواقعی تبدیلی کی ہوا چل پڑی

08:16 am

چیئر مین نیب نے تبدیلی کی ہوا چلنے کی نوید سناکر قوم کو آنے والے تازہ ہوا کے جھونکے کااحساس دلادیاہے۔ اللہ کرے کہ وہ اپنے ارادوں  میں کامیاب ہوں ان کی آواز قوم کومایوسی کے حصار سے نکالنے میں مددگاہوسکے ۔ ان کی آواز میں حب الوطنی کی لہک تھی سنے والے سن رہے ہیںچاروں اطراف سے آنے والی متوقع تبدیلی کے بارے میں چرچے شروع ہورہے ہیں۔
ایسا محسوس ہی نہیں ہورہا بلکہ یقین ساہورہاہے کہ کرسی کے نیچے بچھاقالین کسکنے لگا ہے۔ خطرے کی گھنٹی بجنے کو ہے حکمرانوں کے خلاف پہلے ہی کئی مقدمات جوالتوا میں ہیں  شاید انھیں حرکت میں لایا جارہاہو  اس سے بقول چیئر مین نیب یکطرفہ کاروائی کاتاثر زائل ہوجائے گا۔ اس کامقصد ہے سرکار لے پالک مہرے سے مایوس ہوگئی ہے کیونکہ بہت جلد مہرہ اپنی من مانی پراتر آیاہے شاید یہ تاثر بھی ہو کہ مہرہ اپنے آپ کو مملکت کا حقیقی حاکم سمجھنے  لگاہے۔ زبان کے آگے کی خندق کچھ اور گہری ہوگی ہے بلاسوچے سمجھے جوجی میں آئے کہتے چلے جائو ،ملنے والے اقتدار نے آنکھیں ماتھے سے بھی اوپر کردی ہیں اب توایسا محسوس ہورہاہے کہ انھیں دوستوں کی بھیڑمیں بھی دشمن نظرآنے لگے ہیں۔ گزشتہ دنوں میاں نواز شریف کوبیرون ملک جانے میں طرح طرح سے رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود میاں نواز شریف کوروکنے میں حکمران ہونے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکے حالانکہ تابعداری، فرمابرداری کاتقاضا تھا کہ حکم حاکم کے آگے سر تسلیم خم ہی رکھتے۔ ملنے والے اقتدار نے دماغ میں جوگرمی بھردی اسے کیسے نکالتے دشمن وہ بھی میاں نوازشریف کوکیسے معاف کرسکتے تھے کیسے انہیں ملک سے جانے دیتے، مشکل سے یا قسمت سے ہاتھ آئے دشمن کوکیسے ہاتھ سے نکلنے دیتے۔ا پنے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئئے چھٹی کرکے گھر چلے گے پھربھی ان سے برداشت نہیں ہورہا۔ حالانکہ انھیں اس وقت ہی سمجھ جاناچاہے تھا جب شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے کنٹینر سے اپنی تقریر کی اور فورا ًہی سرکادربار میں حاضری دے کر اپنے آپ کو یااپنی جماعت کوسرنڈر کر دیا ہوکہ   مسلم لیگ ن کی کامیابی تو نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن بھی بڑے خوش وخرم نظرآرہے ہیں یقینا انہیں بھی کوئی اہم اور بڑی خوش خبری سنائی  ہوگی تب ہی دھرناادھرادھر کیاگیا۔اب دیکھنا ہے تبدیلی کی ہوا کیا گل کھلاتی ہے۔ سرکاردربار میں شہباز شریف کی حاضری سے ہوا کارخ توتب ہی بدل گیاہوگا اس کی خبر بھی ادھر سے ادھر پہنچ ہی گئی ہوگی لیکن اگر دیکھنے والی  آنکھ سوچنے والاذہن ہوتا اور قوت برداشت ہوتی تو یوں ہوا کارخ نہ بدلتا۔ بقول فواد چوہدری چھٹی والے دن عدالت لگنے کاکیامقصد تھا ظاہر ہے کہ تمہارے پاس سے کہیں بہت اوپر سے آرڈرآیاہوگا وہ اس واقعہ سے اتنے بددل ہوے کے گھر جاکر چھٹی کاتاثردے کر اپنے غصے کو دبانے کی کوشش کی ہوگی جوپھربھی کامیاب نہ ہوسکے۔ اس واقعہ سے بھی سمجھ نہیں آسکی شاید اپنی حکومت اور اقتدار کی قوت نے اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہویامرشد نے یاددلادیاہو کہ  آپ حکمران ہیں باقی سب تو آپ کے ماتحت ہیں انہیں کیسے جرات ہوئی آپ کی مرضی کیخلاف جانے کی۔ تب ہوسکتاہے خان صاحبی جا گی ہواور حکمرانی کے نشے میں کچھ اپنی مقررہ حد سے تجاوز کرگئے ہوں جس سے ہوا کارخ تبدیل ہواہے ورنہ توسب کچھ ٹھیک چل رہاتھا۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری کاشور مچارہے تھے کسی کی کہیں سنوائی نہیں ہورہی تھی۔ شریف فیملی کوسیاست سیاست کھلتے ہوئے ایک عرصہ ہوگیاہے آپ کو توابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اس میدان میں اترے ہوئے۔ وہ بھی آئے نہیں بقول مخالفین کے لائے گئے ہیں۔ پھر سب سے بڑانقصان یہ ہے کہ سیاست میں خان صاحبی نہیں چلتی کچھ پانے کے لئے بہت کچھ کھونا بھی پڑتاہے۔ تبدیلی کی ہوا اگر واقعی چل پڑی ہے تواپنے ساتھ بہت کچھ اڑاکرلے جائے گی پھرشاید ہاتھ ملنے افسوس کرنے کاموقع بھی نہ ملے۔  بہتر ہے قبل اس کے کہ تبدیلی کی ہوا سب کچھ اڑا کررکھ دے اپنی عزت وناموس بچاکر خودہی نکل لیں یامولانا فضل الرحمن کے مطالبے کی آڑ لے لیں توبہتر رہے گا۔
ٹیلی ویژن کے ٹاک شو میں تحریک انصاف کے بانی رکن ایس اکبر اور ان کیساتھ سابقہ سیکرٹری  الیکشن کمیشن کنوردلشاد بھی موجود تھے ان کی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ آجائے تو تحریک انصاف کاوجود تحلیل ہوجائے گا۔ اکبر صاحب کاکہناتھا کے اس قدر ثبوت جمع کرادیئے گئے ہیں کہ ان سے انکار کیاہی نہیں جاسکتا اگر اس کیس کافیصلہ اس ہوا کے چلنے سے پہلے کرالیاجاتا تو بات شاید بن سکتی تھی ایسے موسم میں جب کے تبدیلی کی ہوا واقعی چل پڑی ہے تو مشکلات سے بچ نکلنا مشکل ہوسکتاہے۔  بوٹی کے چکر میں پورے بکرے سے ہی ہاتھ دھونے نہ پڑجائیں گے ۔