08:17 am
نبی رحمت،مبلغِ اعظم ﷺ 

نبی رحمت،مبلغِ اعظم ﷺ 

08:17 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

وہ ہادی جو نہ ہو سکتا تھا غیر اللہ سے خائف، چلا ایک روز مکے سے نکل کر جانب طائف دیا پیغام حق طائف میں، طائف کے رئیسوں کو، دکھائی جنس روحانی کمینوں کو خبیثوں کو۔
 
قلم کانپتا ہے:  افسوس ! ان نادانوں نے حسن اخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور  ﷺ کی پیاری پیاری باتیں سن کر بجائے سر تسلیم خم کرنے کے نہایت ہی سرکشی کا مظاہرہ کیا اور طرح طرح سے بکواس کرنے لگے۔ آہ! ان بد اخلاق سرداروں نے ایسے ایسے گستاخانہ جملے بکے کہ ان کو قلمبند کرنے سے میرا قلم کانپتاہے۔ میرے آقا میٹھے میٹھے مصطفیٰ  ﷺ نے اب بھی ہمت نہ ہاری۔
 دوسرے لوگوں کی طرف تشریف لائے اور انہیں دعوت اسلام پیش کی۔ آہ! صد آہ! سرور کائنات  ﷺ کے پیغام نجات کو کوئی سننے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔ افسوس ! وہ لوگ اپنے عظیم محسن  ﷺ کو دشمن سمجھ بیٹھے اور طرح طرح سے دل آزاریوں پر اتر آئے۔ انہوں نے صرف اول فول بکنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ اوباش لڑکوں کو بھی پیچھے لگا دیا۔ آہ! وہ ظالم نوجوان، میری آنکھوں کے چین رحمت کونین  ﷺ  کے پیچھے پڑ گئے۔ اب تالیاں بجاتے، طرح طرح سے بھبتیاں کستے، پیچھا کرنے لگے۔ یکا یک ان ظالموں نے پتھر اٹھا لئے اور دیکھتے ہی دیکھتے …… آہ! آہ! صد ہزار آہ! میرے آقا … میرے میٹھے میٹھے آقا ﷺ کے جسم مبارک پر سنگباری شروع کر دی۔ نجانے چشم فلک نے یہ خونیں منظر کیسے دیکھا ہو گا؟ آہ! جسم نازنین پتھروں سے زخمی ہو گیا، اور اسقدر خون شریف بہا کہ نعلین مبارکین خون سے بھر گئیں۔ جب آپ  ﷺ بے قرار ہو کر بیٹھ جاتے تو کفار جفا کار بازو تھام کر اٹھا دیتے۔ جب پھر چلنے لگے تو دوبارہ پتھر برساتے اور ساتھ ساتھ ہنستے جاتے۔
پہاڑوں کا فرشتہ:  حضرت سیدنا جبرئیل علیہ اسلام ملک الجبال (یعنی پہاڑوں پر موکل فرشتہ) کو لیکر آپ  ﷺ کی خدمت سراپا عظمت میں حاضر ہوئے۔ ملک الجبال نے آپ  ﷺکی بارگاہ اقدس میں سلام عرض کر کے درخواست کی، اگر آپ  ﷺ حکم فرمائیں تو دونوں طرف کے پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں تاکہ یہ ساری قوم اس میں کچل کر ہلاک ہو جائے۔ رحمتہ اللعالمین نے جواباً ارشاد فرمایا،  ’’میں اللہ عز و جل کی ذات پاک سے پر امید ہوں کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو ان کی اولاد میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے۔ جو اللہ عز و جل کی عبادت کریں گے‘‘۔
 اے عشق رسول  ﷺکا دم بھرنے والو! ’’مدینہ مدینہ‘‘ کرنے والو! کیا اس کا نام عشق رسول ہے کہ پیارے رسول  ﷺ تو کانٹوں پر چل کر بھی اسلام کی تبلیغ کریں اور ہم قالینوں پر بیٹھ کر بھی تبلیغ نہ کر پائیں۔ اللہ عز و جل کے حبیب  ﷺ فاقوں کے سبب پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی اسلام کی تبلیغ فرمائیں اور ہم شکم سیری کے باوجود بھی کچھ نہ کر پائیں۔ کیا محبت رسول  ﷺ اسی کا نام ہے کہ میٹھے میٹھے آقا علیہ السلام پتھر کھا کر بھی اسلام کی تبلیغ کا کام بجا لائیں اور ہم پر لوگ پھول نچھاور کریں پھر بھی ہم اس عظیم کام سے جی چرائیں۔ پیارے مصطفیٰ  ﷺ کی دیوانگی کا دم بھرنے والو، مسلمانوں کی خستہ حالی تمہارے سامنے ہے، کیا بے عملی کے سیلاب اور مسجدوں کی ویرانی سے تمہارا دل نہیں جلتا؟ فیشن کی بڑھتی ہوئی یلغار، مغربی تہذیب کی طومار قدم قدم پر نافرمانیوں کی بھر مار، ہائے  مسلمانوں کا بگڑا ہوا کردار! یہ سب باتیں مسلمانوں کی خیر خواہی اور آخرت کی بہتری کے طلبگار کے لئے بے حد کرب و اضطراب کا باعث ہے اور وہ اصلاح مسلمین کے لئے بے قرار ہو جاتا ہے۔ اے کاش ہمیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی اصلاح کا جذبہ نصیب ہو جاتا۔ اگر ہم نے صرف اپنی اصلاح کی فکر کی اور دوسروں کی طرف سے غفلت برتی تو قیامت کے روز ندامت اٹھانی پڑے گی۔ حدیث پاک میں آتا ہے’’ جس قوم میں گناہ ہوتے ہیں اور نیک لوگ بدلنے پر قدرت رکھتے ہیں پھر بھی نہ بدلیں تو قریب ہے کہ اللہ عز و جل سب پر عذاب بھیجے‘‘۔  (ابو دائود)
تبلیغ کے لئے سفر کرنا سنت ہے:  یقینا یہ سب جانتے ہیں کہ دین کی تبلیغ کرنا اور اس کے لئے گھر سے نکلنا اور سفر اختیار کرنا اس راہ میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنا یہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا علیہ السلام کی پیاری پیاری سنت ہے۔
اے کاش ہم پر بھی کرم ہو جائے اور ہم بھی اس سنت پر عمل کرنے والے بن جائیں اور تبلیغ و صلوٰۃ و سنت کی خاطر گھر سے نکلنا، سفر اختیار کرنا اور اس کی تمام تر سختیوں پر صبر کرنا سیکھ لیں۔ دنیا کے کام دھندوں کے لئے برسوں گھر سے دور رہنے کے لئے تیار ہونے والوں کیا اللہ عز و جل کے دین کی سربلندی کے لئے چند روز کی بھی قربانی نہیں دو گے۔ آپ بھی آقا علیہ السلام کی راہ تبلیغ دین میں پیش کی جانے والی قربانیوں کے صدقے مدنی قافلوں کے مسافر بن کر آقا علیہ السلام کی اس عظیم الشان سنت پر عمل پیرا ہوں۔