08:22 am
وزیراعظم کو چیف جسٹس کا جواب

وزیراعظم کو چیف جسٹس کا جواب

08:22 am

٭نیب کے چیئرمین کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ہاتھوں وزیراعظم کی سخت سرزنش!O چیف جسٹس کا واضح ’اشارہ‘ ’’دووزرائے اعظم کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں‘‘ O وزیراعظم نے نوازشریف کے ساتھ این آر او کیا ہے۔ اعتزازاحسن O ن لیگ، پیپلزپارٹی کو غیر ملکی امداد کی تحقیقات شروعO لاہور: سموگ پھر خطرناک ہو گئی، اینٹوں کے بھٹے بندO آصف زرداری، بلڈ پریشر بڑھ گیاO فردوس عاشق اعوان، توہین عدالت کا تیسرا کیس۔
٭وزیراعظم اور چیف جسٹس کی باتیں!پتہ نہیں صدر اور وزیراعظم کی کرسیوں میں کیا خاص چیز لگی ہوئی ہے کہ ان عہدوں پر آتے ہی عدالتوں کا وجود ناگوار گزرنے لگتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو مخاطب کر کے جو ہدایات دیں اور چیف جسٹس نے اس پر جو ردعمل دیا، اس کی تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔  اس پر کچھ کہنے سے پہلے سابق وزرائے اعظم کا عدالتوں کے بارے میں رویے کا مختصر جائزہ! ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء میں عہدہ سنبھالنے کے چند ماہ بعد آئین میں 5 ویں ترمیم کے ذریعے ہائی کورٹوں میں رٹ درخواستوں کی سماعت پر پابندی لگا دی۔ بعد میں گرفتار ہونے پر لاہور ہائی کورٹ میں رہائی کے لئے رٹ درخواست دائرکی تو عدالت نے یاد دلایا کہ وہ خود اس ریلیف پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے خلاف عدالتی فیصلہ پر ملک کی عدالتوں کو کنگرو عدالتیں (زیر دبائو عدالتیں) قرار دیا جنہیں ’’چمک‘‘ قابو میں رکھتی ہے۔ نوازشریف نے وزیراعظم بن کر سپریم کورٹ کے خلاف بیان دیا۔ عدالت نے توہین عدالت پر طلب کر لیا تو معذرت کر کے جان چھڑائی۔ انہی کے دور میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا ۔جنرل ضیاء الحق نے متعدد جج فارغ کر دیئے۔ جنرل مشرف نے چیف ایگزیکٹو کے طور پر وزیراعظم کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 جج معطل کر دیئے۔ آصف زرداری کو صدر کا عہدہ ہاتھ آیا تو ججوں کو بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل کیانی نے ڈنڈا پکڑا کر پھیرے لگائے تو چند گھنٹوں میں سارے جج بحال ہو گئے۔ پھر سپریم کورٹ نے طاقت دکھائی۔ ایک وزیراعظم، یوسف رضا گیلانی، فارغ، دوسرے وزیراعظم نوازشریف کو جیل میں بھیج دیا۔ اور اب عمران خاں! وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر محسوس کیا کہ کسی تیسرے چوتھے آسمان پر پہنچ گیا ہوں۔ چیف جسٹس کو حکم نما ہدائت جاری کر دی کہ غریب و امیر کے لئے یکساں کارروائی ہونی چاہئے۔ اس پر چیف جسٹس نے جو سخت جواب دیا اسے نرم الفاظ میں ’ڈانٹ ڈپٹ‘ کہا جا سکتا ہے کہ اپنی حدود میں رہو! یہ عدالت ایک وزیراعظم کو فارغ دوسرے کو سزا دے چکی ہے۔ قارئین کرام! اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا اس جُملے کو موجودہ وزیراعظم کے لئے انتباہ کہا جا سکتا ہے؟ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ وزیراعظم کے گرد بیٹھے حاشیہ برداروں نے وفاداری کا مظاہرہ کر کے چیف جسٹس کو کچھ سنانے کی کوشش کی تو وزیراعظم نے روک دیا کہ جان ہے تو جہان ہے! شائد کسی نے موصوف کو بتا دیا ہو کہ وزیراعظم کے عہدہ کے مقابلے میں عدالتیں کہیں زیادہ طاقت ور ہیں۔ وزیراعظم کسی جج کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتا مگر عدالت کی تحریر کردہ صرف ایک سطر ہی وزیراعظم کو گھر بھیج سکتی ہے۔
٭فاضل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سینئر قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے ملکی تاریخ کا بہترین چیف جسٹس قرار دیا ہے تاہم یہ رائے بھی دی ہے کہ چیف جسٹس کو وزیراعظم کے بیان پر خاموش رہنا چاہئے تھا اور کوئی جواب نہیں دینا چاہئے تھا۔ مجھے اعتزاز احسن کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ عدالتوں کا مقام اور درجہ عام انتظامی اداروں سے کہیں بلند ہے۔ ججوں کو کسی مباحثہ میں نہیں پڑنا چاہئے،  ان کے فیصلے اور کارروائیاں بولتی ہیں۔ مگر پھر وزیراعظم کو کون سمجھائے کہ ہر وقت ہر بات کا تمسخر اڑانا اس منصب کو زیب نہیں دیتا؟ عمران خان کو برسراقتدار آئے ڈیڑھ سال ہونے کو ہے۔ موصوف نے کبھی لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھی، ہمیشہ زبانی تقریر کرتے ہیں۔ وزیراعظم ہائوس میں اعلیٰ عہدوں والے پانچ ’سپیچ رائٹر‘ اسی لئے رکھے گئے ہیں کہ صدر اور وزیراعظم کے لئے محتاط الفاظ والی تقریریں تیار کریں۔ یہ لوگ پچھلے ڈیڑھ برس سے بے کار بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میںبھی زبانی تقریر فرما دی، شکر ہے کوئی گڑ بڑ نہ ہوئی مگر زبانی باتیں کرتے کرتے جاپان اور جرمنی کی سرحدیں ملا دی جائیں تو کیا کہا جا سکتا ہے؟
چیف جسٹس کی باتوں کی تفصیل بہت لمبی ہے صرف دو ایک باتیں کہ ایک سال میں 36 لاکھ مقدمات نمٹائے۔ ان میں صرف تین چار ہی بڑے ناموں والے ہوں گے۔ ایک بات یہ کہ وزیراعظم نے نوازشریف کو خود باہر بھیجا اور اعتراض عدالت پر کیا جا رہا ہے! چلئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭نوازشریف کی لندن روانگی پر بعض اہم باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ روانگی سے پہلے ان کے خون میں 24 ہزار خلیے پائے گئے۔ کہا گیا کہ چہرے پر خون کے دھبے ابھر آئے ہیں؟ اس لئے شیو کرنے سے روک دیا گیا کہ جسم پر معمولی زخم سے بھی پتلا خون بہنے لگتا ہے جو روکا نہیں جا سکتا۔ مگر جیسا چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ نوازشریف تو پوری طرح مکمل شیو کر کے لندن گئے ہیں۔ وہیل چیئر بھی استعمال نہیں کی اور چل کر جہاز میں گئے۔ اعتزاز احسن کے مطابق نوازشریف کے باہر جانے کو ’’این آر او کا باپ ‘‘کہا جا سکتا ہے۔
٭قارئین کرام! ہمارے سیاست دانوں کی باتوں کا کیا اعتبار اور وقار باقی رہ گیا ہے! ماضی میں سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے دلچسپ بات کہی کہ سیاست دان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے منکر ہو جائے۔ اس بارے میں چند مثالیں: عمران خان نے بار بار کہا کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا پھر نوازشریف کے معاملہ میں سمجھوتہ کر کے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ مولانا فضل الرحمان نے دو ٹوک اعلان کیا کہ عمران خاں سے استعفا لئے بغیر واپس نہیں جائیں گے، اور 13 دنوں کے بعد استعفا لئے بغیر واپس چلے آئے۔ نوازشریف نے کہا کہ باہر جانے کے لئے کوئی شرط قبول نہیں کروں گا، اگلے ہی روز شرائط سے بھرپور حلف نامے پر دستخط کر دیئے اور باہر چلے گئے! بہت سی اور بھی مثالیں ہیں۔ اس رویے کو غالباً منافقت کہا جاتا ہے!
٭ کابینہ کی تعداد بڑھ گئی۔ دو نئے وزیر آئے گئے۔بے چاری لاعلم معاون خصوصی برائے اطلاعات! اعلان کیا کہ خسرو بختیار کو پٹرولیم کی وزارت دی جا رہی ہے اور اعلان خوراک کی وزارت کا ہو گیا! ویسے وزارتوں کا نوٹیفکیشن آنے سے پہلے اس اعلان کی کیا ضرورت تھی؟ اس بارے میں اُردو کا ایک محاورہ کافی ہے کہ ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ اب ذرا کابینہ کا نیا منظر نامہ: 25 وزرا، چار وزرائے مملکت، پانچ مشیر، 15 معاونین خصوصی! کل تعداد 49 جو دراصل 50 تھی مگر ایک معاون خصوصی برائے میڈیا یوسف بیگ نے یہ کہہ کر استعفا دے دیا کہ وہاں کوئی کام ہی نہیں تھا، سب کچھ تو ایک خاتون نے سنبھال رکھا ہے۔ اور اس خاتون کا عالم! کہ توہین عدالت کے دو کیس بھگت چکی ہے۔ غیر مشروط معافیاں! اور اس کالم کی تحریر کے وقت توہین عدالت کے تیسرے مقدمے میں غیر مشروط معافی کے ساتھ عدالت میں جا رہی تھی! یہ بی بی بھی اپنے وزیراعظم کی طرح رکے بغیر بولتی چلی جاتی ہے، بیچ میں کوئی کوما نہ فُل سٹاپ!
٭لاہور میں ہرطرف دھند پھیل گئی، سموگ میں پھر بہت اضافہ ہو گیا۔ مقدار پانچ سودرجے سے اوپر چلی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ ماحولیات کو فوری اقدام کی ہدائت کی۔ حکام نے عرض کیا کہ حضور کوشش کر تو رہے ہیں۔ پھر پرانا لطیفہ یاد آ گیا کہ شیر مر گیا تو جنگل کے جانوروں نے عارضی طور پر بندر کو بادشاہ بنا لیا۔ دوسرے روز جانور بندر کے پاس آئے کہ دوسرے جنگل والوں نے حملہ کر دیا ہے، فوراً کچھ کریں۔ بندر پاس اُگے ہوئے بانس پر چڑھ گیا۔ نیچے اترا، پھر چڑھ گیا، پھر نیچے آیا۔ جانوروں نے کہا کہ حضور دشمن سر پر آ گیا ہے آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ بندر نے کہا کہ کوشش کر تو رہا ہوں اور کیا کروں؟