07:34 am
’’کسی کونہیں چھوڑوں گا‘‘

’’کسی کونہیں چھوڑوں گا‘‘

07:34 am

بہت دکھ جھیلے ہم نے،بہت دردسہے ہم نے، خون ہی خون اورآگ کاکھیل،بارود کی بو،شعلہ اگلتی ،انسانی خون چاٹتی بے حس بندوقیں ،آٹادستیاب نہ خوردنی تیل پٹرول چلئے رہنے دیجئے بھوک کے ستائے ہوئے معصوم انسانوں کی خودکشیاں، بیروز گارنوجوانوں کے مدقوق چہرے، گھروں میں جہیزنہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی  ہوجانے والی لڑکیاں،سرمایہ داروں کی چکی میں پستا ہوامزدور،سڑکوں پرکھلے عام لوٹ مار، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، معصوم بچیوں کی اجتماعی آبروریزی، پھول جیسے معصوم بچوں کواپنی بھوک کی بھینٹ چڑھانے والے درندے،آئین کاقتل،قانون وانصاف کاقتل، انسانیت کاقتل۔قاتلوں، دہشت گردوں کاراج، پورے سماج کو یرغمال بنانے والے سفاکوں کاٹولہ خاک ہی خاک،خون ہی خون زباں بندی کافرمان ، بے آسرابندگان خدااوران کاخون چوسنے والی جونکیں، جودن بدن فربہ ہوتی رہتی ہیں۔گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں زندگی وموت کا رقص بسمل،سسکیاں،ہچکیاں، چیخیں، ماتم،گریہ اورشام غریباں۔ یہ ہے تبدیلی؟ ایسے  بنے گی مدینے کی ریاست؟
ہرآنے والانئے سازپرنیاراگ الاپتاہے۔ ہم دیوانوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں اور پھر وہی دھتکار،مایوسی اور شکستگی،ابلیس کھڑا مسکراتاہے۔ ایسے حالات میں کوئی چھوٹی سی بھی خبرخوشی کی خبر،مسرت  کالمحہ سامنے آئے توجی بے اختیار کھل اٹھتاہے۔ ہاتھ فضامیں بلندہوتے ہیں اور بے خودی میں رقص کرنے لگتاہے بندہ بشیر۔
موٹروے کاافتتاح مگرخطاب اپوزیشن لیڈر جیسا، اشتہارات منہ چڑارہے تھے۔’’اب راج کرے گی خلق خدااورجوکچھ ہوگا،آپ کے مطابق، میرے مطابق اور خلق خدا کے مطابق ‘‘ کیاخوب اورپرفریب نعرہ۔ بہت پرامیداورخوش کن الفاظ سے مزین ہے یہ بینر۔ اچھا! توآگیاہے وہ سہانا وقت اب دل کی ویرانی شگفتگی میں بدلے گی،خواب تعبیر پائیں گے، دل مردہ پھرسے جی اٹھے گا۔ مسرت رقص کناں ہوگی، نسیم صبح مژدہ جاں فزاہوگی،قہقہے گونجیں گے،خوشحالی کے پھول کھلیں گے، کلیاں چٹکیں گی،دکھ ختم ہو جائیں گے،درددور ہوجائے گا،ہربشرامان پائے گا،دل  کی مرادبرآئے گی،نغمہ دل ربا سماعتوں میں رس گھولے گا، چین وآرام، سکون ہی سکون۔ ہاں ایساہوگا؟کیاواقعی خلق خداراج کرے گی؟
اگریہ لفظوں کی حدتک ہے توپھرہم عادی ہیں۔ سنتے رہتے ہیں اورلگتایونہی ہے کہ بس کچھ دیرکیلئے بھولنے کی کوشش ایام تلخ،جیسے تھیٹر میں ڈراما، سینمامیں فلم،ہم کچھ دیرکے لئے کھو جاتے ہیں،اس میں حقیقت کہاں بدلتی ہے۔سینما کے یخ بستہ ہال سے باہر نکلتے ہی لوکے تھپیڑے حقیقت منہ چڑاتی ہے۔ اشتہارسچ بولتے ہیں؟ ہوسکتا ہے آپ کومجھ سے اختلاف ہو، ضرور کیجئے یہ آپ کاحق ہے لیکن میراتجربہ ہے اشتہار صرف راغب کرنے کانام ہے۔دعوی لاکھ سہی،حقائق کچھ اورہیں۔’’جیسے چاہو جیو‘‘جی نہیں سکتے‘‘زندگی ہے مست‘‘کون سی زندگی‘‘ ناچوگائو جھومو کیسے‘‘ ہم آپ کیلئے چشم براہ ہیں‘‘کیا واقعی!بس اسی طرح کا فریب بجٹ میں، ان قیمتوں کااثرغریبوں پرنہیں ہوگایاہر سرمایہ دارمجسم عاجزبن کرکہتاہے‘‘ہم نے اپنی مصنوعات  میں عوام کاخیال رکھاہے‘‘کبھی ہوا ہے  بھلاایسا۔
بس اشتہارات کی دنیا۔راغب کرنے کادھندا اور اسپانسر کویہ کہہ کر زیادہ پیسے بٹورنے کاکاروبار’’سب سے زیادہ دیکھاجاتاہے ہمارایہ پروگرام۔‘‘بس یہی ہے،یہ جوہمارے گھرمیں ایک ڈبے نے جسے ہم ٹی وی کہتے ہیں،ہمیں غلام بنارکھاہے۔جی جناب! آگہی کے لئے سب سے موثرذریعہ۔ بجاارشاد فرمایا، لیکن بس بحث،تسلی،دلاسہ ایک آسرابس اورکچھ نہیں کیا۔ فلاحی ریاست پربحث کرنے سے بنتی ہے فلاحی ریاست؟ کیا صرف یہ کہہ دینے سے کہ ’’اب راج  کرے گی خلق خدا‘‘ واقعی راج کرنے لگتی ہے خلق خدا؟یہ توہم گزشتہ 72برسوں سے سن رہے ہیں۔اقبال بانو نے بہت خوبصورت گایاہے۔کب بدلی تقدیر،ایک آیا،دوسرآیا، سب کے سب دعوے داراورپھروہی ٹائیں ٹائیں فش۔
یہ بحث مباحثے کسی بھوکے کاپیٹ بھرتے ہیں؟ کسی برہنہ کاتن ڈھانپتے ہیں؟بتائیے ناں آپ،بس سرمایہ داروں کی تجوریاں بھرتی رہتی ہیں۔بھوکے خود کشیاں کرتے رہتے ہیں اورٹی وی کاپیٹ مرتے مرتے بھی بھرجاتے ہیں ایک نئی خبر،پھرایک نئی بحث۔ معاشی پالیسیاں وہی رہیں گی،خارجہ پالیسی وہی رہے گی، تو یارو پھرکیا بدلا!آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، قانون سازی توآپ نے کرنی ہے جس سے امیرو غریب کافرق ختم ہوگا۔آپ کے ناک کے نیچے سے میاں برادران ویسے ہی ملک سے رخصت ہوگئے جس طرح ان کے دورِحکومت میں پرویز مشرف،جبکہ عدلیہ کوانصاف کیلئے تمام وسائل مہیاکرنے کاوعدہ کیا گیا تھا۔ 
چلئےاچھاہے،کچھ لوگوں کاتوپیٹ بھرتاہے ناں، ان کے اثرورسوخ میں تواضافہ ہوتاہے ناں۔ وہ توہیروبنتے ہیں ناں۔چلیے کسی کاتوبھلا ہو۔ کر بھلا توہوبھلا۔’’اب راج کرے گی خلق خدا‘‘.
کب ہوش میں آئیں گے ہم،آخر کب۔چلئے بہت،کرلی میں نے۔لگے رہوبھائی کچھ بھی تونہیں رہے گا،بس نام رہے گا اللہ کا۔
یہ دیکھئے آدھی رات گزرگئی ہے۔اس وقت ہم سب کے برادر بزرگ خواجہ رضی حیدرکہاں سے آگئے۔
سوال کرتے ہیں شاخوں سے کشتگانِ خزاں
کبھی بہاربھی آتی ہے درمیانِ خزاں
بس ایک ہجر سے آمیزہوگیاہے وصال 
یہاں توموسم گل بھی ہے داستانِ خزاں
یہ کیاکہ آنکھ بہاروں کی آرزوسے نہال 
یہ کیاکہ روح میں آبادہے مکانِ خزاں