07:35 am
 اقبالؒ کی نگاہ ِ دوربیں 

 اقبالؒ کی نگاہ ِ دوربیں 

07:35 am

 خطے میں جنگ کے بادل چھائے ہیں ۔ ازلی دشمن کشمیر  نگلنے کے ساتھ افغانستان کے راستے پاکستان کے پہلو پر وار کرنا چاہتا ہے۔  ایران میں خونی  احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جن کے پیچھے واشنگٹن کا ہاتھ ہونا خارج ازامکان نہیں ۔  پاکستان لاتعلق نہیں بیٹھ سکتا ۔ سیستان اور ایرانی بلوچستان جیسے پیچیدہ معاملات سے علاقائی تنازعوں کی آگ بھڑکا کر امریکہ بہادر پاک ایران  دو طرفہ تعلقات کو بھسم کر سکتا ہے کیونکہ دونوں فریق  انکل سام کی آنکھ میں کانٹا بن کے کھٹکتے ہیں ۔ پاک سپہ سالار دورہ ایران کے دوران اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملے  ہیں ۔ امید رکھنی چاہیے کہ اجتماعی بقا اور  بہتری  کا راستہ نکالا جائے گا ۔ پاکستان اور ایران خطے کی اہم طاقتیں ہیں ۔  کئی عشرے گذرے جب درویشِ لاہوری حضرت اقبالؒ نے یہ کہا تھا !
دیکھا  ہے  ملوکیت ِ افرنگ  نے  جو خواب
ممکن ہے کہ اُس خواب کی تعبیر  بدل جائے
طہران   ہو  اگر  عالمِ مشرق  کا  جنیوا 
شائد  اس  کرئہ ارض کی تقدیر بدل جائے 
یہ لفظوں سے کھیلنے اور مبالغہ آرائی کے شوقین شاعر کا کلام نہیں ۔ یہ اُس مرد حق آگاہ کا کلام ہے جس نے اشعار میں قرآن و حدیث کے مفاہیم  اس انداز میں بیان کئے کہ سننے والوں کے شعور کی انگوٹھی میں نگینے کی طرح جَڑتے چلے جاتے ہیں ۔ کلام نہیں الہام کا گماں ہوتا ہے۔ ہم کم علم گماں ہی کرسکتے ہیں لیکن اقبال ؒ نے ایک مغربی دانشور سے کچھ ایسا ہی تذکرہ کیا تھا کہ کلام اُن پر وارد ہوا کرتا ہے۔ اس کیفیت اور واقعے کا  بیاں آئندہ اُن  مضامین  میں کرنے کا ارادہ ہے جو حیدرآباد شہر کی  عظیم علمی و روحانی شخصیت ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان ؒ کی بے مثال تصنیف ( اقبال اور قرآن ) کے متعلق ہوں گے۔ بلاشبہ  حضرتِ اقبالؒ  کو قدرت نے مستقبل بیں نگاہ عطا کی تھی ۔ بیشتر اشعار میں آنے والے حالات کا ایسا تذکرہ کیا گویا آنکھوں دیکھا حال بیاں کر ڈالا۔ ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام  سے مستعار لیئے  چند اشعار ملاحظہ فرمائیے!
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمد(ﷺ) اِس کے بدن سے نکال دو 
فکرِ عرب  کو  دے کے فرنگی تخیلات 
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو 
افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج 
مُلا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
درج بالا تین اشعار میں ابلیس کا جو ایجنڈا اقبالؒ نے بیان کیا تھا اُس کو ہم اپنی آنکھوں سے مکمل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ کوئی دو رائے اس امر میں نہیں ہو سکتیں کہ مغرب میں جنم لینے اور پنپنے والی خدائی قوانین کی باغی مذہب بیزار  تہذیب عالمِ اسلام کی حضوراکرمﷺ سے والہانہ وابستگی کو ناپسند کرتی ہے۔ ناموسِ رسالت اور ختمِ نبوت کے متعلق اسلامی معاشروں کی اجتماعی رائے کو رد کرتے ہوئے مغربی افکار کی ترویج کے لیے مشکوک پس منظر کی حامل این جی اوز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔  عالم عرب  میں عیش پرستی، بے عملی اور علم و تحقیق سے بیزار  معاشرہ پروان چڑھانے کے لیے مرغانِ دست آموز کو مسند نشین رکھا گیا ہے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے افغانستان غیرملکی قوتوں کی زد پر ہے۔ اقبالؒ نے جو بیان کیا وہ درست ثابت ہوا۔ عددی اکثریت کے باوجود معاشی میدان میں  مسیحی ممالک  یہودی سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ اقبالؒ نے درست کہا تھا ۔۔۔ فرنگ کی رگِ جاں پنجہٗ یہود میں ہے!
پاکستان کا تصور پیش کرنے والی ہستی کے افکار سے ہدایت لے کر ملک کی بقا کا مناسب بندوبست کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ ہم بحیثیتِ مجموعی اس کارِ خیر کی جانب مائل ہوں! حالت یہ ہوچکی ہے کہ اقبالؒ کے یومِ پیدائش پر ہونے والی سالانہ تعطیل کی رسم بھی ختم کر دی گئی۔ یہ کارنامہ نون لیگی حکومت نے انجام دیا تو انصافی لشکر سوشل میڈیا پر بہت گرجا برسا ! اب انصافی عہد حکومت میں دو یومِ اقبال گذر چکے ۔ تعطیل بحال نہیں ہو پائی۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب نہ کوئی ڈھنگ سے لینے کی کوشش کر رہا ہے اور نہ ہی کوئی حکومتی بذر جمہر تسلی بخش جواب دے پائے گا۔ نون لیگی ارسطوئے زماں نے  اپنے عہد اقتدار  میں محنت اور جہدمسلسل جیسے الفاظ کی آڑ لے کر  تعطیل کے مطالبے کو رد کرنے کی بھونڈی کوشش کی تھی۔  سرکاری دفاتر میں کام کے اوقات میں تعطیل منانے والے معاشرے میں جب وزیر موصوف ایک چھٹی بند کرنے کا دفاع کریں تو ہنسی بھی نکل جاتی ہے اور اگر معاملہ یوم اقبال کی تعطیل کا ہو تو شک بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر چھٹی ختم کر کے محنت کرنے کا شوق پیدا ہو ہی گیا تھا تو پھر دیگر چھٹیاں بھی ختم کر دی ہوتیں ۔ یہ نظرکرم صرف یوم اقبال پر ہی کیوں فرمائی گئی ؟ معاملہ ایک چھٹی کا نہیں بلکہ اقبالؒ جیسی قدآور ہستی سے قوم کو بے نیاز کرنے کا ہے۔ جس مُلک میں انٹرویو دیتے ہوئے پڑھے لکھے  امیدوار محمد علی جناح کو پانی پت کی جنگ کی قیادت کرنے والا سپہ سالار قرار دے ڈالیں اور قائدایوان کو قائد ملت کا چھوٹا بھائی کہتے ہوں وہاں اقبال کے کلام کو پڑھ کر شعور حاصل کرنے والے کتنے فیصد ہو سکتے ہیں ۔ ایک سالانہ تعطیل کی بدولت مصورِ پاکستان اقبالؒ سے  نئی نسل کا برائے نام تعارف بھی ختم کر دیا گیا ۔ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب کے لیے یوم اقبال کا انتخاب بھی  ایسے ہی شریر ذہنوں کی  کارستانی دکھائی دیتی ہے  جو ہر قیمت پر اقبالؒ جیسی عظیم نظریاتی ہستی کو قومی منظرنامے سے مٹانا چاہتے ہیں ۔ لبرل ازم اور سیکیولر ازم جیسے کھوکھلے اور ابہام میں لتھڑے افکار کو معاشرے میں پروان چڑھانے کے متمنی اقبالؒ سے اس لئے خائف ہیں کہ  درویشِ لاہوری مسلم نوجوانوں کو عشقِ رسولﷺ ، جہدمسلسل ، پاکیزہ مشرقی اقدار، اتحاد ملت ، حصول علم اور تحقیق کی جانب مائل کرتا ہے۔