07:36 am
سری لنکا کے انتخابات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات

سری لنکا کے انتخابات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات

07:36 am

گزشتہ سینچر کو سری لنکا میں عام انتخابات ہوئے تھے جس میں80فیصد عوام نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاتھا ۔ سری لنکا میں ووٹ ڈالنے کاتناسب اس خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ ویسے بھی سری لنکا میں تعلیم 95فیصد ہے(ہر چند کہ غربت ہے) الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق گوٹا بایار اجاپاسکے نے تقریباً 53فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ آئندہ چند دنوں میں اپنا عہدہ کا حلف اٹھائیں گے۔ موجودہ صدر نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور نومنتخب صدر کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گوٹا بایار اجاپاسکے الیکشن میں ان کی کامیابی پر دلی مبارکباددی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کی سربراہی میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان موجودہ سیاسی ومعاشی تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ قارئین کرام کو یہ بات باور رکھنی چاہیے کہ سری لنکا نے ہر موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے اورا س کے ساتھ تعاون کیاہے ۔ اس ہی طرح پاکستان نے دامے درمے‘ قدمے اور سخنے سری لنکا کے ساتھ کھڑا رہاہے۔ اب بھی ان دونوں ممالک کے درمیان نہایت ہی خوشگوار تعلقات قائم ہیں ۔ پاکستان نے سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت کوختم کرنے میں سری لنکن فوج کی بہت مدد کی تھی بلکہ ایسا جدید اسلحہ بھی انہیں فراہم کیاتھا جس کی مدد سے بغاوت کو کچلنے میں مدد ملی تھی۔ سری لنکا کے عوام اور سری لنکا کی فوج پاکستان کی جانب سے اس مدد کوکبھی نہیں بھولتے ہیں۔ ہمیشہ اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔
 سری لنکا میں 25سال تک جاری رہنے والی بغاوت کو پھیلانے میں بھارت کاکردار سب کو معلوم ہے۔ بھارت تامل ٹائیگرز کو نہ صرف اسلحہ فراہم کررہاتھا بلکہ ان کی مدد سے سری لنکا کو دولخت کرنے کی بھی کوشش کررہاتھا، لیکن اس کی سازش کامیاب نہیں ہوسکی ۔ تامل ٹائیگرز کابھی صفایا ہوگیا اور اس کے ساتھ بھارت کا اثر رسوخ بھی، حالانکہ بھارت گا ہے بگاہے سری لنکا کو پاکستان کے خلاف بھڑکاتا رہتاہے لیکن کیونکہ سری لنکا اور پاکستان کی دوستی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ اس لئے بھارت کی تمام سازشیں ناکام ہوجاتی ہیں۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی بغاوت کو کچلنے میں نومنتخب صدرگوٹا بایا کااہم کردار تھا۔ ان کے بڑے بھائی، اس وقت سری لنکا کے صدر تھے، انہوں نے گوٹا بایا کو سیکرٹری دفاع مقرر کرکے بغاوت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے تمام اختیارات دے دیئے تھے۔ غالباًیہی وجہ ہے کہ سری لنکا کے عوام نے انہیں بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیاب کرایاہے۔ 
 جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اچھے سیاسی ومعاشی تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان سری لنکا کو سیمنٹ، ٹیکسٹائل آئٹمز، انجینئرنگ کاسامان برآمد کرتاہے جبکہ سری لنکا پاکستان کو کوکونٹ آئل،مشینری اور اعلیٰ قسم کا تیار کردہ کپڑا بھیجتا ہے۔ سری لنکا اور پاکستان کے درمیان 2005ء میں فری ٹریڈ معاہدہ بھی ہوا تھا جس کے تحت سری لنکا کو پاکستان کی مارکیٹ میں اپنا سامان برآمدکرنے میں آسانیاں  پیداہوئیں۔ ایک اکنامک سروے کے مطابق سری لنکا 108 آئٹمزپاکستان میں برآمدکرسکتاہے جبکہ پاکستان 106آئٹمز برآمد کرسکتاہے۔ تجارت کا فائدہ پاکستان کوہوا ہے لہٰذا پاکستان چاہتاہے کہ سری لنکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی خسارہ کم سے کم ہوسکے۔ فری ٹریڈ معاہدے کے علاوہ پاکستان نے سری لنکا کو سب سے زیادہ عزیز دوست کادرجہ دے رکھاہے جس کی وجہ سے ان دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارت میں روز افزوں اضافہ ہورہاہے۔ مزید براں سری لنکا انسانی ہمدرد ی کی بنیاد پر پاکستان کو ’’کورنیا‘‘ (Cornea) بھیجتاہے جس کی مدد سے پاکستان کے ماہرین چشم ان کو نابینا افراد میں پیوند کاری کرکے ان کی بینائی بحال کرتے ہیں۔ اب تک سینکڑوں افراد کی ان کورنیا کی وجہ سے بینائی بحال ہوچکی ہے۔
سری لنکا کی معیشت کادارومدار سیاحت پر ہے ۔ ہر سال لاکھوں افراد جس میں پاکستانی بھی شامل ہیں، سری لنکا کی سیر کرنے آتے جاتے رہتے ہیں۔ تامل ٹائیگرز کی بغاوت کے دوران سیاحت کا شعبہ بری طرح متاثر ہواتھا لیکن اب مکمل امن قائم ہوچکاہے۔ سیاحت کاشعبہ مسلسل ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ سری لنکا کے ساحل بہت خوبصورت ہیں۔ اس کا ایک شہر کانڈی جوکہ خاصہ اونچائی پر واقع ہے۔ بدھ عبادت گاہوں کیلئے مشہور ہے۔ گوتم بدھ کا ایک دانت کانڈی کے ایک مندر میں رکھا ہوا ہے۔ آدم کی چوٹی بھی دیکھنے سے تعلقات رکھتی ہے۔ یہ چوٹی مسلمانوں، بدھ مت کے ماننے والوں اور ہندو ئوں کے لئے نہایت مقدس اورمحترم تصور کی جاتی ہے۔ 
 اس سال جنوری میں بھارت نے ایک بار پھر اس پرامن ملک میں لسانی فسادات کرانے کی کوشش کی تھیں لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ جن عناصر نے بھارت کی مدد سے ایک چرچ پر حملہ کیاتھا۔ ان کومار دیا گیاہے اور چند کوگرفتار کرلیا ہے تاکہ قانونی کارروائی کرنے کے بعد انہیں قرار واقعی سزا دی جاسکے۔ سری لنکا پاکستان کے ساتھ سارک تنظیم میں شامل ہے لیکن اس خطے کے تمام ممالک جانتے ہیں کہ نریندرا مودی نے سارک تنظیم کو بے اثر بنادیاہے حالانکہ اس تنظیم کے ذریعہ سارک ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے تھے۔ تجارت اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہورہاتھا۔ پاکستان کااس تنظیم میں انتہائی اہم رول تھا جوبھارت کو ناپسندتھاچنانچہ 2016میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کونریندرا مودی نے رکوا کر سارک تنظیم کو غیر فعال بنادیاہے۔ نریندر امودی کا یہ رویہ سارک تنظیم کے ممالک کے خلاف ایک کھلی دشمنی کاثبوت فراہم کررہا ہے۔ نیز اس غیر دانشمندانہ رویے کی بنا پر اس خطے میں امن کے امکانات بھی معدوم ہورہے ہیں۔ پاکستان نے سارک تنظیم کو فعال رکھنے میں بہت کوششیں کی تھیں لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔
 دراصل بھارت سارک تنظیم کو غیر فعال رکھ کر اس خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کی کوشش کررہاہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرناچاہتاہے تاکہ پاکستان اقتصادی لحاظ سے اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکے۔ پاکستان کے باشعور عوام بھارت کی اس سازش کوسمجھ رہے ہیں، وہ چوکس بھی ہیں اور اپنے وطن کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔ اگربھارت نے پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ ویسے بھی یہ خطہ بھارت کی کشمیر پالیسی کی وجہ سے جنگ کے قریب آچکاہے۔ سری لنکا کے عوام بھی بھارت کی کشمیر پالیسی کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور اداریے اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ بھارت ایک ابھرتا ہوا سامراج ہے جو نہ صرف اس خطے کے لئے خطرناک عزائم رکھتاہے بلکہ وہ وقت دور نہیں جب مذہب کی بنیاد پر مختلف طبقات میں بٹا ہوا یہ ملک بھارت اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ نریندرا مودی کی اپنی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ روشن ہوگئے ہیں۔