07:36 am
جہادی لات؟

جہادی لات؟

07:36 am

قرآن مجید فرقان حمید کی روشن تعلیمات قیامت تک کرہ ارض پر بسنے والے انسانوں کے دلوں میں روشن خیالی کے دیپ جلائے رکھیں گی، ان چودہ سو سالوں میں دنیا نے قرآن مجید کے ’’اعجاز‘‘ کے ہزاروں مناظردیکھے لیکن گزشتہ دو دن قبل قرآن پاک کا تازہ ترین اعجاز دیکھ کر ایمان والوں کے دل قرآن پاک کی محبت سے مزید معمور ہوگئے۔ ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں اسلام مخالف ریلی کے دوران ملعون لارس تھورسن نام کے عیسائی دہشت گرد نے قرآن مقدس کو پولیس کی موجودگی میں جب آگ لگانے کی کوشش کی تو ایک مسلم نوجوان رکاوٹیں توڑ کر ملعون لارس تھورسن پر حملہ آور ہوگیا۔ کاش اس شیر دل مسلمان نوجوان کے پاس اسلحہ ہوتا تو ناروے کی سرزمین اس غلیظ ملعون کے ناپاک خون  کو بہتا ہوا دیکھ لیتی، مگر مجاہد مسلم نوجوان نے نہتا ہونے کے باوجود  اس ناپاک، ملعون کو گرانے کی کوشش کرکے دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں محبت قرآن کی شمع کو روشن کر دیا۔ وہ نوجوان کس بہادر باپ کا بیٹا ہے؟ کس خوش قسمت ماں کا لخت جگر ہے؟ اس کا خاندان کیا ہے؟ اس کا نام کیاہے؟ یہ تو میں نہیں جانتا لیکن میں تو قرآن مقدس کے اس ’’معجزے‘‘ کی طرف اشارہ کرناچاہتا ہوں کہ ملعون لارس پر حملہ کرنے والا ’’مجاہد‘‘ راتوں رات ہر مسلمان کے دل کی دھڑکن بن گیا، اس مجاہد نوجوان کو ملنے والی بے پناہ شہرت دیکھ کر نجانے امریکی پناہ گزین جاوید غامدی اور ان کے ورجینا پروجیکٹ مارکہ راتب خور  مولوی  زادوں کے دلوں پرکیا گزر رہی ہوگی؟
ان بے چاروں کو شہرت اور نوٹ حاصل کرنے کے لئے نجانے کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں، کہاں کہاں یہ نظریات اور اسلام فروشی کے دام وصول کرنے کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں ۔ امریکہ اور یورپ یونین کے سونپے ہوئے پروجیکٹس کے تحت مدرسے کے طالبعلموں اور معروف مولویوں کے صاحبزادوں کو گمراہ کرنے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے لیکن پھر بھی ان کے حصہ میں ذلت و رسوائی اور بدنامی والی شہرت ہی آتی ہے لیکن ناروے،  مجاہد نوجوان نے قرآن دشمن ملعون کو صرف ایک لات رسید کی اور قرآن مقدس کی برکت سے  وہ آن کی آن میں مسلمانوں کا ہیرو بن گیا۔ سچ بات ہے صرف ورجینا یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے کفریہ ممالک کی یونیورسٹیوں سے بھی پراجیکٹس حاصل کرلیے جائیں وہ عزت و شہرت کہاں؟ کہ جو عزت و شہرت ناروے کے مسلمان نوجوان کو ایک جہادی لات  نے دلادی، پتہ نہیں راتب خوروں کا یہ مخصوص گروہ اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار کیوں نہیں ہے کہ اگر قرآن و حدیث کی بیان کردہ جہاد مقدس کی عادت کی مخالفت اور دشمنی سے مسلمانوں میں عزت واحترام مل سکتاتو اب تک  مرزا قادیانی کو مل چکا ہوتا ،لیکن جاننے والے جانتے ہیں سو سالوں سے دنیابھر کے مسلمان مرزا قادیانی کو ’ملعون‘ ہی کہتے چلے آرہے ہیں۔
ہم الحمد للہ مسلمان ہیں، اسلام کی دولت ہمارے لئے باعث فخر ہے، اسلام کے حوالے سے شرمندگی محسوس کرنے والا منافقین کا گروہ یاد رکھے کہ قرآن مقدس وہ کتاب ہے کہ جو کتاب انقلاب ہے، اسلام ہمیں تمام انبیاء کرام ،تمام رسولوں اور تمام آسمانی کتابوں کے احترام کا درس دیتاہے، شاید جاوید غامدی تک میرا یہ سوال ان کا کوئی خیر خواہ پہنچاسکے کہ وہ اور ان کے حاشیہ نشیں بتائیں کہ گزشتہ بیس سالوں میں دنیا کے کسی مسلمان نے توریت، انجیل یا زبور کو کسی جلسے، جلوس، مظاہرے یا کمرے میں آگ لگانے کی کبھی کوئی کوشش کی ہے؟
میرے علم میں تو ایسا کوئی  واقعہ نہیں اگر ان کے علم میں ہو تو اس خاکسار کو ضرور مطلع فرمائیں۔ الحمد للہ مسلمان اگر آسمانی کتابوں کا احترام کرتے ہیں تو یہ احترام انہیں دینی مدارس اور مساجدکے علماء کرام اور ان کے والدین نے سکھایا۔
اس لئے جب میں اسلام آباد کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں یورپی یونین اور امریکی پروجیکٹس کے تحت بین المذاہب کے نام پر پڑھائے جانے والی کتابوں کو دیکھتاہوں تو حیران ہوکر یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے پروگراموں کی پاکستان سے زیادہ ضرورت تو ناروے، فرانس اور امریکہ میں ہے کہ جہاں یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے انگریز کبھی آقاء مولیٰ پیارے محمد کریمﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں اور کبھی قرآن مقدس کی توہین کی جاتی ہے،جہاں ضرور ت ہے ہمارے ’’ارسطو‘‘ وہاں جاکر تبلیغ کرنے کی بجائے انہی عطار کے لونڈوں سے ڈالر لے کر پاکستانی دینی مدارس کے طالبعلموں اور علماء کے صاحبزادوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر ورجینا مارکہ یہ ڈالر خوراس قدر ڈھیٹ ہیں کہ خود بدلتے نہیں مگر قرآن کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ آقاء مولیٰ ﷺ کے احکامات کی نعوذ باللہ غلط تعبیرات اور تشریحات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس خاکسار کا ذاتی اختلاف کسی سے نہیں ہے ۔ میں سب کا احترام کرتا ہوں، لیکن این جی اوز سے ڈالر اینٹھ کر ضمیر فروشی کرنے والے اگر نظریہ پاکستان اور اکابر علماء کرام کے خلاف زبان درازی کریں گے تو پھر میرا ’’قلم‘‘ انہیں آئینہ تو دکھائے گا ہی، سوال یہ ہے کہ یہود و ہنود، نصاریٰ اور منافین کی قرآن پاک سے دشمنی کیا ہے؟ قرآن پاک تو کہتا ہے کہ وہ ہدایت کی کتاب ہے ، ایک ہدایت کی کتاب کو بار بار جلانے کی کوشش کرنا، اللہ کے مقدس کلام کی بار بار توہین کرنے کی کوشش کرنا دراصل یہود و نصاریٰ کو اپنے ماضی سے جوڑتا ہوا نظر آتا ہے ۔ قرآن وہ مقدس کتاب ہے کہ جو یہود و نصاریٰ کی سازشوں کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے، قرآن وہ مقدس کلام ہے کہ جو جارح کفریہ طاقتوں کے علاج ’’بالجہاد‘‘ کی تلقین کرتاہے، جب یہود و نصاریٰ مسلمانوں کی صفوں میں جہاد مخالف پیدا کرنے کے لئے کروڑوں ڈالر انویسٹ کررہے ہیں تو وہ بھلا خود قرآن دشمنی سے باز کیسے رہیں گے؟