07:37 am
  فلسطین کے وجود کے خاتمے کیلئے اسرائیل کو ٹرمپ کا تحفہ 

  فلسطین کے وجود کے خاتمے کیلئے اسرائیل کو ٹرمپ کا تحفہ 

07:37 am

اسرائیل پر نچھاور ، امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایک اور تحفہ پیش کیا ہے ۔ ٹرمپ نے امریکا کی وہ پالیسی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پچھلے اکتالیس سال سے امریکا ارض فلسطین پر یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتا آیا ہے۔ 1978میں امریکا کی وزارت خارجہ نے یہ قانونی رائے دی تھی کہ غرب اردن ،غزہ کی پٹی اور شام کی جولان کی پہاڑیوں کے علاقہ پر اسرائیل کا جارحانہ قبضہ ہے اور فلسطین کی سر زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ ویسے بھی چوتھے جینوا کنونشن کے تحت کسی قابض طاقت کو اپنے زیر تسلط علاقوں پر اپنی آبادی منتقل کرنے کا حق نہیں ہے ۔ امریکا نے اس کنونشن پر دستخط کیے ہیں اور اسی کی بنیاد پر اب تک امریکا کی یہی پالیسی تھی۔ 
اس وقت ٹرمپ نے امریکا کی یہ پالیسی ترک کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس کا اصل مقصد اسرائیل کے وزیر اعظم اور اپنے داماد جارڈ کوشنر کے قریبی دوست نتھن یاہو کی مدد کرنی ہے جو ستمبر کے عام انتخابات کے بعد ابھی تک حکومت کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ اس فیصلہ سے نتھن یاہو کے حق میں رائے عامہ ہموار ہوگی ۔ اسی کے ساتھ ٹرمپ کا ایک مقصد اگلے سال کے صدارتی انتخاب میں جیت کے لئے  امریکا کے با اثر یہودیوں کی مالی اعانت اور حمایت حاصل کرنا ہے ۔ 
جب سے ٹرمپ بر سر اقتدار آئے ہیں وہ اسرائیل پر اپنے تحفوں کی بارش کر رہے ہیں۔ گذشتہ سال کے آخر میں ٹرمپ نے یروشلم کو جسے فلسطینی اپنا دارالحکومت قرار دیتے ہیں ، من مانی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا تھا او ر امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ عرب اور مسلم ممالک نے اس فیصلہ کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا لیکن وہ اپنی اپنی مصلحتوں کے پیش نظر خاموش ہر کر بیٹھ رہے ۔ نتیجہ یہ کہ اس خاموشی پر ٹرمپ کا سینہ پھول گیا او ر انہوں نے گذشتہ مارچ میں اسرائیل کو ایک اور تحفہ پیش کیا اور شام کی جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضہ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا علاقہ قراردے دیا۔ اسرائیل جولان کو بے حد اہم سمجھتا ہے کیونکہ یہیں دریائے اردن کا منبع ہے اور اس علاقے پر قبضہ کے ذریعہ دریائے اردن پر اپنا تسلط جما سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ 1967کی جنگ کے بعد سے وہ جولان پر قابض ہے۔ 
اب ٹرمپ نے فلسطین کا رہا سہا وجود ختم کرنے کے لئے ارض فلسطین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف امریکی پالیسی ترک کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر کو حق بجانب قرار دیا ہے۔ مشرقی یروشلم اور غرب اردن میں فلسطینیوں کی زمین پرتیرہ ہزار سے زیادہ  یہودی بستیاں ہیں جن میں چھ لاکھ تیس ہزار یہودی آباد ہیں ۔ ارض فلسطین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے ذریعہ اسرائیل ایک عرصہ سے اپنے توسیع پسند منصوبہ پر عمل پیرا ہے اور فلسطین کے علاقوں میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ ارض فلسطین پر یہودی بستیوں کی تعمیر در حقیقت بین الاقوامی عدالت انصاف کی نظر میں جنگی جرم ہے لیکن اسرائیل کو اس کی قطعاً پرواہ نہیں کیونکہ اسے امریکا کی  بھر پور حمایت حاصل ہے ۔ اب ٹرمپ کے اقدام سے اسرائیل کے لئے کسی خطرے اور مخالفت کے بغیر  یہودی بستیوں کی تعمیر کا راستہ کھل گیا ہے۔ویسے بھی جب سے ٹرمپ بر سر اقتدار آئے ہیں فلسطین کی سر زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے پہلے ارض فلسطین پر یہودیوں کی بستیوں کی تعداد چار ہزار چار سو چھہتر تھی لیکن ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد نومبر 2016سے لے کر پچھلے سال جولائی تک کے عرصہ میں یہودی بستیوں کی تعداد تیرہ ہزار نو سو ستاسی  تک پہنچ گئی۔ صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کوشنر جو مشرق وسطی میں امریکا کی پالیسیوں میں اہم رول ادا کر رہے ہیں ان کا ان یہودی بستیوں کی تعمیر میں بڑے پیمانہ پر سرمایہ لگا ہوا ہے۔ 
یہودی بستیوں کی تعمیر کی بدولت اس وقت غرب اردن میں فلسطینیوں کے دو تہائی علاقہ پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ان بستیوں کی وجہ سے غرب اردن میں یہودیوں کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔  یہ علاقہ بے حد زر خیز علاقہ ہے اور یہاں زیتون کے وسیع باغات ہیں۔اس علاقے کے فلسطینیوں کی شکایت ہے کہ اس علاقہ میں تعینات اسرائیلی فوج کی مدد سے یہودی آباد کار فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور ان کے مکانات مسمار کر رہے ہیں۔
 نابلس سے جنوب مغرب میں ایک گائوں کے رہنے والے  ایک فلسطینی  غسان النجار کا کہنا ہے کہ گذشتہ اکتوبر میں یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کی مدد سے ان کی تین ہزار مربع میٹر زمین پر قبضہ کر لیا اور ان کے خاندان کے زیتون کے تین ہزار سے زیادہ درخت کاٹ دئے ۔ غسان النجار کا کہنا ہے کہ ان کے آبائو اجداد کے لگائے ہوئے زیتون کے ان درختوں پر ان کا خاندان گذارہ کرتا تھا اور اب وہ بالکل قلاش ہو گئے  ہیں ۔
گذشتہ ستمبر کے عام انتخابات کے دوران وزیر اعظم نتھن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ ان کی جیت کے بعد غرب اردن کی تمام یہودی بستیوں کو اسرائیل کی خود مختاری میں لانے کے لیے قانون منظور کیا جائے گا۔  گو ابھی نتھن یاہو کی حکومت تشکیل نہیں ہوئی لیکن غرب اردن کی جہاں یہودی بستیاں ہیں  اسرائیل کا خود مختار علاقہ قرار دینے کے لئے قانون سازی کا منصوبہ زیر غور ہے  جس کے بعد غرب اردن کا یہ پورا فلسطینی علاقہ اسرائیل کا علاقہ قرار دے دیا جائے گا  اور عملی اور قانونی طور پر فلسطین کے وجود کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 
مسلم ممالک کو اتنی اقتصادی ، سیاسی اور فوجی قوت حاصل ہے کہ وہ اسرائیل کے منصوبہ کو ناکام بنا سکتے ہیں لیکن اس مقصد کے لئے مسلم ممالک میں اتحاد اور یک جہتی لازمی ہے جس کا افسوس کہ اس وقت دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ارض فلسطین پر اپنا تسلط جمائے رکھے گا اور فلسطینیوں کو جو پچھلے پچاس سال سے اسرائیل کے محکوموں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں یوں ہی محکوم رہیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کی تقدیر نہ بدل سکے گی۔