07:38 am
اہم آمدورفت کے 10دن

اہم آمدورفت کے 10دن

07:38 am

٭بہت سے لوگ جا رہے ہیں،29 نومبر جنرل زبیر محمود حیات چیئرمین چیفس آف سٹاف، 6 دسمبر چیئرمین الیکشن کمشن جسٹس سردار محمد رضا اور 21 دسمبر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہO 6 دسمبر تک غیر ملکی فنڈز کیس کا فیصلہ، حکومت بھی جا سکتی ہےO مجھے پختونخوا کا گورنر، بلوچستان کی حکومت، سینٹ کا چیئرمین بنانے کی پیش کش ہوئی: فضل الرحمنO کوئی پیش کش نہیں کی گئی:وزیراعظم عمران خانO نوازشریف بخیریت، اگلے ہفتے ٹیسٹ ہوں گےO حکومت کے اتحادی ایم کیو ایم، جی ڈی اے، ق لیگ مخالف ہو گئےO سندھ، کتوں کو بچائو مہمOآصف زرداری کی حالت نازک!۔
٭اگلے ایک مہینے میں بہت سی ’آمد و رفت‘ ہو رہی ہے۔ بہت سی ان ہونیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ 29 نومبر کو چیئرمین چیفس آف سٹاف جنرل زبیر محمود فارغ ہو جائیں گے، ان کی جنرل ندیم رضا آ جائیں گے۔ 29 نومبر کو ہی موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ریٹائر ہونا تھا۔ انہیں تین سال کی توسیع مل چکی ہے۔ 6 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا ریٹائر ہو رہے ہیں۔ 21 دسمبر کو موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جگہ جسٹس محمد گلزار چیف جسٹس بنیں گے۔ یہ تو عام رسمی تبدیلیاں ہیں مگر چیف الیکشن کمشنر کی تبدیلی اچانک بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس تحریک انصاف کے خلاف اس کے سابق رکن اکبر ایس احمد کی ایک درخواست بہت عرصے سے پڑی ہوئی ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پارٹی کو کامیاب کرانے کے لئے بیرون ملک سے بھاری فنڈز آئے تھے ان میں بھارتی شہریت والے لوگ بھی شامل تھے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق بیرونی فنڈز کے ساتھ الیکشن نہیں لڑا جا سکتا۔ ایسا شخص نااہل قرار پاتا ہے۔ یہ درخواست الیکشن کمیشن کے پاس الماریوں میں بند پڑی رہی۔ پچھلے ڈیڑھ برس میں حکومت کے خلاف مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف سطحوں پر تحریکیں چلیں جو بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ غیر ملکی  فنڈز کے مسئلے کی طرف کسی کا دھیان نہیں کیا۔ اب اچانک اپوزیشن کے ہاتھ میں یہ مسئلہ آ گیا ہے جو بہت اہمیت اختیارکر گیا ہے۔ ان فنڈز کے بارے میں درخواست گزار ایم ایس اکبر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے پاس بہت ٹھوس ثبوت جمع کرائے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کی مشترکہ ’رہبرکمیٹی‘ نے یہ مسئلہ اب اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ اس کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا نے حکم جاری کیا ہے کہ کمیشن اس معاملے کی 26 نومبر سے روزانہ سماعت کرے گا۔ چیف کمشنر 6 دسمبر کو  ریٹائرمنٹ سے پہلے اس مسئلے کو نمٹانا چاہتے ہیں ورنہ یہ معاملہ مزید لٹک جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن ایک چیف کمشنر اور چاروں صوبوں سے ایک ایک کمشنر پر مشتمل ہوتاہے۔ اصولی طور پر یہ پانچ ارکان مل کر کیس سنتے ہیں مگر صرف تین ارکان بھی سن سکتے ہیں۔ اس وقت یہی پوزیشن ہے۔ کمیشن کے دو ارکان ریٹائر ہو چکے ہیں، اب صرف چیف کمشنر سردار رضا، جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی اور جسٹس (ر) مسز ارشاد قیصر موجود ہیں۔ اگلے دس دنوں کے اندر بیرونی فنڈز کے سلسلے میں تحریک انصاف کے حق یا خلاف فیصلہ آ سکتا ہے۔ خلاف فیصلہ آنے پر موجودہ حکومت کے علاوہ تحریک انصاف کی پارٹی بھی ختم ہو سکتی ہے وہ آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے گی۔ اس صورت حال سے حکومت سخت گھبرا گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ الزام بے بنیاد ہے۔ وہ اس بارے میں اپنی وضاحت کمیشن کے پاس جمع کرا چکے ہیں۔ حکومت کے گھبرانے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ اس نے کمیشن کے ارکان کی تعداد پوری نہیں ہونے دی۔ طویل عرصے سے دو کمشنروں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جنہیں بار بار مطالبہ کے باوجود پُر نہیں کیا گیا۔ اب اگر 6 دسمبر تک اگلے 10 دنوں میں کوئی فیصلہ نہیں آتا تو پھر کمشن صرف دو ارکان پر مشتمل رہ جائے گا۔ جس کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں ہو گا۔ نیا چیف الیکشن صرف وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی اتفاق رائے سے مقرر ہو سکتا ہے۔ یہ معاملہ بہت طول کھینچ جاتا ہے۔ اس وقت اپوزیشن لیڈر، شہبازشریف ملک میں موجود ہی نہیں۔ وہ نوازشریف کے علاج کے سلسلے میں طویل عرصہ کے لئے باہر جا چکے ہیں۔ ان کی واپسی کے بعد بھی نئے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔ موجودہ سخت کشیدہ صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کا اتفاق رائے بہت مُشکل دکھائی دے رہا ہے۔ یوں غیر ملکی فنڈز کا یہ مسئلہ مزید لمبے عرصہ کے لئے لٹک جائے گا اور حکومت چلتی رہے گی۔ سو اگلے 10 دن موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے لئے زبردست اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
٭مولانا فضل الرحمن نے اہم بیان دیا ہے کہ انہیں مخالفت سے روکنے کے لئے ان کی آبائی نشست پر کامیاب کرانے، خیبر پختونخوا کا گورنر یا سینٹ کا چیئرمین بنانے اور بلوچستان میں حکومت بنانے کی پیش کش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا تھا۔ مولانا نے وضاحت نہیں کی کہ یہ پیش کش کس نے اور کب کی؟ حکومت نے یا فوج نے؟ وزیراعظم عمران خان نے گول مول سا انکار کیا ہے کہ ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی، کھل کر دو ٹوک انکار نہیں کیا اور اس بات پر حسب عادت کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا۔ مولانا کو اس بات کی مکمل وضاحت کرنی چاہئے ورنہ یہ محض ایک سیاسی الزام رہ جائے گا۔
٭مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی۔ مولانا کے دھرنے اپنی جگہ مگر خود حکومت کہاں کھڑی ہے؟ ہر ماہ بجلی کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ٹماٹر، سبزیاں عوام کی رسائی سے باہر ہو چکی ہیں۔ یوٹیلٹی سٹور خالی پڑے ہیں،تمام شہر کچرے میں بھرے ہوئے ہیں، وزیراعظم کی ذات فیصل آباد کا گھنٹہ گھر بن چکی ہے۔ طویل مدت سے اطلاعات اور خزانہ کی وزارتیں خالی پڑی ہیں، غیر منتخب افراد سے کام چلایا جا رہا ہے۔ غریب عوام چیخ رہے ہیں۔ وزیراعظم کو پہلے سے زیر تعمیر منصوبوں کا نئے سرے سے افتتاح کا شوق بڑھتا جا رہا ہے۔ ہزارہ ایکسپریس کی بنیاد نوازشریف نے رکھی تھی۔ اس کے نام کی تختی کی جگہ اپنی تختی لگا دی ہے۔ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس صرف 156 ارکان ہیں باقی ق لیگ، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کے مانگے تانگے ارکان ملا کر مشکل سے حکومت بنائی ہے اور اب یہ تینوںاتحادی پارٹیاں حکومت کے خلاف بول رہی ہیں کہ ڈیڑھ برس میں کچھ نہیں کیا! اوپر سے الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈز کا مسئلہ آ گیا ہے۔ یہی نہیں سپریم کورٹ اور نیب کو بھی اپنے خلاف مشتعل کر لیا ہے!
٭نوازشریف جیل میں تھے تو مریم نواز نے حالت نازک ہونے کا طوفان اٹھارکھا تھا۔ گھر چلے گئے تو یہ طوفان بند ہو گیا اب لندن گئے ہیں تو ’’سب خیریت ہے‘‘ کی آوازیں آ رہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ ٹیسٹ اگلے ہفتے ہوں گے پھر کئی ماہ تک علاج چل سکتا ہے۔ گویا ایک ہفتہ تک تو کچھ نہیں ہو گا۔ یہ ’کامیاب‘ حربہ پیپلزپارٹی بھی آزما رہی ہے۔ گزشتہ رات ٹیلی ویژن پر اچانک خبر آئی کہ آصف زرداری کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔ خدانخواستہ کسی بھی وقت دل کا شدید دورہ پڑ سکتا ہے۔ میں پریشان ہو گیا کہ خدا خیرکرے! آصف زرداری اسلام آباد میں ہیں، سندھ والے کوئی نیا مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ رات کو ایک دوبار جاگ کر ٹی وی لگایا کہ کوئی مسئلہ نہ بن گیا ہو۔ اس کالم کی تحریر (دو بجے دوپہر 21 نومبر) تک بالکل کوئی خبر نہیں تھی۔
٭سندھ میں خاص طور پر کتے زور پکڑ گئے ہیں۔ غول در غول پھر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کے کاٹنے سے ہسپتال میں جا چکے ہیں، دو بچے جاں بحق بھی ہو چکے ہیں مگر کتوں کو ختم کرنے کی بجائے اس کے اُلٹ انہیں بچانے اور ان کی افزائش نسل کی سرکاری مہم شروع کر دی گئی ہے۔ پہلے خبر آئی کہ آصفہ زرداری نے کتوں کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ کتوں کو بائولے پن سے بچانے کے لئے انہیں خاص ٹیکے لگائے جائیں گے یعنی انہیں بدستور لوگوں کو کاٹنے کی پوری آزادی ہو گی، البتہ بائولا پن نہیں ہو گا!