11:59 am
حسن و جمال مصطفیٰ مرحبا مرحبا

حسن و جمال مصطفیٰ مرحبا مرحبا

11:59 am

بنی اسرائیل میں ایک شخص نہایت ہی گناہ گار تھا۔ سو سال گناہوں اور معصیت میں اس نے گزارے، جب اس کی موت واقع ہوگئی تو لوگوں تو بہت خوشی ہوئی۔(لوگ اس کے فتنہ اور فساد سے بیزار تھے)نہ اس کو کسی نے غسل دیا نہ کفن پہنایا نہ نماز جنازہ ادا کی بلکہ اس کو گھسیٹ کر کچڑا کونڈی پر پھینک دیا۔حضر ت سیدنا موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضرت سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوۃ والسلام حاضر ہوئے اور عرض کیا۔اے موسیٰ علیہ السلام ! اللہ تعالی آپ کو سلام فرمارہا ہے۔اور اس نے فرمایا کہ میرا ایک ولی انتقال کرگیا ہے۔ لوگوں نے اس کو کچڑا کونڈی پر ڈال دیا ہے۔ اٹھواور اس جاکر وہاں سے اٹھالاواور اس کی تجہیز وتدفین کرو اوار بنی اسرائیل کو فرماؤ کہ اسکی نماز جنازہ پڑھیں۔تاکہ اس کی نماز کی برکت سے ان کے گناہ بخشے جا ئیں۔حضرت موسیٰ کلیم اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام نے بحکم رب الانام عزوجل جب اس کچڑا کونڈی کے پاس تشریف لائے تو اسے دیکھاتو یہ وہی شخص تھا جس نے سو سال نافرمانیوں میں گزارے ۔آپ کو تعجب ہوامگر اللہ عزوجل کا فرمان تھا۔چنانچہ غسل دلایا، کفن پہنایا ، نماز جنازہ پڑھ کرا س کو دفن کردیا۔پھر بارگاہ خداوندی عزوجل میں اس شخص کے بارے میں استفسار کیا۔ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا کہ اے موسیٰ! (علیہ السلام ) وہ شخص واقعی فاسق و فاجر و گناہ گار تھا۔مگر اس نے ایک روز توریت شریف میںکھولی اس میں میرے حبیب ﷺکا نام ِ نامی اسم گرامی محمد  ﷺ لکھا ہوا پایااس نے اس مبارک نام کو چومااور اپنی انکھوں پر لگایا۔ اس کی یہ تعظیم و ادب مجھے پسند آگیا۔ میں نے اس کے سو سال کے گناہوں کو بخش دیا۔اور اسے اپنے مقربین کی فہرست میں داخل کرلیا۔ (مدارج النبوت،نزھتہ المجالس)
رحمت ِحق بہا  نہ می جوید‘رحمت حق ’بہانہ‘می جوید (یعنی اللہ کی رحمت قیمت نہ مانگتی بلکہ اللہ کی رحمت کو بہانہ ڈھونڈتی ہے) اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ساری عبادتیں ایک طرف اور تعظیم مصطفی ﷺ ایک طرف۔ اللہ عزوجل کے حبیب ﷺ کی تعظیم کرنے والا سو سالہ مجرم  اللہ عزوجل کے اولیا کی فہرست میں آگیا ۔ اور اس کویہ بلند انعام ملا کہ جو اس کی نماز جنازہ میں شرکت کرئے اس کی بھی مغفرت  کااعلان کردیا گیا۔
تو ہم کتنے خوش نصیب ہیںکہ ہمیں اس پیارے حبیب ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔تو ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام پاک ’’محمد ‘‘ ﷺ اتنا میٹھا میٹھامیٹھا میٹھا ہے کہ شہد بھی کچھ نہیں، اتنی مٹھاس ہے کہ کوئی لفظ نہیںملتاکہ جس میں اتنی مٹھاس ہو۔جتنی مٹھا س نام محمد ﷺمیں ہے۔
اس نام مبارک کو کس نے رکھا؟ ان کا نام ان کے پیارے پرودگار جل جلالہ نے خود رکھا۔یہ نام آج سے نہیں بلکہ آپ کی ولادت مبارکہ سے بہت پہلے سے یہ نام رکھا جاچکا تھا۔اور اس نام نامی اسم گرامی نے جتنی شہرت پائی ہے اتنی شہرت کسی کے نام کو ملی ہی نہیں۔جیسے کسی ملک کا بادشاہ ہوتو اسے شہرت حاصل ہوتی بھی تواپنے ملک میں،پڑوسی ملک میں اس کی شہرت نہیں ہوتی۔چلئے مان لیا پوری دنیا میں حکومت اور پوری دنیا والے نام جانیں۔لیکن اس کا نام جانیں تو کب تک جانیں،جب تک وہ زندہ ہو۔ جب وہ مرجائے تو تھوڑے عرصے بعد بھول جائیں۔لیکن کسی کا نام مشہور ہوجائے تو ایسا نہیں کہ لوگوں کے دل میں اس کا احترام ہو۔لیکن اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کے نام کو وہ عزت بخشی کہ اس نام کی تو کفار نے بھی تعظیم کی تو بڑے بڑے رتبے پائے۔
ایک یہودی نے جب توریت شریف کھولی تو اس نے اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کا نام پاک دیکھا، اس نے اس کو کھڑچ دیا۔پھر اس نے جب دوسری بار توریت شریف کو کھولا تو وہ نام مبارک چار جگہ لکھا ہوا تھا۔پھر دوسرے دن کھولا توآٹھ جگہ لکھا ہوا تھا،وہ کھرچتا گیا۔ تیسرے دن کھولاتو بارہ جگہ لکھا ہوا تھا۔وہ پریشان ہواکہ آخر کیا بات ہے۔یہ ضرور مقبول ہستی ہیں کہ ان کا نام بڑھتا چلا جارہا ہے۔میں مٹاتا ہوں تو یہ مٹنے کی بجائے اور بھی بڑھتا ہے۔ فوراً ملک شام سے مدینہ منورہ کا اس نے سفر اختیار کیاکہ اس نام والے سے ضرو ر ملنا چاہیے۔چنانچہ وہ مدینہ منورہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ جس کا نام توریت شریف میں پڑھ کر،شوق دیدار میں چلاتھا،وہ نام والے اس دنیا سے پردہ فرماچکے ہیں۔وصال ظاہری ہوگیا۔اس کو بڑا غم ہوا۔مولیٰ مشکل کشاء علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے محمد عربی ﷺ کا لباس مبارک دکھاؤ۔جب مولی مشکل کشاء علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے لباس دیاتواس نے لباس پاک کو سونگھا اس کا بہت ادب کیا چوما  آنکھوں سے لگایا۔اور سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مزار فائز الانوار پر حاضر ہوا۔وہاں کھڑے ہوکر اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا اور مسلمان ہوگیا۔بارگاہ خدا وندی میں عرض کیا کہ مولیٰ عزوجل اگر میرا ایمان تیری بارگاہ میں مقبول ہے تو مجھے موت عطا فرمااتنا کہناتھا کہ واقعی اس کا انتقال ہوگیا۔مولیٰ مشکل کشاء علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے غسل دلاکر جنت البقیع میں دفن فرمایا۔
 میرے آقا میٹھے میٹھے مصطفی ﷺکا مبارک نام کتنا بابرکت ہے۔کتنی عظمت والا اور کتنا مشہور ہے۔ اور خاص بات یہ کہ نام بہت پرانا ہے۔اللہ تعالی نے بہت  پہلے جب کوئی مخلوق پید ا نہیں ہوئی تھی۔اس وقت بھی سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام محمد ﷺرکھ لیا تھا۔ لیکن کسی نے یہ نام اپنی اولاد کا نہیں رکھا۔ سرکار ﷺ کے ظہور سے پہلے کسی نے اپنے بچوںکانام محمد نہیں رکھا یہ نام اتنا منفرد۔ لیکن سرکارصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت شریفہ سے کچھ سال پہلے جب علماء یہودکو جب معلوم ہوا کہ اس نام کا ایک بچہ ہوگا اور وہ آخری نبی ہوگا۔یہ بشارتیں جب ان کو معلوم ہوئیںتو بعض لوگوں نے اس امید پراپنے بچوں کے نام رکھے تھے کہ شاید یہی وہ نبی ہوجائے ۔ لیکن جس کے حصہ میںتھا وہ حصہ توپہلے سے ہی مقرر ہوچکاتھا۔جسے ملنا تھا اسے تو پہلے ہی مل چکا تھا  ۔    (جاری ہے)