12:00 pm
امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

امیر ریاست کا کہا سر آنکھوں پر

12:00 pm

 جدید ریاست مدینہ کے جدید ا میر الریاست نے اپنے ہوم گرائونڈ میں اپنی ہی قوم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاہے کہ مولانا کے ہوتے ہوئے کسی اسرائیلی ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ کیا واقعی مولانافضل الرحمن اسرائیلی پشت پناہی کی سیاست کر رہے ہیں گذشتہ دنوں مولانا نے جو دھر نا اسلام آباد میں دیا تھا جس میں خود ریاست مدینہ کے حواریوں کے مطابق کئی لاکھ افراد شامل تھے کیا وہ سب بھی مولانا کے لئے اسرائیلی لابی کاکیا دھراتھا ۔حیرانگی کی بات ہے عوام بیچاری کوتو پتہ ہی اب چلاہے وہ بھی خود امیر الریاست  کی زبانی کیسے غلط ہوسکتاہے کیونکہ بقول مولانا ساتھی کے خود ان کا تو براہ راست اسرائیل سے تعلق ہے ان کی اپنی آنے والی نئی نسل جو مغربی  ماں کے زیر تربیت ہے اب توبچے بچے نہیں رہے بالغ ہوگے ہیں جو رہتے  ماں کی نگرانی میں ہیں ‘اس لئے جناب امیر جدید ریاست مدینہ کاقول کئی سوفیصد درست ہوسکتا ہے کیونکہ جتنا گہرا تعلق ان کاہوسکتا ہے کسی اور کاکیسے ہوسکتا ہے ۔ مولانا کے حواریوں نے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے ان کے کہنے کے مطابق اگر امیر ریاست کچھ کہنے سے پہلے کچھ سوچ سمجھ لیاکریں یاکم از کم اپنے گریبان میں ہی جھانک لیا کریں تو یوں بے توقیر ناہونا پڑے کہیں کاغصہ کہیں نکالاجارہاہے۔ ایسا محسوس ہورہاہے جیسے چراغ بجھنے سے قبل بھڑک رہاہوشاید مولاناکے دھرنے اور غیر متوقع سیاسی اتحاد نے نئی مملکت مدینہ کے حکمران کے پیروں سے زمین سرکادی ہے تب ہی ان کی حکمرانی سیاسی سے زیادہ نجی اختلافی سیاست میں بدل گئی ہے اپنی جس غلطی کا ملبہ کبھی عدلیہ پر کبھی معالجین پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں اس سارے معاملے میں بھی یوٹرن لے لیا ہے۔ وہ انسانی ہمدری کے جذبوں کااظہار وہ بیمار کی تیمارداری کاجذبہ سب ہوا ہوگیا نوازشریف کوکسی اور نے نہیں خود آپ نے فرار کرایاہے۔
 یہ بات آپ کے الزام کے جواب میں چیف جسٹس جناب سعید کھوسہ صاحب نے جتادی ہے کے جانیوالے کوآپ نے خود اجازت دی ہے عدلیہ نے نہیں اب آپ نے رخ بدل کر میڈیکل رپورٹ کی طرف کرلیا ہے جانے اب کس کی شامت آنیوالی ہے۔ اللہ ہی جانے کون بہتر ہے کون بدتر ہے سیاست کے حمام میں تو سب ایک سے بڑھ کرایک ہے۔ ہاں یہ بھی درست ہے کہ ہماری سیاست ہمیشہ سے انتقام اور بدلے کی سیاست رہی ہے وہ جوکل تک تبدیلی کی بات کرتے تھے نئے پاکستان کی بات کرتے نہیں تھکتے تھے اب ایسا کیا ہوا کہ سارے ارادوں  وعدوں کی بساط ہی الٹ دی انہیںراہوں پر کیوں اور کیسے نکل گے جس سے نفرت کااظہارکیا جاتارہاہے ۔
کیا یہاں بھی کوئی یوٹرن آگیا ہے یا مولانا جو آئے اور چلے گے کیا ان کے آنے جانے سے جویوٹرن بنا اس نے خوف زدہ کردیاہے ۔مولاناصحیح کہتے ہیں کہ میں ناایسے گیاتھا ناویسے آیا ہوں کیونکہ ان کے بقول انہوں نے اپناکام کردکھایاہے اس لئے کہ ان کے آنے جانے سے امیرریاست کے پائوں اکھڑنے لگے ہیں۔ قوم دیکھ رہی ہے سمجھ رہی ہے کہ گھبراہٹ کس بات کی ہے کون ہے جوچین سے بیٹھنے نہیں دے رہا ۔آخیر مرشدہ کس دن اور کب کام دکھائے گئیں۔  مرشدہ کے ہوتے ہوئے بھی یہ بوکھلاہٹ کسی ہے اور کیوں ہے بقول ریاست دوستوں کے مولانا کی تو چٹکیوں میں مسلنے کی اوقات نہیں ہے پھر کیاوجہ ہے پس پردہ کچھ اور معاملہ تو نہیں ہے۔ کہیں باجی والے مسئلے کی تو کوئی بات نہیں ہے کیونکہ مولانااور ان کے ساتھیوں نے بھی وہ سلائی مشین مانگی ہے جس سے سات ارب کی آمدنی ہوتی ہے جوبعد میں ایمنسٹی اسکیم سے صاف شفاف کرائی جاسکتی ہے۔ 
کسی اہل خبر نے درست مشورہ دیاہے کہ آپ اپنی جماعت کے وزیر اعظم نہیں آپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور یہ بات بقول خود آپ کے آپ کی مرشد نے کئی بار آپ کویاد کرائی ہے پھر بھی بار بار کیوں یاد نہیں رہتا کہ آپ ایک بڑی مملکت کے حکمران ہیں آپ سے لوگ صبر برداشت اورغیر معمولی کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں جناب اب آپ کسی کرکٹ کے میدان میں نہیں ایک بڑی ریاست کے میدان میں ہیں زرا سوچ سمجھ کر قدم بڑھائیں سیاست کوسیاست رہنے دیں  دشمنیاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن سب کھیل سیاست کی بساط پرکھیلے جاتے ہیں بازاروں میں نہیں۔ 
مدینہ کی ریاست کاخواب بڑا سنہری تھا عوام کی بڑی توقعات تھیں جوآپ بتدریج توڑتے جارہے ہیں اصل مدینہ کے حکمران تو مسجد میں نماز کی امامت خود کیا کرتے تھے حق سچ بولا کرتے تھے الزام نہیں لگاتے تھے لگنے والے الزامات کی تحقیق کر کے فیصلے صادر کیا کرتے تھے۔ یوں بازاروں میں فریاد نہیں کیا کرتے تھے کسی پرانگلی اٹھانے سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرلیاکیجئے۔ مولانا کے معتقدین کاکہناہے کہ جب ڈار کے والد سائیکل کی دوکان چلاتے تھے اس وقت آپ کے والدکیا کہ گورنر لگے ہوئے تھے۔ کبھی سوچا ہے کہ جو گند دوسروں پرپھینکی جارہی ہے وہ پلٹ کربھی آسکتی ہے بہتر ہے کہ ذاتیات کی سیاست کی جگہ ملکی سیاست کئی جائے یہی آپ کیلئے ملک کیلئے بہتر رہے گا۔
 اب آپ کا مرتبہ کرکٹر والا نہیں ہے آپ ملک کے سیاہ و سفید  کے مختار ہیں عوام نے اعتماد کرکے آپ کواس منصب جلیلہ تک پہنچایاہے اس کی قدر کریں سب کوساتھ لیکرچلیں اپنے دوست نمادشمنوں سے جان چھڑائیں ملک چلائیں ملک نے جوعزت جومرتبہ دیاہے اس کی قدر کریں جو موقع ملاہے اسے ضائع ناکریں ابھی وقت ہے ہوا کارخ ضرور تبدیل ہورہاہے ۔وہ بھی آپ کے رویوں سے ابھی کچھ نہیں بگڑا سب کچھ آپ کے ہاتھوں میں ہے بس تھوڑی سی فراصت اور تحمل کی ضرورت ہے ورنہ کھیل ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔