12:01 pm
وارثانِ قلم وقرطاس

وارثانِ قلم وقرطاس

12:01 pm

کاش امریکہ کاشہنشاہِ عالی مقام جان پاتاکہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف اپنی زمین،اپنی فضائیں اوراپنے پانی ہی نذرنہیں کئے، ہماری وفاکشی واطاعت گزاری کا اصل پہلویہ ہے کہ ہمارے نومولود فقیہ،اہل قلم اورارباب دانش نے بھی اپنا سب کچھ ہدیہ جاناں کردیاہے اورامریکی مہم کے بے ننگ ونام خاکے میں ایسے ایسے دلائل کی میناکاری کر رہے ہیں کہ خود دانش بھی انگشت بدنداں ہے اورقلم کی آنکھیں بھی اپنی کم نصیبی پراشکبارہیں کہ ہمارے مقدرمیں کیسے ہاتھوں کی چاکری لکھ دی گئی ہے۔وہ کہ جن کے ذہنوں میں سر ِشام کنکجھورے رینگنے لگتے ہیں، جن کے افکارمیں رات بھرچمگادڑیں پھڑ پھڑاتی رہتی ہیں،جن کے دلوں میں چھچھوندروں نے گھربنارکھے ہیں اورجن کی روح میں مکڑیوں نے جالے تان رکھے ہیں ،وہ بھی سحر دم مروان صفاکی طرح سفیلہ ارشادپربیٹھ کروعظ وتلقین کی پوٹلیاں کھول لیتے ہیں ۔
 
برسوں بعدایک ایسے ہی افلاطونی قلمکارکے قلم اور سیاسی فقیہ نے تازہ ابکائی کی ہے کہ’’کروسیڈ‘‘کے وہ معنی نہیں جوپاکستان کے احمق لوگوں نے سمجھا۔ کاش! قصرسفید سے رخصت ہونے والے فرعون جارج بش کو خبرہوتی کہ ان کے جانے کے بعد پاکستان میں انگریزی  ادب کے کیسے کیسے ماہر،شارح اورمفسرآن پہنچے ہیں۔اگروہ ان سے رجوع کر لیتا تو اسے ’’ کروسیڈ‘‘ کا لفظ واپس لینے کی ضرورت پیش نہ آتی اوروہ اپنے ہونٹوں پرمخصوص رعونت آمیزمسکراہٹ سجاتے ہوئے کہہ دیتا کہ’’کم سمجھ لوگو!تمہیں کروسیڈ کامطلب ہی نہیں آتا ۔ ‘‘ اسی بش نے ٹی وی پراسامہ بن لادن کے بارے میں کہے گئے جملے’’ہم اسے پکڑ کررہیں گے،زندہ یامردہ‘‘پربھی معذرت کرلی تھی، حالانکہ اندازِسخن زیادہ شائستہ نہیں تھا۔’’میں جونہی گھر پہنچا،میری بیوی لارانے بھی اس پرناپسندیدگی کااظہار کیاتھا‘‘بش کوکیامعلوم کہ اب توارضِ پاکستان میں ایسے صاحبانِ قلم وقرطاس بھی بستے ہیں جن کے دلوں میں اس کیلئے’’لارا‘‘ سے بھی زیادہ محبت وفریفتگی پائی جاتی ہے۔اگربش کوخبرہوتی کہ کرہ ارض کے اس حصے میں اب بھی ایسے وفادارموجود ہیں تووہ الفاظ واپس لینے کی رسوائی سے بچ جاتا اور ٹرمپ کو مزیدکھلامیدان مل جاتا۔
برسوں بعدایسے ہی وفاشعارکاارشاد یہ ہے کہ ’’عراق میں تباہی پھیلانے والے ہتھیارنہ ملنے کا اعلان دراصل امریکی چہرے کا روشن ترین رخ ہے اور اس رخ سے اندازہ ہوتاہے کہ وہاں نہ جھوٹ کارواج ہے نہ منافقت کا‘‘خوئے غلامی کاسب سے ہولناک پہلویہی ہے کہ وہ ہرقطرہ خوں میں گھرکرلیتی اورعشق کاایسارنگ اختیار کرلیتی ہے کہ محبوب کاچیچک زدہ چہرہ بھی چودھویں کے چاندجیساروشن،اس کی یرقان زدہ آنکھیں بھی مے کے چھلکتے پیمانے اوراس کے سوکھے سڑے ہونٹ بھی گلاب کی پنکھڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔امریکی چوکھٹ پرسجدہ ریزان نورتنوں کوکون بتائے کہ امریکااتنامعصوم نہیں۔ اسے بہت پہلے سے معلوم تھاکہ عراق کے پاس ایساکوئی ہلاکت آفریں ہتھیار موجود نہیں۔ایک ہزارجاسوس بھیجنے اورڈیڑھ کھرب ڈالر  پھونکنے سے قبل بھی وہ جانتا تھاکہ اسے کس روزکون سا اعلان کرکے اپنے عشاق کو اپنے چہرے کے روشن عارض و رخساردکھانے ہیں۔ پچھلے سترسالوں کی تاریخ پرہی نظرڈال لی جائے تو امریکہ دنیاکے سب سے بڑے جھوٹے،منافق اور سب سے مکروہ ملک کی حیثیت سے سامنے آتاہے جوہرآن جمہوریت،انسانیت اورانسانی حقوق کے معنی تبدیل کرتارہتاہے۔ابو غریب جیل سے گوانتانا موبے تک’’شرفِ انسانیت‘‘کی نئی تاریخ رقم کرنے والے عفریت کوایسی سندِفضیلت توامریکہ یا برطانیہ کی کسی دانش گاہ سے بھی نہیں ملیں۔
شکاری کاکام توشکارکرناہی ہے لیکن ایسابھی ہوتا ہے کہ خودشکارکے دل میں بھی تیرکھانے کی آرزوانگڑائیاں لینے لگتی ہے ۔اپنی تاریخ وروایات کو ’’نسیم حجازیت‘‘کانام دیکر’’نشانہ تمسخرـ‘‘بنانااورمکروہ تریں نامہ اعمال رکھنے والوں کے گلے میں ہارڈالنا، مری ہوئی قوموں کے مرے ہوئے دانشوروں کاشیوہ رہا ہے۔ فرماتے ہیں کہ’’دوراول کے مسلماں ظلم وستم سہتے رہے لیکن اف تک نہ کی،وہ تیاری کرتے رہے اور پھر 313جانباز پہلے معرکے کیلئے میدان بدرمیں اترے‘‘یہ تاریخ سے بے خبری ہے۔313جانبازکسی جنگ کیلئے نہیں، ابو سفیان کے تجارتی قافلے کاراستہ روکنے نکلے تھے،پھرانہیں قریش مکہ کے ایک آراستہ پیراستہ لشکرکامقابلہ کرناپڑا۔دشمن کی تعدادایک ہزارتھی جن میں ہرایک کے پاس سازوسامان جنگ کی فراوانی تھی۔یہ313تھے جن میں سے70کے پاس اونٹ تھے اوردوکے پاس گھوڑے اورجن کے ہاتھوں میں تیزدھار تلواریں بھی نہ تھیں۔جانبازوں کی اس سپاہ کوسیاہ رنگ پرچم کیلئے حضرت عائشہ ؓصدیقہ کی چادر استعمال کرناپڑی۔تب ان کی صفوں میں زمینی حقائق اورعسکری قوت کے اسرارورموزسمجھانے والاکوئی عالی دماغ نہ تھاجونعرہ لگاتاکہ ’’پہلے تیاری کرو‘‘313میں سے کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آیاکہ جب تک ہم ایک ہزارنہیں ہوجاتے،جب تک ہمارے پاس طرار گھوڑے، طرحداراونٹ اورآبدارتلواریں نہیں آجاتیں، ہمیں مزاحمت نہیں کرنی چاہئے اورابو جہل کے سامنے سرجھکادیناچاہئے۔
کوئی نہیں کہتاامریکہ سے ٹکراجاؤلیکن خدا کیلئے ایسی دلیلیں نہ تراشوجس سے گھن آتی ہے اورایسے بیار فلسفے کاپرچارنہ کروجس کی بساندھ سے متلی آنے لگتی ہے۔ ’’تیاری‘‘ ضرورکرو لیکن جب آنے والے پچاس برسوں میں تمہاری تیاری مکمل ہو گی توکیاامریکاکی تیاریوں کاپہیہ جام رہے گا؟کیاوہ بھی پچاس سال لمبی جست نہیں لگائے گا؟ان فکری بالشتیوں اورسامراجی فقیہوں کوکون سمجھائے کہ اس نوع کی’’تیاری‘‘کی نہیں، غیرت وحمیت کی ضرورت ہوتی ہے۔اگریہ جوہر موجود ہوتووہ اپنی پرانی بندوقوں،اپنی زنگ آلود تلواروں، اپنی لاٹھیوں،اپنے ناخنوں،اپنے دانتوں اوراپنی جانوں کے بل پرجنگ آزماہوتے ہیں اور اگریہ جوہرمرچکاہوتوان کے ایٹم بم بھی ان کی مردہ رگوں میں مزاحمت کی چنگاری نہیں سلگا سکتے،نہ ان کے صاحبانِ دانش اوروارثانِ قلم وقرطاس پرکپکپی کامداواکرسکتے ہیں۔