12:02 pm
وزیراعظم کا اپوزیشن پر سونامی حملہ

وزیراعظم کا اپوزیشن پر سونامی حملہ

12:02 pm

٭وزیراعظم عمران خان کا پھر اپوزیشن پر ’سونامی‘ حملہO نوازشریف بخیریت، مریم نواز مستقل خاموش، صحافیوں سے بات نہیں کیO الطاف حسین: بھارت میں سیاسی پناہ کی اپیلO سندھ: جیلوں سے معمر، بیمار قیدیوں کی رہائی شروعO لندن: ملکہ الزبتھ نے بیٹے اینڈریو کو محل سے نکال دیاO وزیراعظم: تونسہ کو چونسہ کا نامO سارے مطالبات منظور، صرف استعفا رہ گیا، وہ بھی آ رہا ہے:غفور حیدریO اسلام آباد ہائی کورٹ، چاروں صوبوں سے جیلوں کے بیمار قیدیوں کا ریکارڈ طلبO آسٹریلیا، پاکستانی کرکٹ ٹیم ریکارڈ ذلت آمیز پٹائی۔
٭وزیراعظم نے وزراء کو اپوزیشن پر تنقید سے روکا اور خود پھر اپوزیشن پرچڑھائی کر دی۔ ذرا ملاحظہ کریں: ’’نوازشریف حالت نازک بتائی گئی اور سیڑھیاں چڑھ کر جہاز میں گیا، لندن جاتے ہی ٹھیک ہو گیا… حسن نواز آٹھ ارب کے گھر میں رہتا ہے… فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی سازش کی کیا ضرورت ہے…وہ جھوٹ بول کر مدرسوںکے بچوں کو اسلام آباد لایا…بلاول: جھوٹا نیلسن منڈیلا، کہہ رہا ہے بارش ہو تو پانی آتا ہے…کسی کو نہیں چھوڑوں گاO قارئین کرام وزیراعظم نے یہ باتیں میانوالی میں ایک تقریب میں کہیں۔ کہاں تک لکھا جائے کہ ایسی باتیں بازار میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو کہی جاتی ہیں، وزیراعظم کا منصب ہر قسم کے عہدوں سے بالاتر نہائت سنجیدگی، متانت، مہذبانہ اور مدبرانہ گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔ زبانی تقریر کرتے وقت بڑے بڑے محتاط لوگوں کی زبان بھی پھسل جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو میں بھی زبانی تقریر کرنے اور دوسروں کا مضحکہ خیز تمسخر اڑانے کی عادت تھی۔قذافی سٹیڈیم میںلیبیا کے صدر قذافی کے سامنے تقریر کرتے ہوئے بہن کی گالی نکال دی پھر ٹی وی والوں سے کہا اسے نکال دو لیکن وہ چلتی رہی۔ لاہور کے جی پی او چوک میں پیپلزپارٹی کے انتخابی جلسے میں تقریر کی۔ میں نے خود سُنی۔ بھٹو نے ایک فرضی چھڑی زمین پر لہراتے اور لنگڑاتے ہوئے نوابزادہ نصراللہ خان کی چال کا مذاق اڑایا، ایئرمارشل اصغر خان کو آلو قرار دیا اور کہا کہ ہم اس آلو کو بُھون کر کھا جائیں گے۔ مجمع میں سے ایک آواز آئی ’’چودھری ظہورالٰہی؟‘‘ بھٹو نے جواب دیا "Who is She?" یہ تمسخرانہ رویہ 1970ء کے انتخابات میں انتہا کو پہنچ گیا جب پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے ایک دوسرے کے لیڈروں کے نام لے کرٹھاہ ٹھاہ کے نعرے لگائے گئے، مولانا مودودی کا قافیہ یہودی سے ملایا گیا اور ہیلی کاپٹر سے بیگم بھٹو کی فرضی نازیبا تصویریں شہر پر گرائی گئیں۔ یہ پست ترین انداز بیان بعد میں سیاست دانوںکا مستقل رجحان بن گیا۔ اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ بلاول، احسن اقبال، فضل الرحمن، عمران خان کا نام لینے کے بجائے سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی وزیراعظم کہتے ہیں۔ ان دونوں ناموں کا صاف مطلب ہے کہ وزیراعظم کی پیچھے سے کوئی رسیاں ہلا رہا ہے۔ یہ اشارہ واضح آرمی کی طرف جاتا ہے۔ فوج اسے برداشت کر رہی ہے ورنہ ان الفاظ پر آئین کی دفعہ -63 اے کے تحت قانونی کارروائی کی جائے تو یہ سب لوگ انتخابات کے لئے نااہل ہو سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو مخالفین کو گالیاں دینے کا چسکا پڑ گیا ہے۔ ان کا سرپرست آقا ہی مائیک پر آ کر ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے تو ان بے چاروں کو کیا کہا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ ساری دوطرفہ سیاست معقولیت کی بجائے خرافات میں کھو گئی! آزادی دھرنے میں بعض حضرات نے عمران خان کو جیسی گالیاں دیں، ان کا ذکر ہی نامناسب ہے اور وزیراعظم کا جوشِ بیان کہ تونسہ کو چونسہ کہہ دیا!
٭جے یو آئی کے سیکرٹری جنرل مولانا غفور حیدری نے کہا ہے کہ آزادی دھرنے کے سارے مطالبات منظور ہو چکے ہیں صرف استعفا اور اسمبلیوں کی تحلیل کا مسئلہ رہ گیا ہے، وہ بھی جلد منظور ہونے والا ہے، استعفا آ رہا ہےO وزیراعظم عمران خان کا دو ٹوک جواب ہے کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
٭قارئین کرام! سیاسی باتوں سے ہٹ کرکچھ دوسری باتیں۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریر میں تونسہ شہر کو چونسہ کہہ دیا۔ جوش بیان میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ چند دن قبل نوازشریف کے ایک جان نثار ساتھی نے تقریر کے دوران ’گو نیازی گو‘ کی بجائے ’گو نواز گو‘ کا نعرہ لگا دیا تھا۔ پھر معذرت کر لی۔ اسی طرح عمران خان نے تونسہ کو چونسہ کہہ کر تصحیح کر لی اور پھر تونسہ ہی کہا مگر میرے خیال میں تصحیح نہ بھی کی جاتی تو اس سے تونسہ کی کوئی تضحیک نہ ہوتی۔ چونسہ کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ اسے آموں کا سردار بھی کہتے ہیں۔ آم دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا پھل ہے۔اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں 40 قسموںکی نمائش ہوئی۔ اس پر ملتان والوں کو تائو آ گیا، 100 قسموں کی نمائش کر ڈالی۔ ان دونوں نمائشوں میں سفید چونسہ کو آموںکا سردار تسلیم کیا گیا۔ آم کی بے شمار قسموں میں چند اہم نام: سندھڑی، دسہری، فجری، گولا، لنگڑا، انورٹول، ثمر بہشت، گلاب خاص، طوطا پری، گولڈن، چناب گولڈ، الفانسو، سفید چونسہ، کالا چونسہ وغیرہ! پاکستان سے ہر سال اربوں روپے کا آم دوسرے ملکوں میں جاتا ہے۔ برآمد کرنے سے پہلے ہر آم کو ایک سکیورٹی مشین سے گزارا جاتا ہے جو اس کی جلد پر موجود جراثیم وغیرہ کو صاف کردیتی ہے۔ آم کا گودا، چھال، گٹھلی، درخت کے پتے، چھال اور گوند، ہر چیز مختلف دوائوں میں استعمال ہوتی ہے۔ آم کی باتیں کچھ زیادہ ہو گئیں۔ صرف ایک آدھ بات اور کہ ’راوی نامہ‘ کالم کے سیاسی رنگ میں آنے سے پہلے ملتان اور دوسرے شہروں سے کچھ قریبی سیاسی دوست دوستانہ تحفے کے طور پر آم کی پیٹیاں بھیجا کرتے تھے۔ کالم میں سیاست دانو ںکے بارے میں تلخی آنے لگی تو ساری دوستیاں طاق پر دھری رہ گئیں۔ اب تین چار برسوں سے ایک آم بھی نہیں آیا!
٭لندن:برطانیہ کی ملکہ الزبتھ نے جنسی معاملات میں بدنام چھوٹے بیٹے شہزادہ اینڈریو کو شاہی محل سے نکال دیا، اسے دی گئی شاہی ذمہ داریاں ختم کر دیں، اس کا دفتر واپس لے لیا ہے! برطانیہ کے میڈیا میں اینڈریو کی مختلف نازیباداستانیں چھپ رہی تھیں جس سے شاہی خاندان کے وقار کو سخت نقصان پہنچ رہا تھا۔
٭نوازشریف کو بیماری کے باعث جیل بلکہ ملک سے بھی باہر آزادی ملنے کے بعد جیلوں میں بند ہزاروں دوسرے بیمار قیدیوں کا مسئلہ ابھر آیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں ملک بھر میں ایسے تمام قیدیوں کی تفصیل طلب کر لی ہے جب کہ سندھ حکومت نے تو عملی کاروائی شروع بھی کر دی۔ گزشتہ روز پانچ ایسے معمر شدید علیل قیدی رہا کر دیئے گئے۔ فی الحال زیادہ عمر والے ایسے قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے تاہم جان لیوا بیماریوں والے قیدیوں کو بھی میڈیکل بورڈوں کی سفارش پر رہا کر دیا جائے گا۔ یہ اچھا عمل ہے۔ جان لیوا لاعلاج مریض کے لئے لاعلاج ہونا ہی بہت بڑا عذاب ہے، اسے سزا سنا کر ضمانت پر رہا کیا جاناچاہئے۔ قید میںرکھنے کی ضرورت نہیںہونی چاہئے۔ ویسے اس بارے میں باضابطہ قانون بھی تیار کیا جانا ضروری ہے۔ رہا ہونے والے قیدی نوازشریف کو دعائیں دے رہے ہونگے کہ انہیں بھی رہائی دلا گیا!
٭سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل، مفرور اشتہاری،  لندن میں مقیم الطاف حسین نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ اسے بھارت میں سیاسی پناہ دی جائے۔ لندن میں اس شخص کے گرد مختلف الزامات میں قانونی گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے اس نے بھارتی وزیراعظم مودی سے سیاسی پناہ مانگتے ہوئے اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ بھارت میں میرے دادا کی قبر ہے۔ میں اس پر فاتحہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ اسے پاکستان میںدفن اپنے والدین یاد نہیں رہے، دادا یاد آ گیا!
٭ فیس بک پر عثمان اکبر کی ایک دلچسپ ٹویٹ: بھنڈی توری نے ٹمائر سے کہا’’آئی لَو یو‘‘ (میں تم سے محبت کرتی ہوں) ٹماٹر نے کہا کہ ’’جب تم 150 روپے اور میں 20 روپے کلو بک رہا تھا۔ اس وقت تم نے مجھے غریب سمجھ کر آنکھیں پھیر لی تھیں، اب میں 300 روپے کلو بکتا ہوں تو محبت امڈ پڑی ہے!‘‘