07:01 am
بادشاہ، گدھا اور غصہ

بادشاہ، گدھا اور غصہ

07:01 am

ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پرایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا
’’ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پرایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا … ایک دن بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیر موسمیات سے موسم کاحال پوچھا، وزیر نے کہاموسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک ایسے ہی رہے گا ، بارش وغیرہ کا کوئی امکان نہیں۔
بادشا اپنے لائو لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہوگیا… راستے میں بادشاہ کو کمہار ملا اس نے کہا حضور ! آپ کا اقبال بلند ہو، آپ اس موسم میں کہاں جارہے ہیں؟ بادشاہ نے جواب دیا شکار پر، کمہار کہنے لگے بادشا سلامت! موسم کچھ ہی دیر میں خراب ہونے والا اور بارش  کے امکانات بہت زیادہ ہیں … بادشاہ نے کہا ’’ابے او برتن بناکر گدھے پر لادنے والے ، تم کیا جانو موسم کیا ہے؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوارہے اور شکار کے لئے نہایت موزوں اور تم کہہ رہے ہو کہ بارش ہونے والی ہے؟
بادشاہ نے ایک سپاہی سے کہا کہ اس کمہار کو دو جوتے ماریں جائیں، بادشاہ کے حکم پر فوری عمل کیا گیا اور کمہار کو دو جوتے مار کر بادشاہ شکار کے لئے جنگل میں داخل ہوگیا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ یکایک کالے بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا اور پھر کچھ ہی دیر بعد تباہ کن بارش شروع ہوگئی، بادشاہ اور مصاحب کو سارا شکار بھول گیا، جنگل پانی سے جل تھل ہوا تو بادشاہ نے واپسی کی راہ لی، واپس پہنچ کر اس نے دو کام کئے، پہلا یہ کہ وزیر موسمیات کو برطرف کر دیا اور دوسرا یہ کہ کمہار کو دربار میں طلب کرکے اسے انعامات سے نوازنے کے بعد وزیر موسمیات بننے کی پیشکش کی، کمہار ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، بادشاہ سلامت! کہاں میں جاہل اور ان پڑھ اور کہاں سلطنت کی وزارت؟ مجھے تو برتن بناکر گدھے پر لاد کر فروخت کرنے کے سوا دوسرا کوئی کام نہیں آتا … مجھے تو موسم کا رتی برابر بھی فہم نہیں، ہاں البتہ یہ ہے کہ جب میرا گدھا اپنے کان ڈھیلے کرکے نیچے لٹکائے گا تو اس کا مطلب ہے کہ بارش ضرور ہوگی، یہ میراتجربہ ہے اور کبھی بھی میرے گدھے کی یہ پیشن گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی، بادشاہ نے کمہار  کے گدھے کو فوری طور پر اپنا وزیر موسمیات مقرر کر دیا … کہا جاتا ہے کہ گدھوں کو وزیر بنانے کی ابتداء تب سے شروع ہوئی۔ میرے دوست امان اللہ کی شیئر کردہ یہ پوسٹ میں ضرور نظر انداز کر دیتا کہ اگر اس میں ’’گدھوں‘‘ کو وزیر بنانے کی ابتداء کا تذکرہ نہ ہوا ہوتا، مطلب یہ کہ پہلے زمانے کے ’’گدھے‘‘ بھی اس قدر ذہین ہوا کرتے تھے کہ بادشاہ انہیں اپنا وزیر مقرر کرنے پر مجبور ہو جایا کرتے تھے  لیکن اب میں اس سے زیادہ تبصرہ کیا کروں کہ تبدیلی نے بڑے بڑوں کی ذہانت کی مت مار کر رکھ دی ہے… آج کے زمانے کے وزیروں کی ذہانت دیکھ کر اور پیشن گوئیاں سن کر اس  بادشاہ کی قسمت پر رشک آتا ہے کہ جس نے اپنا وزیر موسمیات ’’گدھا صاحب‘‘ کو مقرر کیا تھا۔
صرف وزیر ہی نہیں بلکہ پاکستان تو ’’سفیر‘‘ بھی ایسے بھگت چکا ہے ۔مثلاً ’’حسین حقانی‘‘ زرداری دور میں موصوف امریکہ میں پاکستان کے سفیر مقرر ہوئے اور پھر پاکستان کے خرچے پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا … قومی خزانے پر پلنے والا دو منہ والا یہ سانپ آجکل بھی امریکہ میں پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف رہتا ہے۔
عمران خان کا نعرہ تبدیلی کا تھا، ہاں وزارتوں میں ’’تبدیل‘‘ ضرور آئی مگر گزشتہ تیرہ چودہ ماہ سے یہ قوم ایسے ایسے ’’افلاطون‘‘  وزیر بھگت رہی ہے کہ ’’الااماں و الحفیظ‘‘ … یہ وزیر قومی خزانے کو جتنے سستے پڑتے ہیں  اس کی رپورٹ بھی میڈیا کی زینت بن چکی ہے، قومی خزانے کو انتہائی ’’سستا‘‘ پڑنے والے یہ وزیر، مشیر جب کرپشن اور پروٹوکول کے خلاف ٹی وی شوز میں بیٹھ کر مہنگی مہنگی باتیں کرتے ہیں تو مجھ جیسے طالبعلموں کی بے اختیار ہنسی نکل جاتی ہے اور دماغ فوراً بادشاہ کے اس وزیر کی طرف چلا جاتا ہے کہ جسے بادشاہ نے اپنا وزیر موسمیات مقرر کیا تھا؟
’’غصہ‘‘ بڑی بری بلا ہے؟ غصہ عام آدمی  کے لئے اگر نقصان دہ ہے تو ملک کے وزیراعظم کیلئے کس قدر نقصان دہ ہوگا؟
وزیراعظم کی تقریروں کو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ غصہ انہیں بھی بہت آتا ہے، کاش کہ وہ جان سکتے کہ ان کی غصے سے بھرپور تقریروں سے کتنے دلوں میں سوراخ ہوتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ ایک آدمی کو غصہ بہت آتا تھا، غصے میں بے قابو ہوکر وہ برا بھلا کہتا لیکن غصہ ختم ہونے کے بعد  اسے شرمندگی ہوتی … اسے تلاش تھی ایک ایسے عالم کی جو اسے ’’ غصے‘‘ کا علاج بتاسکے، ساتھ والے گائوں کے عالم کے پاس جاکر اس نے اپنا مسئلہ گوش گزار کیا تو عالم  نے کہا … جب تمہیں غصہ آئے تو تم جنگل میں جاکر درخت میں ایک کیل ٹھونک دیا کرو ۔ ’’غصے کا یہ علاج جان کر وہ واپس آیا… اور پھر جب بھی اسے غصہ آتا تو وہ جنگل کی طرف دوڑتا اور تیزی سے کیلیں درختوں میں ٹھونکتا جاتا، آخر دن گزرتے چلے گئے اسے جب بھی غصہ آتا وہ یہی عمل دوہرا دیتا … بار بار یہ عمل کرنے سے ایک دن اس کا ’’غصہ‘‘ تقریباً ختم ہوگیا، ایک دن وہ دوبارہ عالم کے پاس آگیا اور اسے غصہ ختم ہونے کی خوشخبری سنائی، عالم نے اس کا ہاتھ پکڑ اور کہاں کہ جس درخت میں تم سے کیلیں ٹھونکی مجھے وہاں لے جائوں ، وہ عالم کو لے کر درخت کے پاس پہنچا تو درخت کیلیوں سے بھرا ہوا تھا، عالم نے اسے کہ کہ اب یہ ساری کیلیں واپس نکالو، اس نے بڑی مشکل سے وہ کیلیں نکالیں تو دیکھ کہ وہاں چھوٹے بڑے بے شمار سوراخ تھے … عالم نے کہا کہ ’’یہ وہ سوراخ ہیں کہ جو تم غصے میں آکر لوگوں کے دلوں میں کیا کرتے تھے، دیکھو کیل تو نکل گئے مگر سوراخ باقی ہیں۔‘‘
جناب والا، جب ملک کا وزیراعظم غصے، نفرت اور الزام تراشیوں سے بھری ہوئی تقریریں کرے گا تو ہر طرف دوریاں پیدا ہوں گی، انسانوں کے د لوں میں سوراخ ہو جائیں گے اور انسانوں میں شدت پسندی کا عنصر جنم لے گا۔