07:02 am
مسئلے کی جڑ! 

مسئلے کی جڑ! 

07:02 am

بانوے کے ورلڈ کپ میں ون ڈائون بلے باز ناکام ہو رہا تھا ۔ کپتان فائنل جیسے اہم میچ میں خود اس اہم نمبر پر کھیلنے  کے لیے میدان میں اُتر آیا
 بانوے کے ورلڈ کپ میں ون ڈائون بلے باز ناکام ہو رہا تھا ۔ کپتان فائنل جیسے اہم میچ میں خود اس اہم نمبر پر کھیلنے  کے لیے میدان میں اُتر آیا ۔ ساتھ بنھانے کے لیے جاوید میاں داد جیسا  عظیم بلے باز کریز پر تھا جس نے کمر کی تکلیف کے باوجود نصف سنچری اسکور کر دکھائی۔  آخری اوورز میں ٹیل اینڈرز نے جان ماری ۔ عاقب جاوید مشکل کیچ نہ پکڑتا ، وسیم اکرم دو گیندوں پر لگاتار وکٹ نہ لیتا ، پورے ٹورنامنٹ میں جاوید میاں داد اگر مشورے نہ دیتا اور خود کپتان انضمام الحق جیسے ناتراشیدہ ہیرے کی شناخت نہ کرتا تو پاکستان کبھی ورلڈکپ نہ جیت پاتا۔ ملک چلانا اور ایک روزہ میچ کھیلنا بالکل مختلف کام ہیں۔ پاکستان کو چلانا زیادہ مشکل نہیں  بلکہ  سدھارنا دشوار تر ہے! فرد واحد یہ کام نہیں کر سکتا ! بالکل نہیں کر سکتا ! اکیلا شخص تو ایک کریانے کی دکان بھی ڈھنگ سے نہیں چلا پاتا۔ 
 وزیر اعظم کی یہ بات  سر آنکھوں پر کہ وہ کرسی بچانے نہیں بلکہ تبدیلی لانے کے لیے میدان میں اُترے ہیں ۔ جملہ معترضہ ہے کہ کرسی کی خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ بچتی نہیں ! خواہ کوئی بچانا چاہے یا نہ بچانا چاہے۔ کوتاہ نظروں کے نزدیک اقتدار باعثِ افتخار ہے! خوف خدا رکھنے والوں کی نظر میں اقتدار ایک آزمائش ہے !  کہاں یہ سوچ کہ فرات کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کی ذمہ داری بھی ریاست اپنے کندھوں پہ محسوس کرے اور کہاں یہ حال کہ کتے کے کاٹنے سے اشرف المخلوقات انسان کا بچہ ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر دم توڑ دے ۔ جو حاکم بھوکے کتے کی موت پر بھی خود کو جوابدار سمجھتا تھا اُسے دنیا فاروقِ اعظم ؓکے لقب سے جانتی ہے ! اُس عہد کی دو سپر پاورز  روما و فارس کو شکست دینے والے عظیم فاتح کے  بارے مخالفین کی رائے ہے کہ  اگر عمر ؓ دس برس اور زندہ رہ جاتے تو پوری دنیا فتح کر لیتے۔ محض باتیں نہیں فیصلے کرنے سے معاشرے سدھرا کرتے ہیں ۔ ریاست مدینہ تلوار کے زور پر فتوحات کے ذریعے قائم نہیں ہوتی بلکہ شرف انسانیت کو تسلیم کرنے سے قائم ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ کا درس یہی ہے کہ خدا کا دیا ہوا شرف انسانوں سے مت چھینو!  نانا کی  میراث پر براجمان سیاسی گدی نشین لکھے لکھائے بھاشن دیتے ہوئے آئین کا حوالہ بھی دیا کرتے ہیں ۔ قصیدہ خوانوں کا گروہ  داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے انگریزی بھاشن پہ واری صدقے جاتے ہیں۔ دوسری جانب انصافی لشکر صف آراء ہے جن کے نزدیک لیڈر کا ہینڈسم ہونا  اور مخالفین کی پگڑی ہوا میں اچھالنا ہی تمام مسائل کا حل ہے۔   سگ گزیدگی سے زیادہ بڑا مسئلہ دوا کی عدم فراہمی ہے۔  اور اُس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے  کہ گلی کوچوں میں جانوروں سے بدتر  موت کا شکار ہوتے انسان کے بچوں کی  موت  اربابِ سیاست  کے لیے کوئی مسئلہ  ہی نہیں ؟ پینے کو پانی ، کھانے کو روٹی اور علاج کو دوا میسر  نہ ہو تو غریب کے لیے جمہوریت اور آمریت کی بحث کوئی اہمیت نہیں رکھتی ؟  آئین کی پاسداری ، سول بالا دستی اور اظہار رائے جیسی مباحث بے معنی ٹہرتی ہیں ۔ ریاست مدینہ میں حاکمیت خالق کائنات کی ہوتی ہے۔ 
منتخب حاکم امین کی حیثیت سے ریاست کے امور چلانے والا ایسا با اختیار بندہ خدا ہوتا ہے جو اپنی من مرضی کو نہیں بلکہ احکامات خداوندی کی روشنی میں فیصلے نافذ کرتا ہے۔  میاں صاحب کے نون لیگی شیدائی  ، خان صاحب کے انصافی فدائی  اور  بھٹو خاندان کے تاحیات پرستار جیالے  آئین پاکستان کا پہلا صفحہ کھولیں  اور اپنی اپنی  قیادت کو یاد دلائیں کہ ریاستِ پاکستان  میں حاکمیت اعلیٰ  خالق کائنات کی ہے ۔ اس ملک میں  قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا ! صبح و شام  آئین کی تسبیح پھیرنے والے قائدین سے یہ پوچھا جائے کہ  ماں کی گود میں کتے کے کاٹے سے مرنے والے بچے کا قتل کس کے ذمے ہے؟  تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کی ریلی میں شریک گاڑی کے ٹائر کی زد میں آکر جس بچے کا بھیجا  جی ٹی روڈ پر بکھرا تھا  اُس کی ماں کس کے خلاف مقدمہ درج کروائے؟ ماڈل ٹائون میں ریاستی گولی کا شکار ہوکے جان بحق ہونے والی خاتون کی بیٹی کا دکھ کلیجہ چیرنے والا ہے یا  جیل سے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد دنیا کی  مہنگی ترین ائیر ایمبولینس میں لندن کے پرتعیش رہائشی علاقے میں مفرور  صاحبزادوں  اور سمدھی  کے جھرمٹ میں  زیر علاج سابق وزیر اعظم کی دختر نیک اختر کا اپنے والد سے دوری کا دکھ شدید تر ہے؟ سابق صدر محترم کے شوگر اور بلڈ پریشر کے اتار چڑھائو کا رونا رویا جائے یا دوائیں نہ ہونے کے باعث کتے سے بدتر موت مرنے والے لاوارث انسانوں کا  ماتم کیا جائے؟   کیا ایوب ، ضیاء ، مشرف یا  یحییٰ نے  حکمرانوں  کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں؟ وفاقی حکومت پر سکتہ کیوں طاری ہے؟ کیا نون لیگ  اور پی ٹی آئی  نے  سندھ کے  ہسپتالوں سے دوائیں غائب کر دی ہیں ؟ کیا پنجاب میں پی پی پی اور نون لیگ نے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے؟ 
مان لیجئے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں ! یہ درست ہے کہ وزیراعظم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس تبدیلی کے لیے نہ آپ نے ٹیم تیار کی اور نہ ہی ٹیم کا درست انتخاب کیا ۔ باتیں نہیں درست فیصلے درکار ہیں ۔ فیصلے ہی نہیں قوت نافذہ درکار ہے۔ وزیر اعظم صاحب مان لیجیے کہ آپ کی سیاسی ٹیم میں کوئی جاوید میاں داد ، وسیم اکرم اور انضمام الحق نہیں ہے۔ جس دن آپ یہ جان لیں گے اُسی دن آپ درست فیصلے کرنے لگیں گے۔ قائد بحرانوں میں گھبراتے نہیں بلکہ قوم کی راہنمائی فرماتے ہیں۔ مانا کہ یہ قوم ٹیکس نہیں دے رہی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم کے غریب اور امیر ایدھی ، چھیپا اور اخوت فائوندیشن سمیت ان گنت فلاحی تنظیموں کو دل کھول کر عطیات دیتے ہیں ۔ اس ملک میں روکھی سوکھی روٹی کھانے والا غریب بھی اپنے ساتھ دوسرے غریب کو کھانے میں بخوشی شریک کر لیتا ہے۔ مسئلہ ملک میں نہیں ملک چلانے والوں میں ہے ۔ مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ  آپ نے ایک غیر معیاری  دو نمبر ٹیم چن لی  ہے۔ اس ٹیم سے  ایک  میچ جیتنا محال ہے جبکہ آپ نے  تو کرپٹ مافیا سے پوری سیریز کھیلنے کا ارادہ باندھ رکھا ہے۔