07:03 am
مرغ باد نما

مرغ باد نما

07:03 am

یہ تو ہونا ہی تھا، حکومت بڑے مستقل مزاجی کیساتھ انتظامی و سیاسی معاملات عدالت کی جھولی میں ڈال کر
یہ تو ہونا ہی تھا، حکومت بڑے مستقل مزاجی کیساتھ انتظامی و سیاسی معاملات عدالت کی جھولی میں ڈال کر نظریاتی عفت بچانے کی کوشش کرتی رہی ہے، اس سے پہلے بھی مختلف کالمز میں اس سیاسی دانشوری یا حماقت کا تذکرہ کرتا رہا ہوں اور بالاخر وزیر اعظم عمران خان کی تقریر اونٹ پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔ شاید میری طرح آپ کو بھی لگتا ہو کہ تحریک انصاف میں اپوزیشن اور عمران خان میں سے کنٹینر اب تک نکلا نہیں ہے، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان ٹیم سیاسی نخوت کی اس معراج پر ہیں جہاں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
نواز شریف کو باہر بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ انتظامی تھا، چلیں سیاسی کہہ لیں مگر یہ معاملہ بھی عدالت کے سپرد کیا گیا، عدالتی فیصلے کے بعد ایک وزیر اعظم کا عدلیہ کے بارے میں ناصحانہ خطاب شاید کسی طور بھی مناسب نہ تھا۔ چیف جسٹس نے چند روز بعد ہی جواب دیدیا کہ باہر بھیجنے کا فیصلہ کابینہ یا وزیر اعظم کا تھا، عدالت نے صرف جزیات طے کیں۔ منصف اعلی نے نہایت شائستگی کیساتھ عدلیہ پر لگے الزامات کو جواب دیا۔ ذرا سوچیئے اگر یہ معاملہ کچھ پہلے پیش آتا یا یوں سمجھیں کہ چیف جسٹس ثاقب نثار یا افتخار چوہدری صاحبان ہوتے تو جانے کب کی توہین عدالت لگ چکی ہوتی، جانے وزیر اعظم کتنی بار کٹہرے میں کھڑے ہو چکے ہوتے، بہرحال یہ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ موجودہ اور ماضی کی عدلیہ کے رویے میں فرق آ چکا ہے۔ عدلیہ کا رویہ تبدیل ہو چکا مگر نیب کا رویہ قابو میں نہیں، چیئرمین نیب کا تازہ خطاب موضوع گفتگو بنا ہوا ہے جس میں نہ صرف انہوں نے ہوائوں کا رخ تبدیل ہونے کا اعلان کیا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہونیوالی کرپشن بھی دیکھیں گے، ہر طاقت ہمارے دروازے کے باہر ختم ہوجاتی ہے۔ کو ئی نہ سمجھے کہ حکمر ان جماعت میں ہے تو وہ بری الذمہ ہے دیکھنا ہو گا 35سال میں کیا کرپشن ہو ئی اور 12یا 15ماہ میں کیا ہوا، اس بیچ آئی ایس پی آر کا بیان بھی آیا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں۔
میاں نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھیجنا تو کسی طور پر قانونی نہیں ہو سکتا اس میں تو کوئی دوسرے رائے نہیں ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر خدانخواستہ میاں صاحب کو صحت کے حوالے سے کوئی نقصان پہنچتا ہے تو یہ کتنا بڑا سیاسی دھچکا ثابت ہوتا ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی آج چالیس سال بعد بھی سیاسی منظر نامے پر چھائی ہوئی ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر کرپشن الزامات کے حوالے سے تحریک انصاف کا موقف اس قدر سخت ہے کہ مذکورہ خدشے کا کوئی جواب انکے پاس موجود نہ تھا، حسب روایت یہ سہرا بھی عدلیہ کے سر ڈالنے کی کوشش کی گئی، چلیں یہاں تک تو ٹھیک تھا مگر ایک جانب تو وزیر اعظم خود فرماتے ہیں کہ کابینہ کی اکثریت مخالف تھی مگر انہیں رحم آ گیا، تو پھر اس قسم کی ناصحانہ تقریر صرف اور صرف اپنے ووٹر کو مطمئن کرنے کیلئے ہی کی جا سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر صاحب اسے حکومت کی فتح قرار دیتے ہیں، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب اس دعوے پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کہتے ہیں کابینہ کی اکثریت مخالف تھی، وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان صاحبہ فرماتی ہیں کہ کابینہ کی اکثریت نے انسانی ہمدردی کے باعث میاں صاحب کے باہر جانیکی حمایت کی، عمران خان خود کہتے ہیں کہ انہوں نے تصدیق کروائی نواز شریف کی صحت واقعی تشویشناک تھی، حکومتی وزرا کہتے ہیں اچھلتے کودتے گئے، انگور وغیرہ کی بھی تذکرہ ہوتا ہے، وہی کنفیوژن جو تحریک انصاف کا وطیرہ ہے۔ 
مولانا فضل الرحمان کا دھرنا فطری انداز میں ختم ہوا، مذاکرات کار چوہدری پرویز الہی کہتے ہیں کچھ امانتوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو دوسری جانب مولانا صاحب دھڑلے سے کہتے ہیں کہ نہ ایسے اسلام آباد گئے تھے نہ ایسے آئے ہیں، حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ حکومتی اتحادی ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سیاسی گرو ہیں، انکا کہنا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو ایسا نہ ہو کہ تین، چار ماہ بعد کوئی وزیر اعظم بننے پر تیار ہی نہ ہو۔ ہوائوں کا رخ بدلا یا نہیں مگر بہرحال یہ ضرور ہوا ہے کہ اتحادیوں نے نظریں پھیرنا شروع کر دی ہیں، ق لیگ پنجاب حکومت سے مطمئن نہیں، ایم کیو ایم معاہدے پورا نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس تنہا چھوڑنے کی شکایت کر رہا ہے۔ اتحادی بھی کریں بھی تو کیا کریں صرف عزم و ہمت، جوشیلے خطابات، انوکھے اعلانات اور جگتوں سے تو پیٹ نہیں بھرتا، تحریک انصاف کی حد سے بڑھی خود اعتمادی تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اگرچہ وزیر اعظم عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے نواز شریف کی بیماری کی تصدیق کروائی، میڈیکل بورڈ بھی سرکاری تھا، شنید ہے کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز بھی بھیجے گئے، پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی صحت کو لاحق سنگین خطرات پر بات کرتی رہیں۔ اب سمجھ یہ نہیں آتا کہ وزیر اعظم عمران خان اور چند وزرا ہر خطاب میں بیماری پر خدشات کا اظہار کیوں کر رہے ہیں، کبھی جہاز کی سیڑھیاں، کبھی سامنے رکھے انگور، کبھی جہاز کو نوعیت اور میاں صاحب کی صحت کے حوالے سے جگتیں کسی جا رہی ہیں، حضور کس کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے عوام اتنے بھی معصوم نہیں کہ ہر یوٹرن پر یقین کر لیں۔ اگر ایسا ہوا بھی تو یہ حکومت کی نااہلی ہے، اب تقاریر میں نقل اتار کر کیوں اپنے آپ کو تماشہ بنا رہے ہیں، عدالت واضح کر چکی کہ یہ حکومت کا فیصلہ ہے، عوام خوب جانتے ہیں کہ وزرا اچھل اچھل کر انسانی ہمدردی کا ذکر کرتے رہے، فیصلہ اچھا ہے یا برا، کم از کم اپنے کئے ہوئے فیصلوں کو قبول کرنے کی جرات تو کریں، ظفر اقبال صاحب نے کیا خوب کہا ہے۔
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے 
میاں نواز شریف چلے گئے اور شاید علاج کا سلسلہ طویل ہو گا، میاں صاحب پاکستان سے دور ہونگے مگر یقین جانیے سیاست میں پوری طرح موجود رہینگے۔ مجھے نہیں لگتا کہ فی الوقت تحریک انصاف حکومت کو کچھ خطرہ ہے، شاید کچھ سنجیدہ سوال ضرور اٹھے ہیں مگر فی الوقت کوئی سنگین معاملہ نہیں ہے۔ ہوائوں کا رخ ابھی تو نہیں بدلا، شاید آپ کو یاد ہو یبس، پچیس سال پہلے تک چوراہوں اور بعض گھروں پر ایک لمبے بانس پر ٹین یا کسی اور ہلکی دھات کا مرغ لگا ہوتا تھا جو ہوا کے رخ پر مڑ جاتا تھا، اسے مرغ باد نما کہا جاتا تھا یعنی ہوا کا رخ پہچاننے والا، ہوائوں کا رخ پہچاننے کا یہ آلہ تو کہیں ماضی کے مزار میں دفن ہو چکا مگر حکومتی ہوائوں کا رخ بتانے والے کردار اب بھی ہم میں موجود ہیں، کبھی ہوا کا رخ اتحادی بتاتے ہیں، کبھی اداروں کے بیانات اور تو کبھی کبھی تو وزرا اور قریبی ساتھی تک ہوا کی سمت بتانے کا کام کرتے ہیں، سو عقلمند حکمراں ہر وقت مرغ باد نمائوں پر نظر رکھتے ہیں، سو آپ بھی نظر رکھیئے۔