07:04 am
مجھے یہی پڑھئے

مجھے یہی پڑھئے

07:04 am

شیخ سعدی فر ماتے ہیں دارا بادشاہ جنگل میں اپنے لشکر سے بچھڑ گیا، اسے اچانک ایک شخص اپنی طرف دوڑکرآتا
شیخ سعدی فر ماتے ہیں دارا بادشاہ جنگل میں اپنے لشکر سے بچھڑ گیا، اسے اچانک ایک شخص اپنی طرف دوڑکرآتا ہوا نظر آیا وہ آنے والے کو دشمن سمجھا اور جلدی سے تیر کمان پر چڑھا لیا۔ آنے والا شخص ایک چرواہا تھا جب اس نے دیکھا کہ بادشاہ نے اس کی طرف تیر کمان تان لی ہے تو وہ گھبرا گیا اور چلا کر بولا مجھے نہ مارو میں دشمن نہیں دوست ہوں، میں تو آپ کا خادم ہوں جو آپ کے گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
اب تک بادشاہ اسے دشمن سمجھ کر خوف زدہ تھا لیکن اس کی بات سن کر بادشاہ کا خوف دور ہوگیا پھر وہ ہنس کر چرواہے سے مخاطب ہوا اگر غیبی فرشتے نے تیری مدد نہ کی ہوتی تو میں بس تیر چھوڑنے ہی والا تھا۔ یہ سن کر چرواہا بھی ہنس پڑا پھر کہنے لگا بادشاہ سلامت! میری ایک نصیحت سن لیجیے جو بادشاہ دوست اور دشمن کی تمیز نہیں کرسکتا وہ بھی کوئی بادشاہ ہے۔ پھر بولا کہ بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا ہو، میں آپ کے لیے کوئی نووارد نہیں ہوں، اکثر آپ کے دربار عالی میں حاضر ہوتا رہا ہوں اور آپ مجھ سے گھوڑوں اور چراگاہوں کی بابت اکثر پوچھ گچھ کرتے رہے ہیں، تعجب ہے پھر بھی آپ نے مجھے دشمن تصور کیا حالانکہ میرا تو یہ حال ہے کہ آپ اگر کہیں تو میں لاکھ گھوڑوں میں سے بھی آپ کا مطلوبہ گھوڑا نکال سکتا ہوں۔
بادشاہ چرواہے کو حیرت سے دیکھنے لگا چرواہا پھر گویا ہوا کہ اے بادشاہ!جس طرح میں اپنا فرض ذمے داری سے ادا کرتا ہوں اور عقلمندی سے آپ کے گھوڑوں کی گلہ بانی کرتا ہوں، آپ کو بھی حکومت اسی طرح کرنی چاہیے اور اپنی رعایا کو محفوظ اور ان کی تکالیف کا احساس کرنا چاہیے ورنہ جس بادشاہ کا انتظام چرواہوں سے بھی بدتر ہو اس کا تاج و تخت بھلا کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔
مذکورہ سبق آموز حکایت کی روشنی میں اپنے ملک کے بادشاہوں کے طرز حکمرانی کا جائزہ لے لیجیے کہ بھاری مینڈیٹ کے زعم میں وہ کیسی کیسی ہمالیائی غفلت کا مظاہرہ کر تے آرہے ہیں اور خوش گمانی یہ ہے کہ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کے اقتدار کا سورج چمکتا رہے گا۔ صاحب اقتدار کو دوست اور دشمن کی تفریق سمجھ نہیں آتی ان کے بعض مشیران باتدبیر جن پر وہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں ایک دھکا اور دو کی گردان کرتے ان کی پشت پر کھڑے ہوتے ہیں، وقت بڑی تیزی سے ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔حکمرانی ایک ادارے کی ہویا ایک ملک کی حسا ب سربراہ کو رکھناہے اور دینا بھی ہے کیونکہ کوئی اس سے مبرا نہیں ۔قدرت کا نظام مکافات پر ہے اور یہ اٹل ہے ۔احساس ذمہ داری ،عفوودرگزر ہی بقا کاراستہ ہے 
تاریخ اسلامی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے ،جہاں ہمیشہ انصاف، صداقت، ایفائے عہد اور عفوودرگزر کا بول بالا رہا ہے ۔ ذرائع آمدورفت اور نقل حمل کی سہولیات نہ ہونے کے باوجود ہزاروں میل کے فاصلے تک پھیلی ہوئی خلافت کے حاکم نے کہیں بھوک سے مرنے والے کتے کی موت کا ذمہ دار خود کو ٹھہرایا ہے۔ تو کہیں خلیفہ وقت قاضی کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوکر اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دے رہا ہوتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ بھیس بدل کر لوگوں کی خدمت، اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی ترویج اور عدالتی فیصلوں میں ذاتی پسندوناپسند سے بالاتر ہوکرعدل کرنا یہ وہ عوامل تھے، جنہوں نے اسلامی حکومت کے پھلنے پھولنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور جہاں حکمرانان وقت تاریخی اقدار کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد، مالی خرد برد، عیاشی اور ارتکاز دولت کی راہ پر نکل کھڑے ہوتے گئے تو خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی اور مسلمان روبہ زوال ہوگئے۔
دور فاروقیؓ کا علم رکھنے کے باوجود موجودہ دور میں 57 اسلامی ممالک کے سربراہان خود کو عمرِفاروقؓ کا وراث قرار دیتے ہوئے سو چتے کیو ں نہیں ؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیشہ دل میں کھٹکتا رہتا ہے یا پھر عدم جارحیت، انسانی حقوق، معاشی مساوات اور گڈگورننس کا ذکر کرنے والے صنعتی ممالک عصبیت کی میلی عینک ہٹاکر تاریخ کیوں نہیں دیکھتے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ گڈگورننس میں حکمران عام لوگوں کے سامنے تین گزچادر کے لیے جوابدہ ہوتا ہے نہ کہ تین کروڑ کا خردبرد کرکے بھی دودھ کے دھلے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی جان ومال کا تحفظ، بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور عدل انصاف کا معیاری نظام اچھی طرز حکومت کی بنیادی خدوخال ہیں لیکن یہاں انصاف ہے نہ عدل، امن ہے نہ سکوں، قانون ہے نہ مساوات، اخوت ہے نہ انسانیت، مگر پھر بھی ہمارے حکمران خود کو منصف وقت قرار دیتے رہتے ہیں۔ گڈگورننس کا لفظ استعمال کرتے ہوئے ان کے سر شرم سے نہیں جھکتے اور آنکھیں بند کرکے عوامی حکومت کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔
انسانی بنیادی حقوق کی فراہمی کا یہ عالم ہے کہ ایک مہربان ماں غربت کے ہاتھوں مجبورہوکر چار بچوں کو زہر دیتی ہے۔ ساری عمر ملازمت کرنے کے بعد پنشن کے حصول میں ناکامی سے دلبرداشتہ باپ خود سوزی کرتا ہے اور چیخ چیخ کر انصاف مانگتے ہوئے تھک کر بے موت مرنے والے تو قدم قدم پر ملیں گے۔ کرپشن، بدعنوانی، اقربا پروری اور رشوت ستانی روز کے معمول بن گئے ہیں اور وعدہ کرکے بھولنا حکمرانوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔ پھربھی سینہ تان کر اسلامی حکومت کا دعویٰ کرتے ہیں! ستم بالائے ستم یہ کہ حکومت کا کوئی شعبہ قابل اعتبار نہیں۔ قانون بنانے کی ذمہ داری ہم نے نوابوں، چوہدریوں، سرداروں، ٹھیکہ داروں اور آمروں کو سونپ دی ہے تو نافذ کرنے والوں کے اپنے ڈھنگ ہیں اور امید کی ہلکی کرن عدلیہ کی شکل میںنمودار ہوئی تھی وہ بھی پانامہ کی گرد نے دھندلی کردی ہے۔
بعد ادب عرض ہے کہ اچھی طرز حکومت میں لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حاکم وقت کی ہوتی ہے مگر یہاں خود حکمران محفوظ نہیں۔ اچھی طرز حکومت وہ ہے جہاں تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات میسر ہو لیکن یہاں غیرمعیاری تعلیم اورعلاج کے لیے بھاری فیس کے ساتھ سفارش بھی درکار ہے۔ جہاں لوگوں کو سستا انصاف ملتا ہوں اسے گڈگورننس کہتے ہیں نہ کہ اسے جہاں وکیل کے ساتھ جج بھی کرنا پڑے۔ جان کی اماں پائوں تو عرض کروں کہ اچھی طرز حکومت میں پانچ لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو اکیاون روپیہ ماہوار تنخواہ فیصلے سنانے کے لیے لی جاتی ہے نہ کہ محفوظ رکھنے کے لیے۔
پاکستان کا مسئلہ ہمیشہ بری حکمرانی، برا حکمران طبقہ اور استحصال پر مبنی معاشرتی سوچ رہی ہے۔ یہ طبقوں میں بٹا ہوا ملک ہے اور اس کی مساوی ذمہ داری یہاں کے حکمرانوں اور عوام، دونوں پر ہے۔ہم جس بے شعوری، کم علمی، جہالت، غربت اور غلامی کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اس کا براہِ راست تعلق مروجہ سیاسی نظام اور اس کے چلانے والے افراد ہی سے نہیں بلکہ اس میں بسنے والے شہریوں سے بھی ہے۔ اس لیے ہمیں ایک منصفانہ اور شفاف سیاسی نظام درکار ہے جو اپنے آپ میں شعور اور علم و فہم پیدا کیے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یہی سحر ہے تو کیونکر حیات گزر ے گی
نہ جانے کون سی مقتل میں رات گزرے گی
 

تازہ ترین خبریں