07:40 am
اقتصادی شہ رگ پروار

اقتصادی شہ رگ پروار

07:40 am

 بلی تو بہت پہلے ہی تھیلے سے باہر آگئی تھی لیکن ہم نے توجہ نہیں دی۔ غالباً نون لیگی دور حکومت میں مائیک پومپیو نے آئی ایم ایف کو حکم نما مشورہ دیا تھا کہ پاکستان کو دیا جانے والا قرض کہیں سی پیک کے کھاتے میں چین کے قرضوں کی ادائیگی میں استعمال نہ ہونے پائے۔ غور سے دیکھا جاتا تو آئی ایم ایف کو دیا جانے والا یہ معنی خیز مشورہ پاکستان کے لیئے دھمکی سے کم نہ تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ امریکہ بہادر کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ۔ زیادہ پیچیدہ نہیں بلکہ سیدھی سادھی وجوہات ہیں ! چین کی دنیا بھر میں معاشی پیش قدمی امریکہ بہادر کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ ایک مربوط منصوبے کے تحت چین دنیا بھر سے منسلک ہورہا ہے۔ 
یورپ ، افریقہ ، وسطی ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں برق رفتار معاشی پھیلائوکی بدولت چین اب امریکہ کو ایسا آگ اگلتا ڈریگون لگ رہا ہے جو انکل سام کی عالمی بالا دستی کو خاکستر کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں چین کی قربت نے پاکستان جیسے اہم ملک سے دوری پیدا کردی ہے۔ گو کہ اس تزویراتی دوری کے اسباب دو طرفہ ہیں لیکن طاقت کے نشے میں مخمور امریکہ بہادر کو اپنے غلط اقدامات پر غور کر نے اور مناسب اصلاح کرنے کی عادت نہیں۔ خطے میں جارحانہ عزائم کی بدولت عدم توازن پیدا کرنے والے بھارت کو آشیر باد دے کر امریکہ نے مزید پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے حالیہ بیان میں سی پیک کے حوالے سے جن منفی خیالات کا اظہار کیا وہ دراصل امریکی پالیسی کا ہی مظہر ہیں ۔ حیرت ہے کہ سی پیک کے قرضوں پر جس امریکہ کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں اُس نے کبھی آئی ایم ایف کے قرضوں پر اظہار تشویش نہیں کیا ۔ سی پیک کی کامیابی کی صورت پاکستان کی اقتصادی کمزوریوں کا شافی علاج ممکن ہے۔ چین سے شرائط طے کرتے ہوئے احتیاط لازم ہے ۔ ارباب اقتدار اس معاملے میں اجتماعی مشاورت اور شفافیت کا بھرپور اہتمام کریں۔ علاقائی معاملات میں پاکستان کے مقابل بیرونی قوتوں کے مفادات کی ترجمانی کرنے والے بعض میڈیا ہائوسز تسلسل سے سی پیک کے بارے ابہام اور تشکیک پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ 
حکومت کے ابتدائی ایام میں ہی ایک مشیر با تدبیر نے سی پیک کو ایک سال کے لیے موخر یا منجمد کرنے کی در فنطنی چھوڑی تھی ۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے وزیر باتدبیر کی ایک سالہ کارکردگی پر بھی کئی سوالیہ نشان پڑنے کے بعد قلمدان تبدیل کرنا پڑا۔ ان دو بزرجمہروں کی معنی خیز کارکردگی کو امریکی تشویش سے جدا کر کے نہیں دیکھا جاسکتا۔ با دل نخواستہ آئی ایم ایف سے رجوع کا معاملہ بھی گھوم پھر کر اقتصادی دبائو میں اضافے کا باعث بنا ۔ تذبذب اور ابہام سے پیدا ہونے والا دبائو اتنا شدید ہوا کہ وزیر خزانہ کو یکا یک تبدیل کرنا پڑ گیا ۔ سیدھی بات یہ ہے کہ پاکستان کو چاروں شانے چت کرنے کے لیے معاشی پہلو پر وار کئے جا رہے ہیں ۔ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں دہشت گردی اور لسانی تعصب کا ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت پر امریکہ اور بھارت کو تشویش ہے۔ گو کہ امریکہ اس وقت چین سے معاشی جنگ میں مصروف ہے لیکن عسکری جارحیت فی الفور شروع ہونے کا نہ تو امکان ہے اور نہ ہی فریقین اس کا دل گردہ رکھتے ہیں ۔
 کمزور فریق پاکستان کو اندرونی خلفشار اور معاشی بربادی کا شکار بنا کر چین کے اقتصادی پھیلائو کو روکنا نسبتاً آسان دکھائی دیتا ہے۔ اگر کچھ احباب اس معاملے میں ابہام کا شکار ہیں تو اپنی یاد داشت پر زور دے کر درج زیل امور میں پایا جانا والا خوفناک ربط سمجھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً پانچ برس قبل نون لیگ کے عہد اقتدار میں سی پیک منصوبے کے باقاعدہ آغاز کے فوراً بعد اُس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ آنجہانی سشما سوراج نے علی الاعلان یہ اعتراض داغا تھا کہ سی پیک چونکہ متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے لہٰذا بھارت کو یہ منصوبہ قبول نہیں ۔ یہ فریاد اور اعتراض لے کر نریندر مودی بیجنگ بھی گئے تھے تاہم وہاں اُن کی دال نہیں گلی۔ مائیک پومپیو نے سی پیک کے حوالے سے باقاعدہ آئی ایم ایف کو تنبیہ کی تھی ۔ زیر حراست بھارتی جاسوس کمانڈر کھل بھوشن یادیو نے بلوچستان میں را کی جانب سے علیحدگی پسندوں کے ذریعے بد ترین دہشت گردی کا اعتراف کیا ہے۔ 
ایف اے ٹی ایف کے محاذ پر پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کے لیے بھارت کی بے تابی اور چابکدستی بھی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مودی سرکار ہر قیمت پر پاکستان کی معاشی بربادی کروانا چاہتی ہے۔ بھارتی پردھان منتری کئی مرتبہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں ۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے امریکی سفارتکار ایلس ویلز کی سی پیک کے متعلق گل فشانیاں ایک سنگین معاملہ ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کسی علاقائی یا عالمی تنازعے میں الجھے بنا اپنی اقتصادی کمزوریوں پر فی الفور قابو پائے۔ چین سے تعلقات میں دراڑ نہیں پڑنی چاہیے ۔ یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ حکومتی صفوں میں ہی سے غیر ملکی قوتوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والے بعض عناصر نے سی پیک جیسے اہم منصوبے میں رخنے ڈالے ہیں۔ دشمن پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کا ٹنا چاہتے ہیں ۔ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ بھارتی جارحیت اور امریکی برہمی کے مقابل اجتماعی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشی استحکام کی جانب سفر جاری رکھا جائے۔