07:40 am
جوجیتے وہی سکندر

جوجیتے وہی سکندر

07:40 am

جن کے دلوں میں خوف نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں،جنہیں دنیاکے اسباب اورآسائش سے اس قدررغبت ہوکہ اس کے چلے جا نے کا خوف ہی انہیں بے خوابی کاشکارکردے، جو ذراسی بیماری پرماہر ڈاکٹروں کے پینل کے روبروپیش ہوجا ئیں کہ کہیں اس کی وجہ ان کی زندگی کی مہلت ختم نہ ہوجائے۔ جوڈر،خوف اوربے یقینی سے ا پنی ساری پونجی اکھٹی کرکے اس شہرسے اس شہراورپھر اس ملک سے اس ملک دربدرہوتے پھریں،خوف سے مقام اورپتہ تبدیل کرواتے پھریں۔رات کوچھت پرہلکی سی آہٹ پران کی نیند ان سے روٹھ جائے اورٹھنڈے پسینے آناشروع ہوجائیں،چوکیداروں کومددکیلئے اونچی آوازمیں پکارناشروع کردیں،کچھ بھی نہ نکلے توپھربھی ساری رات کروٹیں بدلتے جاگ کررات گزرے۔ ایسے  لوگوں کوتاریخ کے وہ اوراق پڑھنا چاہئیں جن میں قوموں نے غیرت، عزت، حمیت، جوانمردی، حوصلہ اورجرات جیسے اوصاف سے وہ میدان فتح کئے جن کاتصوربھی نہیں کیا جاسکتاتھا۔
وہ تمام لازوال داستانیں جوتاریخ کے ماتھے کاجھومرہیں ان کے محرکات میں کبھی معاشی خوشحالی،آسودگی اورسا مان حرب نہیں رہے بلکہ قوموں کی تاریخ جن لوگو ں نے بدل کررکھ دی وہ نہتے اوربے سروساماں لوگوں کے گروہ تھے جوآندھیوں کی اس طرح اس رفتارسے چلے کہ انہیں روکنے والوں کواپنے ہتھیارتک سنبھالنے کی مہلت تک نہ مل سکی۔لیکن خوفزدہ لوگوں کی لغت میں غیرت،عزت،حمیت، جوانمردی،حوصلہ اورجرات ایسے کھوکھلے الفاظ ہیں جن کی کسی اسٹاک ایکسچینج میں کوئی قیمت اوروقعت نہیں،جن سے فیکٹری نہیں لگتی،جس سے بینک بیلنس نہیں بڑھتا،جس کی وجہ سے بیرون ملک عیاشی کے دورے اور تفریح نہیں ہوسکتی،توپھران سب کا کیا فائدہ؟سب بیکارکی باتیں اورلفاظی ہیں،میں ہر روزایسی باتیں سنتاہوں، حکمرانوں کے منہ سے بھی اور صاحب ثروت معززین سے بھی،فیشن ایبل ہوٹلوں میں کافی پیتے دانشوروں سے بھی اور پرتعیش زندگی گزارتے اہل قلم صحافیوں سے بھی۔ 
 سچ کی صحیح تصویردکھانے والے ٹی وی اینکر پرسنز سے بھی اوغریبوں کی قسمت بدلنے کادعوی کرنے والی این جی اوزسے بھی۔یہ سب ایک ایسی مٹی سے بنے ہوتے ہیں جوذراسی بھی گرمی برداشت نہیں کرپاتی،چٹخنے لگتی ہے، فوراجنریٹراوریوپی ایس لگوالیتی ہے۔کسی ٹریفک کے رش میں پھنس جائیں توان کافشار خون تیز ہو جاتاہے۔پریشانی میں’’جاہل قوم‘‘ کو اول فول بکناشروع کر دیتے ہیں،لفٹ بند ہوجائے، ہڑتال ہوجائے،جہازلیٹ ہوجائے،پٹرول پمپوں کی ہڑتال ہوجائے،چاردن بارش نہ ہو،کہیں سڑک پر گڑھاہو اورگاڑی دھڑام سے اندر جاگرے۔غرض روزمرہ کی کسی بھی مشکل میں انہیں اپنے یورپ اور امریکامیں گزارے ہوئے دن شدت سے یادآتے ہیں اورپھریہ اس جاہل،گنواراوربدتہذیب قوم کوبے نقط سناتے پھرتے ہیں۔ان دنوں ان کی حالت دیدنی ہے بالکل اس شخص جیسی جوکسی ایسی بس میں سوارہوجائے جس کاڈرائیورتیزرفتاری سے گاڑی کوپہاڑی موڑوں پر اس طرح چلارہاہوکہ اب گراکہ گرا،لیکن مشاقی سے چلتاجائے اورسارے رستے میں ان لوگوں کاکلیجہ منہ کوآیاہو،گاڑی سے چھلانگ لگائیں توموت اور بیٹھیں رہیں تودل کی دھڑکن بندہونے کاخطرہ۔ایسے میں ان کووہ لوگ کتنے برے لگتے ہوں گے جوڈرائیورکی مہارت پراس کوداد دیں اورتالیاں بجائیں۔ 
میرے ملک کایہ دانشورطبقہ گزشتہ 72سالوں سے قوم کوخوف کے انجیکشن لگارہاہے اورگزشتہ دودہائیوں میں تواس نے ماہرنشہ والے ڈاکٹر کی طرح حکمرانوں اورصاحبان طاقت کو ایسی گہری  نیندکاانجکشن لگایاکہ وہ خوف کی نیندسے بیدارہوئے بھی ڈرتے ہیں ۔ یہ اب بھی اس عالم خوف کوقوم پرمسلط رکھنا چاہتے  ہیں،لیکن کیاکریں اب معاملہ ہی کچھ اورہے۔
 قصاب کی دوکان پرجب ایک مرغی ذبح کرنے کیلئے نکالی جاتی ہے توباقی مرغیاں سکون کاسانس لیتی ہیں کہ چلوجان بچ گئی، لیکن اب قصاب کاہاتھ توہماری طرف بڑھ رہاہے۔اب قصاب کی سرخ آنکھیں چونچیں مارکرہی پھوڑی جاسکتی ہیں اورناپاک ہاتھ زخمی کئے جاسکتے ہیں۔
لیکن ان خوفزدہ کاسہ لیس اورمرعوب لوگوں کوکون سمجھائے کہ یہ میدان جنگ ان کاہے ہی نہیں۔یہ تونہتے اورغیرت مندلوگوں کی راہ ہے جس پروہ جب چاہیں بے دھڑک چل پڑتے ہیں کہ انہیں کسی چیزیاقیمتی متاع کے لٹ جانے کاخوف ہی نہیں ہوتا۔جن دنوں امریکااپنے پورے وسائل کے ساتھ ایران میں اپنے ناپاک اورخونی پنجے گاڑچکاتھا۔اس کی تربیت یافتہ سفاک ساواک ہزاروں لوگوں کوغائب اورلاکھوں لوگوں کوتماشہ بناچکی تھی،شاہ ایران کواپنی سات لاکھ وفادارفوج کی برتری پرپورا یقین اوربھروسہ تھا ،مغربی طاقتیں اورامریکی مدداس کے شانہ بشانہ کھڑی تھیں،ایسے میں نہتے ایرانی عوام، ہاتھوں میں لاٹھیاں،بھالے یاکوئی سادہ ساہتھیار لئے سڑکوں پرنکلتے توصرف جرات اورجوانمردی ان کے ساتھ ہوتی۔
یہ بے خوفی دنیاکے ہربڑے انقلاب اورہرجنگ میں فتح کے پس پشت رہی ہے۔کیمونسٹ انقلاب جس نے آدھی دنیاکواپنے زیرتسلط کیا اس کیمونسٹ مینی فیسٹوکے آخری فقرے ہیں ’’مزدوروں کواپنی زنجیروں کے سواکھوناہی کیا ہے  اورجیتنے کوپوری دنیاپڑی ہے‘‘جیتنے کی گھڑی انہی کامقدرہوتی ہے جنہیں کسی چیزکے کھونے ،لٹ جانے اورغائب ہونے کا خوف نہ ہو۔
 خوش نصیب ہوتی ہیں وہ قومیں جن کے دلوں سے موت کاخوف نکلنے کالمحہ آجاتاہے۔ایسی قوم کوآج تک کسی بڑی سے بڑی طاقت نے بھی شکست نہیں دی اورہم تووہ خوش نصیب قوم ہیں جن کی پہچان سیدالانبیا ﷺنے یہ بتائی کہ انہیں دنیاسے بے رغبتی ہوتی ہے اورموت کاخوف نہیں ہوتا۔وہ جوپچکے ہوئے گالوں،کمزورجسموں اورفرسودہ تلواروں سے دنیا کی دوعالمی طاقتوں قیصر وکسری سے ٹکراگئے تھے اورتاریخ کاوہ سبق زندہ کردیاتھاکہ فتح آج تک اسباب سے نہیںغیرت،عزت،حمیت،جوانمردی،حوصلہ اور جرات  جیسے اوصاف سے ہوتی ہے۔یہ سبق بربروں سے منگولوں تک،مسلمانوں سے یورپ کے قزاقوں تک اورویتنام،انگولا ، ہنڈراس کے نہتے عوام تک سب نے تحریرکیااورزندہ رکھا اوراب کشمیرکی باری ہے۔فتح نہتے عوام کامقدرہواکرتی ہے۔ظالم خواہ اپناہویاباہرسے آکرمسلط ہوجائے رسواکن شکست اس کامقدرہوتی ہے۔خوفزدہ لوگوں کاکیاہے انہوں نے توہرحال میں ڈرناہے،رات کونیندکی گولیاں کھاکرسوناہے۔صبح بلڈپریشرکی کم کرنے کی دوائی لیناہے،شام کوڈیپریشن دورکرنے کانسخہ استعمال کرناہے اور پھرجوجیتے وہی سکندرکانعرہ بلندکرکے کام میں جت جاتاہے ۔