07:41 am
ناروے کا عمر اور پاکستان کے تقی عثمانی

ناروے کا عمر اور پاکستان کے تقی عثمانی

07:41 am

ترکی کے بعد پاکستان نے بھی ناروے میں ہونے والی قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاجی صدا بلند کرکے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے … پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے تو قرآن پاکستان کی بے حرمتی کرنے والے عیسائی شیطان پر حملہ آور ہونے والے مجاہد ’’عمر‘‘ کو سلام عقیدت پیش کیاہے۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے ناپاک جسارت کرنے والے شیطان پر حملہ آور ہونے والے نوجوان عمر کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’تحمل، بردباری اور حکمت اچھی صفات ہیں، بشرطیکہ وہ مداہنت تک نہ پہنچیں … نیز دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کی حرمت کے بارے میں ہر مسلمان کا جذباتی ہونا لازم ہے، ایک قرآن کریم اور دوسری خاتم النبینﷺ کی ذات اقدس، مفتی تقی عثمان مزیدفرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس نوجوان پر اپنی رحمتوں کا سایہ فرمائے جس نے دنیا کو یہ بتا کر فرض کفایہ ادا کیا، کاش اس کے ساتھ میں بھی ہوتا اور اپنا بڑھاپا اس نوجوان پر قربان کر دیتا۔ مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، علامہ خادم حسین رضوی سمیت متعدد علماء حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی ناروے میں ہونے والی اس ناپاک جسارت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ میری خواہش تھی کہ ناروے کے شیطان کے خلاف جاوید غامدی، ڈاکٹر فرحت ہاشمی، علامہ طاہر القادری اور مولانا طارق جمیل بھی مسلمانوں کی آواز میں آواز ملا کر صدائے احتجاج بلند کرتے مگر ’’اے بسا آرزو کہ خاک شد‘‘
یہ تسلیم کیے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کہ سوشل میڈیا نے اس ناپاک جسارت کے خلاف آواز حق بلند کرنے میں اول پوزیشن حاصل کی، ہمارا الیکٹرانک میڈیا تو حسب روایت روشن خیالی کی بھنگ پی کر سویا رہا ، شاید یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک میڈیا سے مسلمان نوجوان دل کھول کر نفرت کااظہار کررہے ہیں ، گو کہ ورجینیا مارکہ غامدی راتب خوروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے شیطان لارس تھورسن پر حملہ کرنے والے مجاہد ’’عمر‘‘ کے خلاف پوسٹیں شیئر کرکے اسے متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی لیکن سوشل میڈیا پر موجود قرآن مقد س کے خدام نے اس ڈالر خور مولوی زادے کی ایک نہ چلنے دی۔
یہ بات اطمینان بخش ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی اور مغربی این جی اوز نے ڈالروں کی چمک کے ذریعے جن چند مولوی زادوں کو گود لے کر مزید صاحبزادوں کو گمراہ کرنے کا مشن سونپا تھا … اب آہستہ آہستہ ان کے منحوس چہرے عوام پر آشکارہ ہوتے جارہے ہیں۔
خاتم الانبیاءﷺ کی حرمت کا معاملہ ہو یا قرآن پاک کی بے حرمتی کا کوئی واقعہ، گمراہ مولوی زادوں کا یہ مخصوص گروہ بجائے اس کے کہ گستاخ، بدمعاشوں کے خلاف آواز بلند کرے الٹا یہ گستاخوں کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو تحمل، برداشت اور صبر کی تلقین کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ بات میرے ذاتی علم میں ہے کہ اسلام آباد کے ایک مہنگے فلیٹ میں رہائش پذیر ایک مولوی زادہ تو باقاعدہ گستاخوں کے خلاف احتجاج کرنے والی نمایاں شخصیات کو ٹیلی فون کرکے تحمل اور برداشت کی نصیحتیں کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتا ، حالانکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ تحمل، برداری اور حکمت اچھی صفات ہیں بشرطیکہ وہ مداہنت تک نہ پہنچیں، امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضور نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی زبان نہیں رہنی چاہیے یا پھر سننے والے کان نہیں رہنے چاہئیں، گفتگو کے دوران ایک دوست نے بتایا کہ مسٹر جاوید غامدی قادیانیوں کو کافر نہیں مانتے، تو میں نے عرض کیا کہ مسلمان کون سا جاوید غامدی کو مذہبی سکالر مانتے ہیں؟ شاید جس امریکی صدر کو سرگودھا کے مجرم عبد الشکور قادیانی نے پاکستان کے خلاف شکایت لگائی تھی ، مسٹر جاوید غامدی کو بھی اسی امریکہ میں ہی پناہ لینا پڑی، الیکٹرانک میڈیا کے بعض اینکرز او ر اینکرنیاں میڈیا پر پابندیوں کی بڑی بات کرتی ہیں … ان سے کوئی پوچھے کہ قرآن مقدس کے دفاع میں آواز اٹھانے سے انہیں کس نے منع کر رکھا ہے؟
تحفظ ختم نبوت ؐ کا معاملہ ہو، ناموس رسالتؐ کا مسئلہ ہو، پاکستان کے اسلامی تشخص کی بات ہو، نظریہ پاکستان کا معاملہ ہو یا اسلام اور پاکستان کے خلاف قادیانی سازشیں، الیکٹرانک چینلز پر کس نے پابندی لگائی ہے کہ وہ ان کا دفاع نہ کریں؟
ہمیں بزدلی ، کاسیہ لیسی، این جی اوز کے دستر خوان کی راتب خوری اور صبروبرداشت میں فرق کرنے کی ضرورت ہے … ’’حکمت‘‘ کا رشتہ جہاد والی عبادت سے ہے، قادیانی کے جہاد مخالف بدبودار موقف کا ’’حکمت‘‘ سے کیا تعلق اور واسطہ؟یہ گورے اور ان کے ڈالر خور پالتو کیا جانیں قرآن کی عظمت و حکمت کو؟
قرآن مقدس تو وہ حکمت بھری کتاب عظیم ہے کہ جس کی حفاظت کا ذمہ خود خالق کائنات نے اٹھا رکھا ہے … صرف امریکہ، یورپ کی یونیورسٹیاں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز میں پڑھائی جانے والی کتابیں ایک پلڑے میں اور قرآن مقدس دوسرے پلڑے میں … قرآن تو وہ کتاب ہے کہ جس کا ایک لفظ پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں ، ورجینیا یونیورسٹی ہو ، آکسفورڈ ہو یا دنیا کی کوئی اور یونیورسٹی وہ کیا جانے حکمت اور صبر کی فضیلت اور اہمیت کو؟
حکمت، صبر اور تحمل کا اصل منبع تو ہے ہی قرآن، لیکن قرآن پاک نے حکمت و تدبر، تحمل و صبر اور جہاد و قتال کو ساتھ ساتھ بیان فرمایا ہے، بے ہمتی، بے غیرتی، بے شرمی اور یورپ کے دستر خوان کی راتب خوری کو ’’حکمت‘‘ قرار دینے والے مولوی زادوں کے منہ پر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے یہ کہہ کر زناٹے دار تھپڑ رسید کیاہے ’’کاش اس کے ساتھ میں بھی ہوتا اور اپنا بڑھاپا اس نوجوان (عمر) پر قربان کر دیتا ‘‘ شہید غازی علم دینؒ کے حوالے سے شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ ’’اسیں دیکھ دے ای رہ گئے تھے تے ترکھانڑا دا منڈا بازی لے گیا‘‘ کہاں ناروے کا عمر اور کہاں علم و تقویٰ کا پہاڑ اسلامی دنیا کا معتبر نام مفتی تقی عثمانی، لیکن قرآن کریم کے تحفظ میں عمر بازی لے گیا، بازی بھی ایسی کہ تقی عثمانی جیسا ولی کامل اس پہ اپنا بڑھاپا نچھاور کرنے کی حسرت کرنے پر مجبور ہو جائے۔
سن لو، کان کھول کر سن لو ! قرآن پاک کا محافظ خود رب ذوالجلال ہے جو قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے شیطانوں سے ٹکرائے گا وہ رب کا دوست بن کر غیرت مند مسلمانوں کے دلوں کا حکمران بن جائے گا۔ امریکہ، اقوام متحدہ، او آئی سی ، دنیا جان لے کہ مسلمان تمام آسمانی کتابوں کے احترا م کو اپنے ایمان کاحصہ سمجھتے ہیں … لیکن اگر کافر قرآن مقدس کی بے حرمتی سے باز نہ آئے تو مسلم نوجوانوں میں پیدا ہونے والا ردعمل سکون کی نیند انہیں بھی نہیں سونے دے گا۔ ان شاء اللہ (وما توفیقی الا باللہ)