07:42 am
ناروے، قرآن مجید کی آتش زدگی، اہم اندرونی کہانی

ناروے، قرآن مجید کی آتش زدگی، اہم اندرونی کہانی

07:42 am

٭ناروے میں قرآن مجید جلانے کا سانحہ، وزیراعظم کی مذمت22O دسمبر، جماعت اسلامی کا اسلام آباد کی طرف غَیرت مارچ کا اعلانO ناروے حکومت کا قرآن مجید جلانے پر سخت اقداماتO مقبوضہ کشمیر: کرفیو کے 115 دنO پی ٹی ایم، نئے ناموں سے ملک میں بغاوت کی سازش، 29 نومبر کو لاہور میں سُرخ جلسہO ٹماٹر، سوات میں فضل تیار ہو گئی، افغانستان سے بھی درآمدO لندن: نوازشریف پرسکون، معمول کے ٹیسٹ، مریم نواز کی حالت خرابOاسفند یار ولی شدید علیل، سات روز آرامO کرکٹ: ایک اور شرم ناک شکست۔
٭ناروے میں قرآن مجید کو جلانے کے اذیت ناک واقعہ پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید اشتعال پھیل رہا ہے۔ اس واقعہ کی ترکی اور پاکستان کی حکومتوں نے فوری مذمت کی۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان  نے بھی سخت نوٹس لیا اور یہ معاملہ اسلامی سربراہی کانفرنس کو بھیجنے کی ہدائت کی ہے۔ اس مذموم واقعہ پر کسی عرب ملک بلکہ کسی دوسرے اسلامی ملک کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جب کہ خود ناروے کی حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ ناروے کے شہر ’کرسٹینڈ سینڈ‘‘ میں جس نوجوان عمر الیاس نے قرآن مجید کو آگ لگانے والے شخص کو لات ماری تھی، اسے پولیس نے رہا کر کے آگ لگانیوالے ملزم لارس تھورسن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کا کئی روز پہلے اعلان کیا جا چکا تھا۔ اس کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ پورے یورپ میںمسلمانوں کے خلاف مختلف تحریکیں چل رہی ہیں۔ اس وقت یورپ میں لاکھوں مسلمان آبادہیں ان کی اکثریت افریقہ اور فلسطین کے مسلمانوں کی ہے۔ ناروے کے شہر ’کرسٹنڈ سینڈ‘ کی آبادی 80 ہزار ہے۔ اس میں دو ہزار مسلمان شامل ہیں۔ ان میں بیشتر افراد کا تعلق صومالیہ، شام، عراق اور فلسطین سے ہے۔ کچھ تعداد بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کی بھی ہے۔ مجموعی طور پر ناروے میں آباد مسلمانوں کی آباد 30 محتلف قوموں سے تعلق رکھتی ہے۔ ناروے مذہبی رواداری کے معاملہ میں بہت اچھی شہرت رکھتا ہے۔ یہاںتک کہ مسلمانوں کو مساجد بنانے میں سرکاری امداد بھی دی جاتی ہے۔ وہاں آنے والی تبلیغی جماعتوں کو باآسانی ویزے دیئے جاتے ہیں اور رہائش وغیرہ کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عام انسانی قوانین کے مقابلے میں مذہبی اخلاقیات زیادہ موثر ثابت ہوتی ہیں۔
اب اس اذیت ناک واقعہ کا بیان: ’’کسٹینڈ سٹینڈ‘‘ شہرمیں تین سال قبل ایک لادین شخص ارنے تھومیر نے ناروے میں اسلام کی اشاعت روکنے کے نام پر ایک تنظیم ’سیان‘ تیار کی۔ اس کا بیانیہ یہ تھا کہ اسلام دہشت گردی کا دین ہے اور مسلمان دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں، انہیں ناروے سے نکالا جائے۔ اس تنظیم کو خاص پذیرائی نہ مل سکی۔ ناروے کے عوام نے اسے نظر انداز کر دیا اس کے تھوڑے سے ارکان ہیں جو سب لادین اور ملحد ہیں۔ تقریباً دس روز قبل ’ارنے تھومیر‘ نے اعلان کیا کہ اس کی تنظیم جمعرات کے روز شہر کے ایک پارک میں قرآن مجید جلائے گی۔ اس پر ناروے کی حکومت اور کرسٹینڈ شہرکی سٹی کونسل نے اعلان کی مذمت کی اور اسے روکنے کا اعلان کیا۔ سٹی کونسل، شہر کی واحد جامع مسجد کی انتظامیہ اور شہر کے پولیس کمشنر کے اجلاس میں اس اعلان کی مذمت کی گئی اور اس کو روکنے کا اعلان کیا گیا۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ ملک کے قوانین کے تحت ہر شہری کو اظہار خیال کی آزادی ہے مگرکسی کے مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وقوعہ کے روز’ارنے تھومیر‘ تقریباً آٹھ دس ساتھیوں کے ہمراہ مذکورہ پارک میں پہنچا۔ وہاں پولیس اور مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی جمع ہو گئی۔ تھومیر نے ہاتھ میں قرآن مجید اٹھایا ہوا تھا۔ اس نے تقریر کے لئے قرآن مجید کو ایک سٹینڈ پر رکھا، پولیس نے فوراً اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔ اس اثنا میں ایک دوسرے شخص لارس تھورسن نے تھیلے سے قرآن مجید کا ایک نسخہ نکالا اور اسے آگ لگا دی۔ اس پر ایک مسلمان نوجوان عمر الیاس (اس کے دو نام اور بھی ہیں) بھاگتا ہوا آیا اوار تھورسن پر جھپٹ پڑا، اسے گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیا اور پورے زور سے ٹانگ مار دی اور قرآن مجید کے جلتے ہوئے باقی حصے کو بچا لیا۔ وہاں موجود پولیس عمر الیاس پر جھپٹ پڑی اسے اور لارسن تھورسن کو حراست میں لے لیا۔ ایک اور پہلو قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو ہوا اور اگلے روز شہر کے مختلف مذہبی مسالک کے نمائندہ افراد نے ایک گروپ کی شکل میں تیز برستی سرد بارش میں جامع مسجد کے باہر پہرا دے کر مسجد کے اندر نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کی حفاظت کی۔ ان تمام نمائندوں نے مسلمانوں کے مکمل تحفظ کا یقین دلایا۔ کچھ دوسری باتیں۔
٭ٹیلی ویژن پر ایک منظر دیکھ رہا ہوں کہ گوجرانوالہ میں نوشہرہ روڈ پر گورنمنٹ ایلیمنٹری گرلز ہائی سکول کے سامنے کئی روز سے سڑک پر دور تک گٹر کا گہرا پانی پھیلا ہوا ہے اور اساتذہ و طالبات اس گندے پانی میں سے گزر کر جا رہی ہیں۔ گوجرانوالہ میں ایک کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کارپوریشن اور مختلف سیاسی اکابرین موجود ہیں۔ مگر!! کو  ئی حکومت؟ کوئی انتظامیہ؟ کیا تبصرہ کیا جائے!
٭ستم ظریفی !! مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور جبر و استبداد کو 115 دن ہو رہے ہیں۔ اس کے خلاف موثر احتجاج کے لئے پنجاب حکومت نے گورنر ہائوس میں ناچ گانے کے ایک کنسرٹ کا اشتہار شائع کر دیا۔ اس پر عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا تو اسے منسوخ کر دیا گیا! اس پر کیا لکھوں؟ کشمیر کے ایک لاکھ سے شہدا اور موجود 80 لاکھ قیدیوں کی حالت زار پر ناچ گانے کا اعلان! استغفار! یہ اذیت ناک پروگرام گورنر ہائوس میں گورنر کی منظوری کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ گورنر صاحب! میں سیدھا سوال کر رہا ہوںکیا آپ نے واقعی اس پروگرام کی منظوری دی تھی؟
٭’حسب توقع‘ لندن میں نوازشریف ’بخیریت‘ ہیں۔ عام معمول کے رسمی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ اپنے بیٹے کے محل میں پرسکون آرام کر رہے ہیں! پاکستان میں تھے تو ہر وقت ان کی ’انتہائی نازک‘ حالت کا شور مچا رہتا تھا۔ اب خاموشی چھائی ہوئی ہے! سات سال قید، اربوں جرمانہ اور لندن کے شاہی محل میں استراحت!!
٭مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کے بعد سڑکوں پر عوام کی آمدورفت روکنے کے مرحلے ختم ہو گئے۔ اب شہر شہر میں جلسوں کا اعلان ہوا ہے۔ ان کے لئے آج کل پارٹیز کانفرنس بلا لی ہے۔ عالم یہ ہے کہ ن لیگ کے صدر شہباز شریف نامعلوم عرصے کے لئے لندن میں ہیں، بلاول کراچی میں اور اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اچانک شدید علیل ہو گئے ہیں۔ انہیں ڈاکٹروں نے ایک ہفتہ مکمل آرام اور کسی قسم کی سرگرمی سے گریز کرنے کی ہدائت کی ہے، ان لوگوں کے بغیر آل پارٹیز کانفرنس!!!
ٹماٹر: اچھی خبر کہ سوات میں ٹماٹر کی فصل تیار ہو گئی ہے اور منڈیوں میں ٹماٹر پہنچنے لگے ہیں۔ سوات میں ہر سال تقریباً 70 ہزار ٹن ٹماٹر پیدا ہوتا ہے۔ ایران کے بعد اب افغانستان سے بھی ٹماٹر آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قلت اور مہنگائی کم ہو جائے گی!
٭کرکٹ: قومی ٹیم کی مسلسل 7 ویں شرم ناک شکست! مگر اسے ذلیل کرانے والے کرکٹ بورڈ کے 32,32 لاکھ روپے ماہوار تنخوا لینے والوں کو کوئی شرم نہیں آئے گی۔ معذور، مفلوج، لولی لنگڑی ٹیم ذلیل و خوار ہوتی رہے، ان بڑی بڑی عِفریتوں کے غول بیابانی کو ٹیم کے ساتھ ملکوں ملکوں عیش و عشرت کے سفر کے جو مواقع ہاتھ آ رہے ہیں، انہیں کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟
٭ آزادی مارچ کی بے مثال ’کامیابی‘ کے بعد اب جماعت اسلامی کو جوش آیا ہے اور 22 دسمبر کو حکومت ختم کرنے کے لئے اسلام آباد پر غیرت مارچ کے یلغار کا اعلان کر رہا ہے۔ آزادی مارچ کی تعداد 15 لاکھ بتائی گئی تھی، ’غیرت مارچ‘ کی تعداد نہیں بتائی گئی!