07:43 am
اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

اب دیکھناہے کتنا زور بازو عادل میں ہے

07:43 am

گذشتہ دنوں جب جناب وزیراعظم نے جوش خطابت میں فرمایاتھا کہ ملک میں امیر کیلئے قانون اور ہے غریب کیلئے قانون اور ہے اس سے پہلے بھی یہ بات وہ بار بار دھراتے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں جناب چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ نے دو ٹوک انداز میں ارشاد فرمایا تھا  کہ قانون سب کے لے ایک ہے قانون انصاف کیلئے اپنارستہ خود بناتاہے اس کے بعد ایک اور بیان میں فرمایاتھا کہ جھوٹی گواہی کے خاتمے کیلے سخت سزا تجویز کی جا رہی ہے یہ بھی کہاکہ عدلیہ مکمل آزاد ہے عدالتیں کسی دبائو کوقبول نہیں کرتیں۔ ابھی ان آوازوں کی گونج تھمی نہیں ہے کہ حکومت عدلیہ کے سامنے دیوار بن کرکھڑی ہوگئی ہے ابھی فارن فنڈنگ پر ہی واویلا ہورہاتھا حکومتی ارکان اپناپورا زور سرف کررہے تھے کہ الیکشن کمیشن کسی طرح کسی بھی قیمت پر حزب اختلاف کے مطالبے کے مطابق کوئی فیصلہ فارن فنڈنگ کیس کا فلحال ناکرے جبکہ اس کیس کافیصلہ تیار ہے صرف صادر ہوناہے اسکورٹنی کمیٹی کی رپورٹ کاانتظار ہے جو تحریک انصاف کی تاخیری حربوں کی وجہ سے رکی ہوئی تھی۔ 
 
حزب اختلاف کے مطالبے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے روز انہ کی بنیاد پر ہیرینگ کافیصلہ تسلیم کرکے اس دیرینہ مقدمہ کونمٹانے  کافیصلہ کیا تو تحریک انصاف جس کی حکومت ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار کاڈنڈا ہے اس کے ہاتھ پیر پھول گے وہ کوشش کررہی ہے کہ فلحال فارن فنڈنگ کامعاملہ التوا ء میں ہی رہے شاید حکومت کوخطرہ ہے کہ کہیں درست معلومات جو ان کے  فائونڈر ممبر جو تحریک انصاف کے گھر کے بھیدی ہیں اکبر ایس بابر نے دے رکھی ہیں۔ وہ اگر الیکشن کمیشن نے تسلیم کرلیں تو تحریک انصاف زمین بوس ہوسکتی ہے اور اس کے اقتدار کادھڑن تختہ بھی ہوسکتاہے ابھی اس معاملے میں حکومت کی طرف سے پورا زور لگایاجارہاہے اس کے باوجود   روزانہ کی بنیاد پر سنوائی ہوگی حکومت کی تمام کوشش کے باجود الیکشن کمیشن اپنے موقف پرقائم ہے حکومت کو کوئی خاص  کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ابھی فارن فنڈنگ میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑا ہوگیا ہے۔  جنرل مشرف غدار کیس جوبرسوں سے التوا میں جنرل صاحب کی غیر حاضری کی وجہ سے پڑا تھاکیونکہ عدلیہ کے بار بار بلاوے کے باوجود جنرل صاحب حاضر نہیں ہوئے توعدالت نے حسب قانون ان کیخلاف مقدمہ کے فیصلہ سنانے کی تاریخ دے دی تو حکومت جو کل تک جنرل مشرف کیخلاف بیان بازی کررہی تھی اب جب فیصلہ سنایا جانے کوہے تو یہاں  حکومت اچانک گہری نیند سے بیدار ہوکرعدلیہ کے سامنے دیوار کھڑی کررہی ہے اور چاہتی ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ موخر کردیا جائے کل تک جو حکمران یہ کہتے نہیں تھک رہے تھے کہ امیر کیلئے قانون اور اور غریب کے لے قانون اوراب جبکہ ایک امیر کے مقدمہ کافیصلہ ہونے جارہاہے توناہی موجودہ  حکومت نے ناہی سابقہ حکومت نے جنرل مشرف کوکسی رورعایت کامستحق جانا اب اچانک ایسا کیا گل کھلا کہ حکومت سب اعتراضات اورالزامات بھول کر جنرل صاحب کی پشت پنابن گئی ہے اور عدلیہ کے سامنے آکھڑی ہورہی ہے۔ 
حکومت اورعدلیہ کے درمیان عوام کھڑی ہے وہ دیکھناچاہتی ہے کہ جو حکومت کل تک عدلیہ کی آزادی پراپنے شکوک وشبہات کااظہار کرتی رہی ہے اور خواہش مند رہی ہے کہ عدلیہ دُہرامیعار نااپنائے قانون جوامیر کیلئے ہووہی قانون غریب کیلئے بھی ہو۔ کیاحکومت کے اس اقدام کو یہ سمجھاجائے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اوریایہ کوئی نیا یوٹرن ہے اب دیکھناہے کہ پاکستان کی عدلیہ کیسے اس سرکاری دیوارکو گرا کر یاپھلانگ کراپناراستہ بناتی ہے یقینا عدلیہ کیلئے یہ بہت بڑا اور اہم معرکہ سر کرناہوگا۔ 
کچھ ماہرین قانون جوحکومت کے طر فدار ہیں کا کہناہے کہ یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے چیف جسٹس جلد ریٹائرڈ ہورہے ہیں وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی رخصتی میں کوئی اڑچن پیدا ہو ایساہی معاملہ چیف الیکشن کمشنر کابھی ہی وہ بھی رخصت ہونیوالے ہیں وہ بھی کچھ نہیں کرسکیں گے جبکہ حکومت مخالف گروہ کے قانون دانوں کاخیال ہے کہ ناتوچیف الیکشن کمشنر اورناہی چیف جسٹس آف پاکستان اپنی رخصتی سے خوف زدہ ہونیوالے ہیں وہ اپنے قول کے پکے اور مضبوط کردار کے حامل ہیں وہ دونوں کسی دبائو کسی مجبوری کے شکار نہیں ہونے والے وہ دونوں ہی قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے ہیں ان شا اللہ چیف الیکشن کمشنر اپنے کردار پر کوئی کسی طرح کادھبہ لگنے نہیں دے گے اور ناہی جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کسی دبائوسے خوف زدہ ہونیوالے ہیں ویسے بھی دونوں چیف صاحبان کو اپنی مدت ملازمت میں کسی طرح سے توسیعی کی ناامید ہے ناہی انہوں نے کوئی کوشش کی ہے سپہ سالار کی بات اور ہے ان کی مدت میں توسعی کامعاملہ الگ ہے اس لئے امید کی جاسکتی ہے دونوں ہی چیف صاحبان بلا خوف وخطر قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرے گے یہ اور بات ہے کے حکومت کے حرکارے پوری زور آزمائی ضرور کریں گے یقینا ان کی کوشش ہوگی کے کسی بھی طرح دونوں مقد مات موخر کردئیے جائیں ۔

تازہ ترین خبریں