07:43 am
رسول رحمتﷺ

رسول رحمتﷺ

07:43 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
آپؐ کی رحمۃاللعالمینی کا ایک پہلو تو وہ تھا جسے عہدِ نبویؐ میں صحابہ کرامؓ بھی محسوس کر رہے تھے اور آپؐ کے دوست ہی نہیں دشمن بھی اس سے فیض پا رہے تھے اور ہر مسلمان کے دل میں حضوراکرم ﷺ سے والہانہ محبت ہوتی تھی آپؐ کی نرمی ،خوش اخلاقی اور رحمۃاللعالمینی کی وجہ سے ہر شخص براہِ راست یہ محسوس کرتا تھا کہ شاید میں محمدرسولﷺ کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔آپؐ کی جودوکرم اور خلقِ عظیم کی انتہا یہ ہے کہ حضر انس ؓ دس سال تک آپؐ کے خادم رہے ،مگر آپؐ نے ایک مرتبہ بھی انہیں نہیں جھڑکا۔
آپؐ کی رحمت اور عفوودرگزر کا ایک عظیم الشان مظاہر ہ فتح مکہ کے موقع پر ہوا کہ آپؐ نے اپنے سخت ترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔وہ لوگ کہ جنہوںنے تیرہ برس تک مکے میں اور دس برس تک مدینے میںآنحضور ﷺ فافیہ حیات تنگ کیا اور آپؐ کے صحابہ ؓ اور خود آپؐ کو ایذائیں پہچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اسلام کو مٹانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا تھا ،مکہ فتح ہو جانے پر وہ آپؐ کے رحم وکرم پر تھے مگر آپؐ کی کریم النفس ہستی نے فرمایا :’’میں آج تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو میرے بھائی یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی ،جائو تم سب آزاد ہو ۔آپؐ کی رحمت کا صحابہؓ بلکہ غیر مسلموںکو بھی قدم قدم پر مشاہدہ ہو رہا تھا۔
اسی رحمت کا ایک پہلو یہ ہے کہ آپؐ نے حیوانات کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کی تعلیم دی،اور اس بات سے سختی سے روکا کہ ان پر ظلم کیا جائے ۔اس سلسلے میں کئی احادیث ہیں ۔حضرت جابرؓسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ کے سامنے سے ایک گدھاگزرا ،جس کے چہرے پرداغ دیا گیا تھا تو آپؐ نے فرمایا :’’اللہ ایسے آدمی پر لعنت کرے کہ جس نے اس گدھے کے چہرے کو داغا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)
حضر ت سہل بن حنظلیہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ (بھوک کی وجہ سے )پیٹھ سے لگ گیا تھا۔اس کو دیکھ کر آپؐ نے فرمایا :’’(لوگو!)ان بے زبانوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ،ان پر اچھی سواری کر و اور اچھا کھلائو پلائو۔‘‘(سنن ابو دائود)اس کے علاوہ آپؐ کی رحمت کا ایک پہلو ہو ہے جس کا تعلق حیاتِ اخروی سے ہے اور یہ رحمت وہ ہے جو قیامت کے دن ظاہر ہو گی۔
سوچنے کی با ت یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی امت خود اس وقت اللہ کی رحمت سے محروم ہے ۔اس پر ذلت اور مسکنت کا عذاب مسلط ہے اور آپؐ کی پیشن گوئی کے عین مطابق اقوامِ عالم اس پر یلغار کر رہی ہے اور ایک دوسرے کو اس پر ٹوٹ پڑنے کی دعوت دے رہی ہیں۔دشمنوں کے دلوں سے مسلمانوںکی ہیبت نکل چکی ہے ،اور وہ اس قدر بے وقعت ہو چکے ہیں جیسے سیلاب کے اوپر جھاگ ہوتا ہے کہ نظر تو آتا ہے مگر اس کی کوئی حقیقت اور وزن نہیں ہوتا ۔یہ صورتحال کیوں ہے اور آپؐ کی رحمتِ خصوصی کا ظہور ہو تو کیسے ہو؟مجھے حضورﷺ کا ایک فرمان یاد آ رہا ہے ۔آپؐ نے فرمایا :’’ہر مسلمان،ہر مومن جنت میں داخل ہو گا،سوائے اس کے جو خود ہی انکا ر کردے ۔پوچھا گیا:یا رسولاللہ ﷺ وہ (بد بخت اور شقی )کون ہو گا جو جنت میں جانے سے انکار کردے ۔آپؐ نے فرمایا:جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جس نے میری نافرمانی کی (میری تعلیما ت اور میری سنت سے ہٹ کر بلکہ مخالفت کر کے زندگی گزاری )گویا اس نے خود ہی (جنت میں جانے سے)انکار کر دیا ۔‘‘ آپؐ کی رحمت تو عام ہے یہ تمام جہانوں کے لئے ہے ۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج ہم خود ہی اس سے فائدہ اٹھانے سے انکار کئے بیٹھے ہیں ۔دنیا میں اس رحمت کا اصل ظہور تب ہوا تھا جب نبی اکرمﷺ نے وہ نظام قائم کر کے دکھا دیا تھا،جسے دے کر آپؐ کو بھیجا گیا ۔ افسوس کہ امت نے اس نظامِ الٰہی سے منہ موڑ رکھا ہے۔
حضور ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے نوع ِ انسانی کو دو عظیم ترین تحفے دئیے ہیں ۔ایک تحفہ الہدیٰ قرآنِ حکیم ہے جو انسانوں اور جنات کے لئے بھی رحمت ہے۔یہ ان کی ابدی کامیابی کے لئے عظیم ترین رہنما کتاب ہے۔جو ہدایت کے بہت واضح دلائل پر مبنی ہے۔جو شخص اسے تھامے گا وہ جہنم سے بچ کر جنت تک پہنچ جائے گا اور جو قوم اسے رہنما بنائے گی ،وہ سر بلند ہو گی۔یہ کتاب انسانوں کے لئے اللہ کی رحمت کا سب سے بڑ ا مظہر ہے۔دوسرا تحفہ جو اللہ نے دیا وہ دینِ حق یعنی عدل وانصاف پر مبنی نظام(system of social justice)ہے۔قرآن مجید میں ان عظیم ترین تحفوں کا تذکرہ آپؐ کے مقصد بعثت کے حوالے سے تین مقامات پر ہو اہے۔’’وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا ،تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے۔‘‘(سورۃالتوبہ: ۳۳، سورۃ الصف۰۹،سورۃ الفتح۲۸)
رسول اکرمﷺ صرف داعی بن کر نہیں آئے،صرف مبشر اور منذر بن کر نہیں آئے،صرف ہدایت کا ایک روشن چراغ بن کر نہیں آئے ۔اگر چہ یہ سارے اوصاف بھی آپؐ کی ذات گرامی میں جمع ہیں۔مگر آپؐ کی امتیازی شان یہ ہے کہ آپؐ اس دین حق کو اللہ کے عادلانہ نظام اجتماعی کو زمین پر قائم اور غالب کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ۔دیکھئے کتابیں قرآن حکیم سے پہلے بھی آئے ہیں مگر قرآن کریم کامل ترین ہدایت کا آخری ایڈیشن ہے۔یہ قیامت تک آنے والے تما انسانوں کی ہرمعاملے میں رہنمائی کرتا ہے۔اسی طرح اسلامی شریعت سے پہلے بھی شریعتیں آتی رہی ہیں، مگر حضور ﷺ کو جو شریعت اور کامل ترین نظام عدل دیا گیا وہ تمدن وار تقا کی منزلیں طے کرتے انسان اور معاشرے کے لئے ہر دور میں عدل پر مبنی اعلیٰ ترین نظام ہے۔
(جاری ہے)