07:45 am
 سی پیک سے متعلق امریکہ کیوں پریشان ہے؟

 سی پیک سے متعلق امریکہ کیوں پریشان ہے؟

07:45 am

 ایلس ویلز امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق امور کی وزیر ہیں۔ وہ اکثر اس خطے کے بارے میں اپنے خیالات کااظہار کرتی رہتی ہیں۔ اس دفعہ انہوں نے وڈرو ولن سینٹر میں فکرودانش کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے سی پیک سے متعلق اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ’’ چین اور پاکستان کے درمیان اس اقتصادی راہ داری سے پاکستان کی معیشت کو آئندہ زبردست نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دراصل اس منصوبے سے سراسر فائدہ چین کو ہی ہورہاہے‘‘۔ انہوں نے سی پیک سے متعلق مزید منفی خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ پاکستان کو چین کا قرضہ اتارنے کیلئے بڑی مشکلات کاسامنا کرنا پڑے گا۔ اس سیمینار میں موجود یقینا بھارتی صحافیوں کو بڑی خوشی ہوئی ہوگی کیونکہ بھارت وہ واحد ملک ہے جو امریکہ سے بھی پہلے سی پیک کے خلاف بیانات دیتارہاہے۔ بلکہ بھارت کے پاکستان دشمن وزیراعظم نریندر مودی نے سی پیک کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کرنے کیلئے 74کرڑو ڈالر کی رقم مختص کی تھی جوپاکستان کے اندر اور باہر ان عناصر میں تقسیم کی گئی تھی جوسی پیک کے منصوبے سے متعلق پاکستان کے عوام میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پھلائیں تاکہ یہ منصوبہ پائے تکمیل نہ پہنچ سکے۔
اب امریکہ کی جنوبی ایشیا سے متعلق وزیر کے بیانات سے یہ ظاہرہورہاہے کہ امریکہ اس منصوبے کے خلاف کھل کر سامنے آگیاہے اس کی وجوہات کیاہیں؟۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ چین کی غیرمعمولی اقتصادی ترقی سے خوف زدہ ہوگیاہے‘ ون بیلٹ ون روڈ(one belt. one road) چین کا ایک ایسا عالمی اقتصادی منصوبہ ہے جواگر مکمل ہوگیا تو مغربی دنیا اس کا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔ دوسرا یہ کہ سی پیک کے ذریعہ گوادر پورٹ کے مکمل ہوجانے سے چین کو براہ راست مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اپنا سامان بھیجنے میں آسانی پیدا ہورہی ہے۔ کاشغر اور گوادر کے درمیان فاصلہ سکڑ گیاہے۔ اب چین کا سامان کاشغر سے گوادر پورٹ تک لانے میں صرف بارہ دن لگ رہے ہیں جبکہ ماضی میں شنگھائی پورٹ سے برآمدی سامان کو دیگر ممالک میں بھیجنے میں تین ماہ کی کاعرصہ درکارہوتاتھا۔ تیسرا یہ کہ گوادر پورٹ پر چین کی موجودگی سے بحرہند میں بھارت اورامریکہ کی اجارہ داری کوخطرہ لاحق ہے (نیوی کے حوالے سے) بلکہ امریکہ نے تومتعدد بار اپنے ان خدشات کااظہار کرچکاہے۔ تاہم پاکستان کو امریکہ بہادر کی سی پیک سے متعلق فکرمند یا پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ یہ اقتصادی منصوبہ دوآزاد ملکوں کے درمیان عوام کی ترقی اور خوشحالی کامنصوبہ ہے۔ جو نہ صرف پاکستان کے لئے game changerثابت ہورہاہے بلکہ اس خطے کے ان ممالک کیلئے بھی جواس میں شامل ہوناچاہتے ہیں۔مزید براں چین وہ واحد ملک ہے جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کیلئے اتنی بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ (60بلین ڈالر) اوراس حکمت عملی کے تحت کی ہے کہ اس کے ذریعہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی اور عوام کے معاشی حالات میں تبدیلیاں  رونما ہوسکیں گی اور  پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے گا۔ 
 جب سے یہ منصوبہ شروع ہوا ہے‘ یعنی 2014ء سے اب تک 75ہزار افراد کو نوکریاں مل چکی ہیں۔ جس میں زیادہ تر بلوچی عوام شامل ہیں۔ جن کی سوچوں میں اب تبدیلیاں آرہی ہیں۔ اسی طرح سکھر ملتان موٹروے کی تعمیر میں ہزاروں افراد کوروزگار کی سہولتیں مہیا ہوئی ہیں اس وقت تقریباً100سے زائد پاکستان کے چھوٹے بڑے ادارے سی پیک کے تحت ذرائع حمل ونقل کی تعمیر میں شامل ہوئے ہیں۔ جنہوں نے ریکارڈ مدت میں ان منصوبوں کو مکمل کیاہے۔ اس وقت سی پیک کے ذریعہ سڑکوں کی تعمیر کا منصوبہ مکمل ہوچکاہے۔ اب سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہورہاہے جس میں اکنامک زونز کی تعمیر شامل ہے جس کے لئے زمین پہلے ہی الاٹ ہوچکی ہے۔ دراصل امریکہ کی ناراضگی کی وجہ یہ بھی ہے کہ سی پیک کے ذریعے بلوچستان کا صوبہ ترقی کررہاہے۔ بھارت اور افغانستان امریکہ کی شہ پر بگڑے ہوئے بلوچی نوجوانوں کو اس منصوبے کے خلاف استعمال کررہے تھے۔ بلوچی نوجوانوں کو اب احساس ہوچکاہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیاہے انہیں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اب وہ ان ممالک کی چالوں میں نہیں آئیں گے۔ وہ سی پیک سے  بھرپورفائدہ اٹھانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔گواردر میں چین کی مدد سے تربیتی ادارے بن چکے ہیں‘ جہاںان بلوچی نوجوانوں کو جدید خطوط پر تربیت دے کر ہنرمند بنایاجارہاہے۔ نیز گوادر شہر اور اس کے قریب وجوار میں پینے کے صاف پانی کیلئے سمندر کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کیلئے ایک جدید پلانٹ بھی زیرتعمیر ہے۔
اس طرح بلوچستان کے عوام کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہروں‘ اور صوبوں میں سی پیک کے ذریعہ نمایاں تبدیلی کے آثار دیکھے جاسکتے ہیں۔ چین وہ واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی انرجی ضروریات کو پوراکیا ہے۔ 2014 ء سے قبل پاکستان میں بجلی کا شدید بحران تھا کئی کئی گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ ہورہی تھی۔ صنعتی ‘ زرعی پیداوار گررہی تھیں۔ امریکہ کو پاکستان کی بجلی کی ضروریات سے متعلق صورتحال سے آگہی تھی۔ لیکن اس نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔ چین نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے اور بجلی کی پیداوار میں خاصہ اضافہ کردیاہے اس لئے امریکہ کو سی پیک ناگوار گزررہاہے حالانکہ پاکستان نے امریکی صنعتکاروں اورتاجروں سے بھی یہی کہا ہے کہ وہ اس منصوبے میں شرکت کرکے پاکستان کی معیشت کو توانا بنانے میں مدد کریں۔ ہوسکتا ہے کہ آئندہ امریکہ کے صنعتکار اس منصوبے میں شامل ہوکر خود اپنی اور پاکستان کی مدد کریں گے۔ محض اس منصوبے پر تنقید کرکے نہ تواس منصوبے کوختم کیا جا سکتا ہے  اور نہ ہی چین اور پاکستان کے درمیان کسی بھی قسم کی غلط فہمی پیدا کی جاسکتی ہے۔ چین اور پاکستان کی دوستی نہ صرف پائیدار ہے بلکہ جدید عہد کے تمام معاشی‘ سیاسی اور معاشرتی تقاضوں کوپورا کررہی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ پچاس سالوں کے دوران امریکہ کے ساتھ سیاسی ومعاشی تعلقات قائم رکھنے کیلئے ہرقسم کی قربانی دی ہے۔ اور اس کی خاطر افغانستان میں جنگ بھی لڑی ہے۔ لیکن اس کا ثمر پاکستان کو کیا ملا؟ امریکہ نے پاکستان کے دشمن نمبر ایک بھارت کو پاکستان کے سر پرکھڑا کردیاہے تاکہ پاکستان مسلسل دبائو میں رہے اور ترقی کی منازل طے نہ کرسکے۔ بلکہ اگر کشمیر کے مسئلہ پر پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو اس کی ذمے داری بھی امریکہ پر عائد ہوگی۔ چین کے وزیرخارجہ نے صحیح کہا ہے کہ’’ امریکہ پوری دنیا میں امن کادشمن ہے ‘ وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ہراس ملک کو تباہ وبرباد کرناچاہتاہے جواس کی جی حضوری نہ کرے‘‘۔ اس کی تازہ مثال مشر ق وسطیٰ میں دیکھی جاسکتی ہے ‘ امریکہ نے شام اور لیبیا کو تباہ کیاہے اور اب دوبارہ عراق کوتباہ کرنے کی کوشش کی جارہی  ہے ۔ ایران بھی اس کی زد میں ہے۔ چنانچہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت بیدار ہوچکی ہے اب وہ کسی دوسرے ملک کا آلہ کار بن کر پراکسی وار نہیں لڑیں گی۔ وہ اپنے وطن کی بقا ‘ سلامتی اور معاشی خوشحال کے لئے جدوجہد کریں گی تاکہ وہ پاکستان ازسرنو معرض وجود میں آسکے جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح چاہتے تھے۔