07:45 am
ہمارے وزیر مشیر اور پنجاب حکومت

ہمارے وزیر مشیر اور پنجاب حکومت

07:45 am

بادشادہ سلامت کے ایک صوبائی وزیر باتدبیر نے عوام کو مفت مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی استعمال کریں‘‘ کوئی مفت مشورہ دینے والے شوکت یوسفزئی سے پوچھ کر عوام کو بتائے کہ ڈیزل‘ پٹرول بھی مہنگا ہے‘ کیا ڈیزل اور پٹرول کی جگہ عوام گاڑیوں کا پہیہ  چلانے کے لئے ’’پانی‘‘ کا استعمال شروع کر دیں؟ بجلی‘ گیس مہنگی ہے کیا بجلی کی جگہ عوام لالٹینیں اور موم بتیاں جلانا شروع کر دیں؟ چینی‘ آٹا‘ کوکنگ آئل‘ ادویات‘ غرضیکہ ضروریات زندگی کی ہر چیز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے‘ بادشاہ کے ’’وزیر‘‘ قوم کو مشورہ دیں کہ وہ ضروریات زندگی کی ان چیزوں کے متبادل کن سستی اشیاء کا استعمال شروع کر دیں؟ ایک مشیر خزانہ ہیں جن کا نام ہے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ‘ یہ وہی حفیظ شیخ ہیں جنہوں نے چند دن قبل فرمایا تھا کہ ٹماٹر 17روپے کلو ہیں۔ اب انہوں نے نیا فرمان جاری کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ حکومت کے پاس نوکریاں دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ شوکت یوسف زئی اور عبدالحفیظ شیخ کے بیانات پر سوالات کا ایک نیا گھنا جنگل اُگ آیا ہے۔ ان سوالات سے پہلے عام پاکستانیوں کی سوچ شیئر کرنا چاہتا ہوں‘ جو سوچتے ہیں کہ آخر ایسے لوگوں کو بادشاہ کا ’’وزیر‘‘ بناتا کون ہے؟ ارے حکمرانوں! اگر آپ ٹماٹر سستے کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تو عوام کے زخموں پر نمک تو نہ چھڑکو؟
صرف ’’ٹماٹر‘‘ کا متبادل اگر ’’دہی‘‘ ہے تو باقی مہنگی اشیاء خوردونوش کا متبادل بھی بتائو؟ آخر یہ غریب عوام جائیں تو جائیں کہاں؟ مشیرخزانہ کا یہ بتانا قوم کیوں تسلیم کرے کہ حکومت کے پاس نوکریاں دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں‘‘ جبکہ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت نے صرف گیارہ ماہ میں کرتار پور میں اربوں روپے کی لاگت سے سکھوں کو دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ تعمیر کرکے دیا۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت قومی خزانے سے چار سو مندروں کی تعمیر‘ تزئین و آرائش کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت کا ہر وفاقی وزیر و مشیر ہر ماہ قومی خزانے کو چار لاکھ سے زیادہ کا پڑتا ہے‘ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی نے سب سے پہلے اپنی تنخواہوں میں اضافے کا بل خود ہی پاس کیا‘ اور وہ تنخواہیں بھی قومی خزانے سے ہی ادا کی جاتی ہیں۔ مشیر خزانہ سے کوئی پوچھے کہ تمہاری حکومت کے پاس صرف عوام کو نوکریاں دینے کے لئے ہی پیسے نہیں ہیں۔ باقی اللے‘ تللوں کے لئے تو بہت پیسے ہیں۔
اگر عوام کو نوکریاں دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں تو گوردوارہ تعمیر کرنے کے لئے اربوں روپے کہاں سے آئے؟ عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا کر گلچھرے اڑانے والے حکمران ڈریں اس دن سے کہ جس دن عوام کی بددعائیں حقیقت کا روپ دھار کر انہیں اپنے شکنجے میں کسیں گی؟ پھر رب کی پکڑ سے انہیں کوئی بچا نہیں پائے گا؟
قومی خزانہ ان وزیروں‘ مشیروں کے لئے خالی کیوں نہیں ہے کہ جو ماہانہ بنیادوں پر اس خزانے سے فی نفر لاکھوں روپے وصولتے ہیں۔ اگر عبدالحفیظ شیخ‘ فیصل واڈا‘ فواد چوہدری‘ فردوس عاشق اعوان شیریں مزاری سمیت درجنوں وزیر‘ مشیر قومی خزانے سے تنخواہیں اور دیگر مراعات حاصل کر سکتے ہیں تو اس بے چاری غریب عوام کا کیا قصور ہے کہ جن کو نوکریاں دینے کے لئے قومی خزانہ خالی ہو جاتا ہے؟ اگر عوام کو نوکریاں دینے کے لئے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں تو پھر وزیراعظم عمران خان کو ان سارے وفاقی‘ صوبائی وزیروں‘ مشیروں‘ ایم این ایز اور ایم پی ایز کی تنخواہیں اور انہیں دی جانے والی کروڑوں روپے کی مراعات بھی بند کر دینی چاہیے‘ عوام غربت کی وجہ سے خود کشیاں کر رہے ہیں اور حکمران عوام کو  وقفے‘ وقفے سے یہ بتاتے  نہیں تھکتے کہ ان کے خزانے میں عوام کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے‘ کیا عمران خان نے 22سال جدوجہد صرف نعیم الحق‘ زلفی بخاری‘  جیسوں کو حکومتی عہدے تقسیم کرنے کے لئے کی تھی؟  ان کی اس 22سالہ جدوجہد کے ثمرات میں عوام کے لئے کچھ نہ تھا؟ پھر ہم سے تقاضا ہوتا ہے کہ حکومت کے حق میں لکھیں۔ کیا لکھیں اس حکومت کے حق میں جس حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کے لئے بھی پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے‘ پنجاب  میں وسیم اکرم پلس بزدار کی حکومت قائم ہے۔ پنجاب حکومت کے دل میں مظلوم کشمیریوں کا درد اس قدر ہے کہ جو سنبھالا ہی نہیں جارہا تھا‘ وزیراعلیٰ بزدار کے وزیروں‘ مشیروں نے کشمیریوں پہ ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم کے درد کا ’’درماں‘‘ کرنے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی ایک ترکیب نکالی‘ اس ترکیب کے شائع شدہ اشتہاروں اور دعوت ناموں کے  مطابق ’’کشمیر کے نہتے اور معصوم عوام پر جاری بھارتی ظلم و بربریت کو بین الاقوامی سطح پر نئے انداز میں اجاگر کرنے کے لئے حکومت پنجاب کے زیراہتمام نامور بینڈز کے ساتھ میوزیکل نائٹ کا انعقاد مورخہ24بومبر شام 5بجے بمقام گورنر ہائوس مال روڈ لاہور میں اہتمام کیا جانا تھا مگر سوشل میڈیا پر جب پنجاب حکومت کی اس میوزیکل نائٹ کی دھوم مچی تو کشمیر کی آزادی کی اس ’’اعلیٰ‘‘ طریقے کو واپس لے کر حکومت کو یہ میوزیکل نائٹ منسوخ کرنا پڑ گئی۔
پھر حکومت سے کہا جاتا ہے کہ وہ کشمیر آزاد کیوں نہیں کرواتی؟ پنجاب حکومت نے جب کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے نامور بیڈز‘ گانے‘ بجانے کے لئے میوزیکل نائٹ کا اہتمام کرنے کی کوشش کی تو اس پر تنقید کے ٹوکرے الٹے گئے‘ اگر پنجاب حکومت’’نچ‘‘ کر اپنے یار مودی کو منانا چاہتی تھی تو اس پر اتنا شور اٹھانے کی کیا ضرورت تھی؟ کہ بے چاری حکومت کو کنسرٹ ہی منسوخ کرنا پڑ گیا‘ اور اب پوچھا جارہا ہے کہ اس میوزیکل نائٹ کی تیاری پر جو اخراجات کئے گئے ان کا حساب بھی دیا جائے۔
ایک دل جلے نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا میوزیکل نائٹ کا طریقہ ایجاد کرنے والی پنجاب حکومت کے  وزیراعلیٰ بزدار کو اس   نئی ’’ایجاد‘‘ پر21توپوں کی سلامی پیش کرنی چاہیے‘ قارئین کو اگر یاد ہو تو دو روز قبل انہیں صفحات پر راقم کا ایک کالم ’’بادشاہ‘ گدھا اور غصہ‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا کہ جس میں اس خاکسار نے ایک بادشاہ نے گدھے کو وزیر بنانے کا پورا قصہ بیان کیا تھا؟