07:46 am
مدعی اور ملزم مل گئے!

مدعی اور ملزم مل گئے!

07:46 am

٭سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کی توسیع معطل کر دی۔ آج اہم فیصلہ!Oعدل و انصاف کی تاریخ کا نیا سانحہ! مدعی و ملزم مل گئے، عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکنے کا حکم! اور یہ ناقابل یقین الم ناک واقعہ کسی بدترین آمریت کے دور میں نہیں ہوا بلکہ ’’اعلیٰ پایہ کی جمہوری‘‘ حکومت کے دور میں ہوا کہ جس برطرف شدہ جرنیل نے آئین کو توڑ کر ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کر کے گرفتار کیا، اسمبلیاں توڑ دیں، اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو چیف جسٹس سمیت معطل کر کے گھروں میں قید کر دیا،
جس نے آٹھ ہزار کرپٹ افراد کی اربوں کھربوں کی کرپشن ختم کرنے کے لئے این آر او جاری کیا، جو علاج کے بہانے ملک سے بھاگ کر مفرور اور اشتہاری قرار پایا، اس کے خلاف چھ سال تک غداری کا مقدمہ چلا اس پر چار سال پہلے غداری کی فرد جرم عائد ہو چکی۔ بار بار طلب کرنے کے باوجود خصوصی عدالت نے سپریم کورٹ کی رولنگ کے تحت فیصلہ سنانے کے لئے 28 نومبر کی تاریخ مقرر کر دی تو نہ صرف اس کے لواحقین بلکہ خود استغاثہ کی ذمہ دار حکومت فیصلہ رکوانے کے لئے بھاگ پڑے۔ آپس میں بغل گیر ہو گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں، یکساں اپیل کر دی کہ فیصلہ تاقیامت روک دیا جائے اس لئے کہ یہ ایک ’بڑے‘ آدمی کے بارے میں ہے۔! آئین ،  قانون، شرعی احکام، انصاف، قانون اخلاقیات ہر اک کے لئے یکساں انصاف سب ملیا میٹ! سب کالعدم! پہلے جیل میں سات سال قید اور اربوں کے جرمانہ والے مجرم کو کسی آڑ میں ملک سے باہر بھیج دیا، اب ایک صریح غداری کے مفرور، اشتہاری ملزم کو بچانے کے لئے خود مدعی اور ملزم آپس میں مل گئے، آئین اور قانون منہ دیکھتے رہ گئے! استغفراللہ، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ بہت سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ عدالت کا فیصلہ تو ابھی آیا ہی نہیں، حکومت کو کیسے پتہ چل گیا کہ کیا فیصلہ آرہا ہے؟ چھ برس سے قومی خزانے سے کروڑوں بلکہ اربوں کی فیس وصول کرنے والے وکلا کے ایک 12 رکنی گروہ نے اب تک اس مقدمہ کی جو پیروی کی اسے حکومتی حاشیہ بردار بزر جمہروں نے ناقص، نامکمل بلکہ سرے سے بالکل غلط قرار دے کر سارا مقدمہ نئے سرے سے چلانے کا اعلان کرتے وقت کوئی عار محسوس نہیں کی۔ ایک کیس چھ ماہ تک چلا، کسی نے اس کی کسی خرابی کا نوٹس نہ لیا، اب نئے سرے سے مزید آٹھ دس سال، اس سے بھی زیادہ چلے گا، نئے وکلا کے غول بیابانی کی ناقابل بیان کروڑوں اربوں کی فیسوں کے ذریعے قومی خزانے کی مزید وسیع لوٹ مار ہو گی۔ کوئی فیصلہ پھر بھی نہیں آئے گا اور ملک و قوم، جمہوری و اخلاقی تباہی کا کھلا مجرم بدستور بیرون ملک عیش و عشرت، رقص و موسیقی کی زندگی گزارتا رہے گا۔! اس سارے منظرنامہ کا مختصر پس منظر اور پیش منظر!
٭1999ء میں ملک کے منتخب وزیراعظم نوازشریف نے آئین میں حاصل اختیارات کے تحت آرمی چیف جنرل پرویزمشرف کو برطرف کر دیا۔ بلاشبہ یہ نہائت نامناسب اقدام تھا۔ فوج کے کسی سربراہ کے خلاف ایسا اقدام پوری فوج کو مشتعل کرنے والاتھا۔ وزیراعظم نے آئین کو مذاق بنا دیا مگر بہرحال یہ اقدام آئین کی حدود کے اندر تھا۔ اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ یہ بات واضح تھی کہ آئینی طور پر جنرل مشرف برطرف ہو چکا تھا اور اب ایک عام شہری تھا! اس نے کس آئین، قانون کے تحت فوج کی سربراہی اور اقتدار پر قبضہ کیا؟ بدقسمتی کہ یہ اہم قانونی اعتراض آج تک کسی عدالت میںچیلنج نہیں کیا! وہ ایک غیر قانونی، غیر آئینی حکمران تھا۔ اس کے خلاف دوسرے متعدد سنگین الزامات کا حوالہ پہلے دیا جا چکا ہے۔ اب یہ کہ مشرف کے لواحقین اور وکلا کی اس کے بارے میں عدالت کے فیصلے کو رکوانے کی کوشش تو قابل فہم ہے مگر اس میں حکومت کیوں شامل ہو گئی؟ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ جمہوری (؟) کہلانے والی موجودہ حکومت میں ادھر ادھر سے بھاگ کر آنے والے حاشیہ برداروں میں جنرل مشرف کی غیر آئینی، غیر قانونی، غیر جمہوری حکومت کے سات سرکردہ وزرا بھی اسی حکومت کے اہم عہدوں پر فائز ہیں ان میں وزیرداخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، وزیرقانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور شامل ہیں۔ یہ لوگ اپنے سابق آقا کوکیسے کسی مشکل سے دوچار دیکھ سکتے تھے؟ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کو تو جنرل مشرف کا وفادارترین ساتھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاتا۔ صرف ایک دو اہم باتیں! جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ2013ء میں ن لیگ کے دور میں دائر ہوا۔ ایک سینئر وکیل محمد اکرم شیخ کو استغاثہ کا خصوصی وکیل بنا دیا گیا۔ ان کی معاونت کے لئے بارہ دوسرے سینئر وکلا کا گروپ بھی مقرر کرایا گیا۔ انہیں چھ سال کے دوران کروڑوں روپے ماہوار کی تنخواہیں ملتی رہیں۔ اب اٹارنی جنرل انور منصور نے انکشاف کیا ہے کہ اکرم شیخ کی ٹیم نے استغاثہ کی پیروی میں بہت واضح بھاری غلطیاں کی ہیں ان کے ازالہ کے لئے اب ابتدا سے نیا استغاثہ دائر کرنا پڑے گا اس کے لئے نئی ٹیم بنانا پڑے گی (قومی خزانے کی نئی لوٹ مار!) ظاہر ہے یہ ٹیم بھی کئی برس لے جائے گی! قارئین کرام یہ معاملہ اب عدالت میں ہے میں بات ختم کر رہا ہوں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حکومت کس بات سے اور کیوں ڈر رہی ہے؟ کچھ دوسری باتیں:۔
٭مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سمجھوتہ اور یقین دہانیوں کے مطابق دسمبر میں موجودہ حکومت اور اسمبلیاں ختم ہو جائیں گی اور جنوری میں نئے انتخابات ہوں گے۔ میں کسی تبصرہ کے بغیر صرف آئینی پوزیشن بیان کر رہا ہوں کہ آئین کی دفعہ(264)2کے تحت قومی یا صوبائی اسمبلی جس دن پانچ سال کی مدت پوری کر لے، اس دن سے 60 دنوں کے اندر نئے انتخابات ہوں گے اور یہ کہ اگر کسی وجہ سے کوئی اسمبلی پانچ سال کی مدت سے پہلے توڑ دی جائے تو پھر 90 روز یعنی تین ماہ کے اندر نئے انتخابات ہوں گے! موجودہ اسمبلیوں نے ابھی بمشکل ڈیڑھ سال کی مدت پوری کی ہے۔ پانچ سال پورے ہونے میں ساڑھے تین سال باقی ہیں۔ انہیںآج یعنی 27 نومبر کو بھی تحلیل کر دیا جائے تو نئے انتخابات اگلے سال فروری کے آخر میں ہو سکتے ہیں۔ مولانا نے کس قانون اور آئین کے تحت جنوری میں انتخابات کا اعلان کیا ہے؟ میں کچھ کہہ نہیں سکتا! صرف یہ کہ اسمبلیاں تو بدستور موجود ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے زور دے کر کہا ہے کہ پانچ سال پورے کریں گی!
٭بیشتر سیاست دان آئین و قانون سے ناواقف ہوتے ہیں۔ انہیں قانون شناسی کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ اسمبلیوں کے ایوانوں میں اپنے پارٹی باس کے فرمان پر ہاتھ اٹھا کر وفاداری کا یقین دلانا ہوتا ہے۔ ان کی آئین سے لاعلمی تو سمجھ میں آتی ہے مگر ایک بڑے ملک کا وزیرداخلہ آئین و قانون سے قطعاً ناواقف ہو تو اسے المیہ کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے؟ پاکستان کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے فرمایا ہے کہ پرویز مشرف کو غدار نہیں بلکہ آئین شکن قرار دیا جا سکتا ہے۔ افسوس کہ وزیر داخلہ جیسے انتہائی اہم عہدہ پر فائز ان صاحب نے شائد کبھی آئین نہیں پڑھا! سنئے وزیرداخلہ! آئین کی دفعہ 6 کیا کہہ رہی ہے! اس میں واضح طور پر آئین شکنی کو غداری قرار دیاگیا ہے۔ دفعہ 6 کہتی ہے: (1) کوئی شخص طاقت کے ذریعے یا اس کے اظہار سے آئین شکنی کرتا ہے، اسے منسوخ کرتا ہے، اس کی شکل بگاڑتا ہے اسے ملتوی یا کچھ عرصے کے لئے معطل کرتا ہے، یا کسی دوسرے طریقے سے آئین کو نقصان پہنچاتا ہے یا اسے توڑنے، منسوخ کرنے، بگاڑنے، ملتوی یا معطل کرنے یا کسی طریقے سے نقصان پہنچانے کی سازش میں شریک ہوتا ہے تو وہ سنگین غداری کا مرتکب ہو گا‘‘ (2) آئین شکنی کی سازش میں شریک یا تعاون کرنے والا شخص بھی سنگین غداری کا مرتکب ہو گا۔‘‘ وزیرداخلہ صاحب! اپنے علم میں اضافہ کے لئے یہ بھی پڑھ لیجئے کہ سنگین غداری کی سزا موت یا کم ازکم عمر قید مقرر ہے! آئین پڑھئے بریگیڈیئر صاحب!
٭وزارت اطلاعات کی میڈم معافی کو عدالت سے ایک اور غیرمشروط معافی مل گئی۔ اب تک تین معافیاں مل چکی ہیں۔ مگر مزاج تبدیل نہیں ہوا، عدالت میں تیسری معافی مانگی اور باہر آ کر پھر اپنی صفائی پیش کر دی! 

تازہ ترین خبریں