08:11 am
رسول رحمتﷺ

رسول رحمتﷺ

08:11 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 حضور ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے نوع ِ انسانی کو دو عظیم ترین تحفے دئیے ہیں ۔ایک تحفہ الہدیٰ قرآنِ حکیم ہے جو انسانوں اور جنات کے لئے بھی رحمت ہے۔یہ ان کی ابدی کامیابی کے لئے عظیم ترین رہنما کتاب ہے۔جو ہدایت کے بہت واضح دلائل پر مبنی ہے۔جو شخص اسے تھامے گا وہ جہنم سے بچ کر جنت تک پہنچ جائے گا اور جو قوم اسے رہنما بنائے گی ،وہ سر بلند ہو گی۔یہ کتاب انسانوں کے لئے اللہ کی رحمت کا سب سے بڑ ا مظہر ہے۔دوسرا تحفہ جو اللہ نے دیا وہ دینِ حق یعنی عدل وانصاف پر مبنی نظام(system of social justice)ہے۔قرآن مجید میں ان عظیم ترین تحفوں کا تذکرہ آپؐ کے مقصد بعثت کے حوالے سے تین مقامات پر ہو اہے۔’’وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا ،تاکہ اسے اور سب دینوں پر غالب کرے۔‘‘(سورۃالتوبہ: ۳۳، سورۃ الصف۰۹،سورۃ الفتح۲۸)
رسول اکرمﷺ صرف داعی بن کر نہیں آئے،صرف مبشر اور منذر بن کر نہیں آئے،صرف ہدایت کا ایک روشن چراغ بن کر نہیں آئے ۔اگر چہ یہ سارے اوصاف بھی آپؐ کی ذات گرامی میں جمع ہیں۔مگر آپؐ کی امتیازی شان یہ ہے کہ آپؐ اس دین حق کو اللہ کے عادلانہ نظام اجتماعی کو زمین پر قائم اور غالب کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ۔دیکھئے کتابیں قرآن حکیم سے پہلے بھی آئے ہیں مگر قرآن کریم کامل ترین ہدایت کا آخری ایڈیشن ہے۔یہ قیامت تک آنے والے تما انسانوں کی ہرمعاملے میں رہنمائی کرتا ہے۔اسی طرح اسلامی شریعت سے پہلے بھی شریعتیں آتی رہی ہیں، مگر حضور ﷺ کو جو شریعت اور کامل ترین نظام عدل دیا گیا وہ تمدن وار تقا کی منزلیں طے کرتے انسان اور معاشرے کے لئے ہر دور میں عدل پر مبنی اعلیٰ ترین نظام ہے۔
اب ایک بات اور سمجھ لیجئے کہ یہ الہدیٰ اصل میں ہدایت کس بات کی ہے۔یہ دراصل اس سیدھے راستے کی ہدایت ہے، جس پر چلنے کی دعا ہم نماز کی ہر رکعت میں اللہ سے مانگتے ہیں ،وہ سیدھا راستہ جو جنت تک لے جاتاہے۔اس میں بینالسطور پیغام یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ دنیا نہیں ،آخرت ہے۔ہمیں فکر اس کی ہونی چاہئے کہ آخرت میں ناکامی کے عظیم خسارے سے کیسے بچیں،جو ہمار اانتظار کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے زمانہ کو گواہ بنا کر کہا ہے کہ پوری نوع انسانی بہت بڑی ناکامی سے دوچار ہونے والی ہے۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس دنیا میں ہمیں جس امتحان میں ڈال دیا گیا ہے اس میں کامیابی کیونکر حاصل کی جائے ،کیونکہ اس امتحان میں ناکامی afordableنہیں ہے۔اس امتحان میں کامیابی کے لئے بہترین گائیڈ بک اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی صورت میں عطا کر دی جو بہت ہی جامع، کامل اور مکمل ہدایت ہے۔دنیا تو دارالامتحان ہے ۔ یہاں تو ایمان کے راستے پر چلنے والوں پر آزمائشیں اور تکالیف آئیں گی ۔اللہ تعالیٰ مختلف حالات سے انہیں آزمائے گا ۔ان پر سختیاں بھی آئیں گی اور آسانیاں بھی آئیں گی،لیکن یہ سب کچھ امتحان کے لئے ہو گا۔دنیا کی راحتوں اور تکا لیف کی ابدی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔آخرت کی کامیابی یا ناکامی کا دنیا کی کامیابی اور ناکامی سے تقابل نہیں کیا جا سکتا ۔وہاں کی ناکامی تو اصل ناکامی ہے اور وہاںکی کامیابی حقیقی کامیابی ہے۔چنانچہ قرآن حکیم اصل کامیابی کے لئے کلید ہے۔
دوسرا تحفہ یعنی نظامِ عدل اجتماعی کس لئے ہے،اس لئے کہ دنیا میں ایک عادلانہ معاشرہ قائم ہو،جس میں لوگوں کو ان کے پورے حقوق ملیں ،انہیں عدل وانصاف ملے ،ان کے لئے بنیادی ضروریات کی فراہمی مسئلہ نہ بن جائے،بلکہ ریاست ہر شہری کی بنیادی ضروریا ت کی ذمہ دار ہو۔سب سے بڑھ کر انہیں وہ ماحول ملے ،جس میں انسان کی انسانیت اور اس میں موجود روحانی ترقی کے رحجانات کو فروغ حاصل ہو اور حیوانیت اور پستی کی طرف لے جانے والے رحجانات پر قدغن لگائی جائے ،تاکہ وہ سیدھے راستے پرچل کر آخر ت کی کامیابی سے ہمکنار ہو سکے ۔یہ ہے وہ دینِ حق جو ہمیں عطا ہوا۔اس کا اصل تعلق اس دنیا سے ہے اور آج دنیا میں ہم اللہ کی رحمت سے محروم ہی اس لئے ہیں کہ ہم نے وہ دین زمین پر کہیں بھی قائم نہیں کیا ۔اس وقت کرئہ ارضی پر ۵۷ اسلامی ممالک ہیں ،مگر ان میں سے کسی ایک ملک میں بھی دین قائم نہیں ہے ۔یوں ہم زبان حال سے ہی کہ رہے ہیں کہ ہمیں یہ رحمت چاہئے ہی نہیں ۔ہم خود انکاری ہیں۔
نبی اکرمﷺ کے ذمہ قرآنِ حکیم کے پیغام کو پہنچانا اور دینِ حق کو غالب کرنا تھا۔آپؐ نے ذمہ داری بتمام و کمال ادا فرما دی ۔آپؐ نے اللہ کا پیغام کماحقہ پہنچا دیا اور اس کی گواہی بھی صحابہ ؓ سے لے لی اور آپؐ کی حیاتِ طیبہ کے دوران جزیرہ نما عرب کی حد تک دین بھی غالب آ گیا۔آپؐ کے وصا ل کے بعد اللہ کے پیغا م کو پوری نوع انسانی تک پہنچانا اس امت کے ذمے ہے۔صحابہ اکرامؓ اسی مشن کو لے کر نکلے اور جزیرہ نماعرب سے باہر بھی دین کو غالب کر دیا تھا ۔وہ جانتے تھے کہ اس پیغام کو پہنچائیں گے تب ہی انسانیت کے لئے رحمت اور آخرت کی کامیابی کا راستہ ہموار ہو گا۔کیونکہ اس دنیا میں آپؐ کی رحمۃاللعالمینی کا سب سے بڑا مظہرآپؐ کا عطاکردہ نظامِ عدل ہے۔صحابہ اکرامؓ جوں جوں دنیا کو فتح کرتے گئے ،استحصال اور عدم مساوات کی آلودگیوں سے اٹی ملوکیت کا خاتمہ اور اللہ کے دین کا غلبہ حاصل ہوتا گیا۔دین کے غلبہ سے لوگوں کی آنکھیں کھلتی گئیں۔وہ قبل ازیں ایک ایسے نظام کے عادی تھے جو جبر واستبدار ،ظلم واستحصال اور عدم مساوات کی آلودگیوں سے اٹا ہو اتھا۔اُس وقت پوری دنیا میں ملوکیت کا نظام رائج تھا۔جس کے تحت ایک شخص یا ایک فیملی کو سار ے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔باقی لوگ ہر قسم کے اختیارات سے محروم ہوتے تھے۔ایران میں بادشاہوں کی پوجا تک کی جاتی تھی ۔بادشاہت میں بادشاہ کا بیٹا ہی اس کے مرنے کے بعدبادشاہت کا حقدار ہوتا تھا۔اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ نظام ایسا عادلانہ ہو جس میں عام آدمی بھی بادشاہ کو ٹوک سکے۔اسلام کا نظامِ عدل اجتماعی قائم ہوا تو لوگوں کو حقوق ملے،انہیں عدل وانصاف میسر آیا اور بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم ہونے لگیں ۔اسلام نے ہر شہری کی جان ،مال،عزت ،آبرو کی حفاظت ریاست کے ذمہ قرار دی،جس کا پورا پورا خیال رکھا جانے لگا۔یہ تصورات اُس وقت تو اجنبی تھے ہی آج بھی جبکہ انسانی حقوق کا غلغلہ ہے بڑے اجنبی لگتے ہیں۔ہم اہلِ پاکستان خود اس کی ایک زندہ مثال ہیں۔کیا یہ تلخ حقیقت نہیں ہے کہ ریاست شہریوں کی جان ،مال ،عزت ،آبرو کسی ایک شے کی بھی عملاً ضامن نہیں ہے۔اسی طرح نہ وہ آپ کو روزگار دینے کی ضامن ہے ۔اور نہ بنیادی ضروریات فراہم کرنا ،روزگار مہیا کرنا،صحت، تعلیم وغیرہ کااہتمام کرنا ،اس کے ذمے ہے۔اسلام کا عادلانہ نظام جب لوگوں نے دیکھا تواُن پر یہ بات بالکل وا ضح ہو گئی کہ اسلام دینِ حق ہے اور رسول اللہ ﷺ واقعی رحمۃ اللعالمین ہیں ۔پھر انہیں قبولِ حق میں دیر نہیں لگی۔چند ہی برسوںکے اندر اندرکروڑوں لوگ مسلمان ہو گئے ۔



 

تازہ ترین خبریں