08:12 am
نیا کٹا؟

نیا کٹا؟

08:12 am

چوہدری شجاعت حسین نے سوال اٹھایا کہ ’’پرویز مشرف کا ’’کٹا‘‘ کھولنے کا کتنا فائدہ ہوگا؟ عوام کی فلاح و بہبود کو اولیت دینے کی بجائے نئے گورکھ دھندوں میں نہیں پڑنا چاہیے‘ چوہدری شجاعت حکومت کے اتحادی ہیں اس لئے ان کے علم میں ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے سب سے پہلے وزیراعظم ہائوس کی بھینسوں کو فروخت کیا تھا۔ پھر غربت دور کرنے کے لئے مرغیوں اور انڈوں کا سلسلہ شروع کیا اور اب بات ’’کٹوں‘‘ پر آن پہنچی ہے تو شکوہ کیسا؟
رہ گئی بات عوامی فلاح و بہبود کو اولیت دینے کی‘ تو یہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو تبدیلی کے موسم میں زیب نہیں دیتیں‘ عمران خان کی حکومت اگر پرویز مشرف کے دفاع کے لئے عدالتوں میں جا پہنچی ہے تو یہ سب کوئی اچانک تو نہیں‘ آپ عمران خان کی کابینہ میں بیٹھے ہوئے وزیروں‘ مشیروں کی گنتی کرلیجئے تو پتہ چل جائے گا کہ پرویز مشرف کے کتنے ساتھی وزارتوں پر متمکن ہیں؟ وزیراعظم عمران خان اعلیٰ عدلیہ کو تو بھاشن دیتے ہیں کہ امیر اور غریب کو انصاف فراہم کرنے کے پیمانے الگ الگ کیوں ہیں؟
غداری کیس میں پرویز مشرف کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے روکنے کے لئے حکومت کا میدان میں اترنا‘ حکومت کے قول و فعل میں کھلے تضاد کی چغلی کھا رہا ہے‘ یہی عمران خان ہیں کہ جو حکومت سنبھالنے سے قبل اپنے انٹرویوز میں کہا کرتے تھے کہ ’’پرویز مشرف کو پروٹیکٹ کرنا شرمناک ہے۔‘‘ اور اب انہیں کی حکومت یہ شرمناک عمل کرنے پر مجبور ہے‘ پرویز مشرف کا 9سالہ دور تاریک بلائوں کا دور تھا‘ اس شخص نے بار بار آئین کو توڑا‘ یہی وہ تاریک دور ہے کہ جس میں 12مئی کے دن کراچی کی سڑکوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو چن چن کر مارا گیا‘ دہشت گرد سارا دن انسانوں کو گولیوں سے بھونتے رہے اور اسی رات اسلام آباد کے جلسے میں پرویز مشرف نے مکے لہرا کر کہا تھا کہ دیکھ لی ہماری طاقت؟ پرویز مشرف دور میں کراچی میں وکیلوں کو زندہ جلا ڈالا گیا‘ جاننے والے جانتے ہیں کہ جلائے جانے والے وکلاء عدلیہ تحریک کا سرگرم حصہ تھے‘ بدنام زمانہ انڈین ایجنٹ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کو مضبوط کرنے میں پرویز مشرف کا کردار بھی کوئی زیادہ مخفی نہیں رہا‘ ایم کیو ایم نے پرویز مشرف کا اتحادی بن کر کراچی کو قتل گاہ‘ اور بھتہ خوروں کا شہر بنانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا‘ نائن الیون کے واقعات کے بعد امریکی خوف میں مبتلا ہو کر پرویز مشرف کے غلط فیصلے کا نتیجہ پوری قوم کو بھگتنا پڑا‘ امریکہ اور القاعدہ کے درمیان ہونے والی خونریز جنگ یا افغانستان پر کیا جانے والا امریکہ حملہ‘ یہ سب کچھ امریکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کر رہا تھا۔ پرویز مشرف کی غلط حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی بدولت وہ امریکی جنگ پاکستان میں منتقل ہوگئی‘ اللہ مغفرت کرے مرحوم جنرل حمید گل ؒ‘ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو قوم کو بتاتے کہ جنرل (ر) مشرف کے غلط فیصلوں کی بدولت اس ملک و قوم نے کس قدر نقصان بھگتا؟
افغانستان کے مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی حمایت کرنا‘ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں طلباء و طالبات کا خون بہانا اور سینکڑوں مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے امریکیوں کے ہاتھ فروخت کرنا‘ یہ وہ کالے کرتوت ہیں کہ جن کی بناء پر موصوف سے پاکستانیوں کو نفرت سی محسوس ہونے لگی۔
 جنرل ضیاء الحق آرمی چیف رہے انہیں ڈکٹیٹر حکمران بھی کہا جاتا ہے‘ ان سے اختلاف کے باوجود عوام میں ان کا بے حد احترام آج بھی پایا جاتا ہے‘ شہید جنرل ضیاء الحق کا جنازہ اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں ان کے لئے محبت کے جذبات موجود تھے‘ لیکن پرویز مشرف تو وہ بدقسمت شخص ہے کہ جو اپنی زندگی میں ہی عوامی نفرت کا شکار ہوا اور جیتے جی تاحال وہ پاک سرزمین پر آنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔
پرویز مشرف آرمی چیف اور ملک کا صدر رہا‘ اسے تو قوانین کا زیادہ پابند ہونا چاہیے تھا لیکن موصوف عدالتوں کے بار‘ بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے کے سبب عدالتی مفرور قرار پائے‘ پاکستان کے عوام میں اپنی فوج کے لئے بے پناہ محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں‘ پرویز مشرف پر تنقید کو جو عناصر ادارے پر تنقید تصور کرتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جنرل حمید گل کے نام سے ہر ذی شعور پاکستانی واقف ہے۔ پاکستانی قوم کے دلوں میں ان کے حوالے سے جو محبت و پیار کے جذبات پائے جاتے ہیں وہ سب کے علم میں ہے‘ لیکن پرویز مشرف وہ رسوا کن ڈکٹیٹر ہے کہ جس کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اس قوم نے ہزاروں لاشیں اٹھائی اور سو ارب سے زائد کا نقصان بھگتنا پڑا۔
چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت دیگر ججز کو محبوس رکھنا‘ ایمرجنسی نافذ کرنا‘ غرضیکہ کون کون سے ’’کارنامے‘‘ ہیں جو موصوف نے سرانجام نہیں دئیے‘ ان ’’کارناموں‘‘ کے مرتکب شخص کے دفاع میں عمران خان حکومت کا میدان میں اتر آنا یہ بات ثابت کر رہا ہے کہ اس حکومت کے ہوتے ہوئے قانون کی حکمرانی کا تصور محال ہے۔
گو کہ چوہدری صاحبان بھی ان ’’کارناموں‘‘ کے دوران پرویز مشرف کے ساتھی رہے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غالباً انہوں نے تو ’’ مٹی پائو‘‘ پالیسی کے تحت جمہوریت سے حلالہ کر لیا‘ کم از کم عمران خان کو انہیں سے سبق حاصل کرکے اس نئے ’’کٹے‘‘ کو کھولنے سے احتراز برتنا چاہیے تھا اور اپنی توجہ عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف مبذول رکھنی چاہیے تھی۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی‘ جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے مشاورت کے بعد متفقہ موقف میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹیڈ وزیراعظم کسی قیمت پر قبول نہیں‘ اس حکومت نے حساس تقرریاں بھی متنازعہ بنا دیں۔ نئے شفاف الیکشن مسائل کا واحد حل ہیں جبکہ آئین کو ہر قیمت پر بالا دست رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا‘ ایک طرف اپوزیشن متفقہ طور پر نئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دوسری طرف ملک مہنگائی کی دلدل میں اترتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان کی شہہ رگ کشمیر میں کرفیو لگے ایک سو دس برن سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے‘ کشمیری خواتین کی عصمتوں پہ حملے شروع ہوچکے ہیں‘ بھارتی فوج بار‘ بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے‘ اعلیٰ عدلیہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا چکی ہے‘ مطلب یہ کہ ملک بحران در بحران کی طرف بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے اور حکومت پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے فیصلے کو رکوانے کی کوششوں میں مصروف ہے‘ خدا خیر کرے۔ حکومت کو جو نیا ’’کٹا‘‘ کھولنے کا شوق چرایا ہے آنے والے دنوں میں یہ کٹا کیا گل کھلاتا ہے ...سب کو اندازہ ہو جائے گا۔