08:13 am
شطرنج کی بساط  

شطرنج کی بساط  

08:13 am

 افغانستان میں صدارتی انتخابات کی رسم ادا کی جا چکی ہے۔ گو نتائج کا اعلان ابھی نہیں ہوا تاہم فریقین کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کی تکرار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کامیاب ہونے والے امیدوار کے سوا باقی سب ناکام عشاق احتجاج کرتے ہوئے انتخابی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کریں گے۔ گذشتہ انتخابات کے بعد بھی اقتدار کا کیک اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان نہایت خوبی سے بانٹ دیا گیا تھا ۔ کیک کی تقسیم کا فریضہ امریکہ بہادر نے انجام دیا تھا ۔ عین ممکن ہے کہ یہی عمل ایک مرتبہ پھر دہرایا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ افغان انتخابی عمل دراصل ایک ایسی لاٹری ہے جو ہمیشہ اس امیدوار کی ہی کھلتی ہے جو انکل سام کا منظور نظر ہو۔ اس تناظر میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکراتی عمل کی حیثیت کا تعین کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ کچھ کرمفرما اس خیال کے زیر اثر ہیں کہ امریکہ بہادر ہزیمت اٹھانے کے بعد اب افغانستان سے بوریا بستر لپیٹ کر رخصت کا متمنی ہے۔ 
اس مقبول عام تاثر کے حق میں کوئی مظبوط زمینی حقائق دستیاب نہیں ۔ اگر امریکہ بہادر فوراً روانگی چاہتا ہے تو پھر مذاکرات کے بعد معاہدے کے بالکل قریب پہنچ کر سارے عمل کو رد کیوں کر دیا گیا ؟ اس کی دو ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول، پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان اس معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ۔ سادہ لفظوں میں ایک فریق انخلاء کے حق میں ہے تو دوسرا فریق افغان سرزمین پر امریکی اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے فوج کی موجودگی کا حامی ہے۔ دوم، امریکہ مکمل انخلاء نہیں چاہتا تاہم مذاکرات کے زریعے کٹھ پتلی حکومت کے لیے افغان طالبان کے دل میں نرم گوشہ پیدا کر نے کے بعد جزوی انخلاء کر کے واشنگٹن کی محتاج لولی لنگڑی افغان حکومت کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام مذاکراتی اجلاسوں میں افغان طالبان کو کٹھ پتلی حکومت سے رابطے قائم کرنے کی ترغیب دی جاتی رہی ہے۔ پاکستان اس پیچیدہ کشمکش سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ افغانستان میں امن کا فوری قیام ممکن نہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان بدستور افغان بدامنی کی قیمت چکاتا رہے گا۔ سرحدوں پر باڑ لگانے سے دراندازی کم ہونے کے باوجود خطرات باقی رہنے کا امکان ہے۔ امریکہ کی بھارت سے پروان چڑھنے والی محبت میں پاکستان کے لیے بہت سے خطرات چھپے ہیں ۔
 چین سے گہری دوستی اور معاشی تعاون کا جرم واشنگٹن اور نئی دلی کے نزدیک قابل معافی نہیں۔ کھلم کھلا دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ ایلس ویلز نے تو باقاعدہ منڈی میں کھڑے ٹھیلے والے کی طرح چین سے بہتر شرائط پر مال فراہم کرنے کی صدا بھی لگا دی ہے۔ خطے میں شطرنج کی بساط سری نگر ، گوادر ، کابل ، تہران ، نئی دلی ، ماسکو ، اسلام آباد تک پھیلی ہے۔ واشنگٹن کا شاطر کھلاڑی بازی مارنے کے لیے اپنے مہرے آگے بڑھا رہا ہے۔ ہماری بقا کا پہلا تقاضہ یہ ہے کہ تمام فریقین کی چال کو سمجھ لیں ۔ کوئی فریق بازی میں مات نہیں کھانا چاہتا۔ گزشتہ سترہ برس سے زائد مدت تک امریکہ اس خطے میں جھک نہیں مار رہا ۔ روس اور چین جیسی علاقائی طاقتوں کے سینے پر محض چودہ ہزار کی قلیل تعداد سے مونگ دلنے والے امریکہ کو شکست خوردہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ بعض کرمفرما امریکی عزائم کی تفہیم میں غلطی کے مرتکب ہورہے ہیں ۔ افغانستان میں روسی دراندازی سے آج تک کی تاریخ کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو مقامی فریقین نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ 
سات سمندر پارسے نازل ہونے والا امریکہ آج بھی تزویراتی اعتبار سے گھاٹے میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ چند ہزار سپاہیوں کے انخلاء کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ امریکہ خطے میں اپنے مفادات سے دستبردار ہو کر روس اور چین کے لیے میدان خالی کر رہا ہے۔ داعش جیسی تنظیم ، درجن بھر سے زائد غیر معروف جنگجو گروہ اور امریکی آشیر باد سے قائم ہونے والی افغان کٹھ پتلی حکومت کی موجودگی میں امریکی اثر و رسوخ کم نہیں ہو سکتا ۔ کنٹریکٹرز یا کرائے کے فوجی میدان میں اتار کر امریکہ بہادر کسی بھی فریق کے لیے افغانستان کی زمین تنگ کر سکتا ہے۔ مودی سرکار کی شکل میں ایک ایسا جنونی جتھا امریکہ کو ہمہ وقت دستیاب ہے جو چین اور پاکستان کی دشمنی میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ آنے والا ہر دن پاکستان کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ سے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ چین سے تعلقات بیحد قیمتی ہیں لیکن امریکہ سے مخاصمت بھی کوئی عقلمندی نہیں ۔ خطے کے دریا میں امریکہ ایک مگر مچھ کی طرح موجود رہے گا اور اس سے بیر رکھنا کوئی عقلمندی نہیں ہوگی۔ بھارت کی جارحانہ سوچ کے مقابل تدبر و حکمت اختیار کرتے ہوئے تصادم کے بجائے سفارتی جارحیت کا ہتھیار استعمال کیا جانا چاہیے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لسانی تعصب کا ہتھیار پوری شدت سے استعمال کیا جائے گا ۔ لندن میں پناہ گزیں لارنس آف پاکستان نے بھارت کے سامنے جھولی پھیلا دی ہے ۔ 
کراچی میں لارنس آف پاکستان کے چیلے کسی وقت حملہ آور ہو سکتے ہیں ۔ قومی منظر نامے پر اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے۔ چند ماہ کے دوران دھرنے بازی، سیاسی الزام تراشی اور سیاسی مریضوں کی ضمانتوں کے نام پر لگنے والی سرکس پر ہر پاکستانی تشویش کا شکار ہے۔ بار بار یہ مصرعہ زہن میں آرہا ہے ۔ یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے! 






 

تازہ ترین خبریں