08:14 am
ہتھیلی پہ سردھرے ہوئے لوگ

ہتھیلی پہ سردھرے ہوئے لوگ

08:14 am

میں بہت بولتاہوں۔سب لوگ میرامنہ تکتے رہتے ہیں۔میں کسی کوموقع ہی نہیں دیتاکہ وہ بھی کوئی بات کرے۔ لوگوں کوگرفت میں لینے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔میں یہ بھی نہیں دیکھتاکہ میرا مخالف کون ہے۔بڑاہے،چھوٹاہے، مردہے، عورت ہے،بچے ہیں۔بس بلاتکان بولتارہتاہوں۔ ہاں میں نے بہت مرتبہ پڑھاہے’’جوخاموش رہاوہ نجات پاگیا‘‘لیکن میں نے اس پرکبھی عمل نہیں کیا۔ شاید کرہی نہیں سکتا۔ خودپسندی اوراپنی فوں فاں میں مگن،اپنے خیالات کااسیراوراپنی چرب زبانی پرنازاں۔
ایک دن میرے ایک بہت ہی پیارے بابے نے مجھ سے ایک عجیب سی بات کی’’دیکھ پگلے توبہت بولتاہے۔محفل کودیکھ کربات کیا کر۔جس نے دیکھا نہیں اسے کیادکھانا۔ ہنساکر، ہنسایاکرلیکن ہر بات ہر ایک سے نہیں کرنی۔دیکھ توآنکھیں،کان کھلے اوراپنی زبان بند رکھ۔ تنہائی سے بات کر،محفل میں خاموش رہ،اکیلے میں محفل سجااورمحفل میں تنہا ہوجا۔‘‘
’’واہ ،واہ کیا بیکارسی بات کی آپ نے،کوئی کام کی بات بتایاکریں۔ خوامخواہ کی بات‘‘میں نے انہیں خاموش کردیا۔’’اوٹھیک ہے،ٹھیک ہے پگلے، تیرا اچھا بھی راہ پرآئے گا۔‘‘
کتنی بدنصیبی ہے،میں اب تک گمراہ ہوں۔کتنی عجیب سی بات ہے،میںکچھ نہیں جانتااورجاننے کا دعوے دارہوں۔میں اپنے جہل کوعلم کہتاہوں، چرب زبانی کوذہانت،مکاری کواخلاص، ہوس کومحبت، چالاکی کوہنر،دھوکے کوکمال،کراہت کوجمال،اداکاری کو ہتھیارسمجھتاہوں۔میں ڈراہوا ہوں،سہماہواہوں، خوفزدہ ہوں لیکن خودکوبہت بہادر سمجھتاہوں۔ میری نیت کچھ اورہے اورعمل کچھ اور ۔میں صرف اپنی محبت میں گرفتارہوں اورخود کو آزاد سمجھتا ہوں۔میں اپنے نفس کی پیروی کرتاہوں اورسمجھتاہوں کہ میں رب کابندہ ہوں۔
میں رب سے محبت کادعوی کرتااورمخلوق کیلئے آزاربنارہتاہوں۔میرارونامکرکاروناہے۔میرے آنسوفریب ہیں۔میری ہمدردی دکھاوا ہے۔ میر اایثا رتجارتی ہے۔میراخلوص بازاری ہے۔میں مجسم فنکاری ہوں۔تاجراورنراتاجر،جوجمع تفریق کرتارہتا ہے، مکرو فریب کی دنیاکاباسی،ہوس نفس کاپجاری،میں کسی کے کام نہیں آتااورتوقع رکھتاہوں کہ لوگ میرے حضوردست بستہ کھڑے رہیں۔میں سب کے حقوق غضب کرکے بھی اپنے حقوق کاطلبگار ہوں۔ میں دوسروں کوان کے فرائض یاددلاتارہتاہوں اور اپنے فرائض کوبھول گیا ہوں۔
میں نے نصیحت کرنے کاآسان کام اپنے لئے منتخب کرلیاہے اوراس پرعمل کرنے کامشکل کام مخلوق کیلئے رکھ چھوڑاہے۔میں کالم اس لئے نہیں لکھتاکہ اس سے خلق خداروشنی پائے۔ میں یہ اس لئے لکھتاہوں کہ مجھے اس سے شہرت مل جائے اورناموری کامجھے چسکا لگ گیاہے۔میں چاہتاہوں کہ لوگ میری بات سنیں،چاہے میں ان کی کوئی بات بھی نہ سنوں۔میں اوروں کوآئینہ دکھاتا رہتاہوں اورکوئی مجھے آئینہ دکھائے تومنہ سے جھاگ اڑانے لگتاہوں۔میں خودکوبہت باعلم اورلوگوں کومجسم جہل سمجھتاہوں۔میں چاہتاہوں کہ جب میں کسی تقریب میں جاں توسب لوگ میرے احترام میں کھڑے ہوجائیں اوراگرکوئی میرے پاس اپنادکھ بیان کرنے آئے تومیں مصروفیت کوخودپراوڑھ کراسے چلتاکردوں۔معصوم و مظلوم انسانوں کے چہروں پراداسی ناچ رہی ہو،بھوک نے انہیں بنجربنادیاہو،وہ دربدرخاک بسرہوں مگرمیں اپنی دانشوری کاکما ل د کھارہاہوں اورپھربھی انسانیت کے دکھوں کا پرچارک بناہواہوں۔ وہ رت جگے کررہے ہوں اورمیں چین سے سوتارہوں۔ وہ اپنے جائز کاموں کیلئے خوارہورہے ہوں اورمیرے ایک فون پر سارے کام ہوجائیں۔وہ دھوپ میں لائن لگاکر کھڑے ہوں اورمیں اندرجاکر افسرسے چائے پی کر اپناکام کروالوں۔ عجیب سی بات ہے ناں۔
میں سیمینارپرسیمینارسجائے چلاجارہاہوں۔ منرل واٹرپیتاہوں۔یخ بستہ پنج وہفت ستارہ ہوٹلوں میں طعام وقیام کرتاہوں۔لگژری گاڑی میں سفرکرتاہوں اورروناروتاہوں مفلوک الحالوں کا۔میں نے آج تک فاقہ نہیں کیااورفاقہ زدوں کادکھ لکھتاہوں۔میں نے غربت دیکھی تک نہیں اورغریبوں کاہمدرد بنا پھرتا ہوں ۔ میرے الفاظ نرے لفظ ہیں۔بے روح لفظ۔میں لایعنی تحقیق میں لگارہتاہوں۔میں زندہ مسائل کو نظرانداز کرکے اپنے قاری کوفضول مباحث میں الجھائے رکھتاہوں۔اس لئے کہ کہیں اصل مسائل کی طرف اس کی توجہ نہ چلی جائے اوروہ اس انسان کش نظام کے خلاف اٹھ کھڑانہ ہو۔عجیب ہوں ناں میں۔
میں خوددوغلاہوں اوراوروں کومنافق کہتاہو ں۔ میں نے اپنے ضمیرکاسوداکرلیاہے،میرے اندرسے بدبوکے بھبکے اٹھ رہے ہیں اور میں اوپرسے خوشبو لگائے پھرتاہوں۔میں اپنے اندرکے انسان کوسولی دے چکاہوں۔میں خوبصورت لباس میں درندہ ہوں۔میں صرف خودجیناچاہتاہوں۔مجھے لوگوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔مجھے اپناپیٹ بھرناہے،مجھے بھوکوں، ننگوں، ناداروں،مفلسوں سے کیا لینادینا۔میں زرداروں کے آگے بچھاجاتاہوں اورکوئی نادارسلام کرے تومجھے ناگوارگزرتاہے۔میں سماجی بہبودکے کام اس لئے نہیں کرتا کہ مجھے یہی کرناچاہئے بلکہ اس لئے کرتاہوں کہ میری واہ واہ ہو۔میں اپنی تعریف سن کرنہال ہوتا رہتا ہوں۔میں بندہ رب نہیں بندہ نفس ہوں۔میں یہ بھول گیاہوں کہ اصل کوبقا ہے۔جعل سازی کبھی پنپ نہیں سکتی۔ بارآورنہیں ہوسکتی۔کوئی انقلاب نہیں لاسکتی۔ گلے سڑے نظام کی پیوندکاری کب تک کی جاسکتی ہے۔ آخر اس انسان کش نظام کوفناہوجاناہے اورمجھے بھی۔سب اپنی اپنی قبرکاپیٹ بھریں گے۔موت میرے تعاقب میں ہے اورمیں جینے کیلئے منصوبے بنارہاہوں۔ عجیب ہوں ناں میں!
کچھ بھی تونہیں رہے گا یا رو۔ بس نام رہے گااللہ کا
اجل سے خوفزدہ،زیست سے ڈرے ہوئے لوگ
کہ جی رہے ہیں میرے شہر میں مرے ہوئے لوگ
یہ عجزِ خلق ہے یا قاتلوں کی دہشت ہے
رواں دواں ہیں ہتھیلی پہ سردھرے ہوئے لوگ

تازہ ترین خبریں