08:15 am
14 ماہ میں 4 چیف سیکرٹری،5 آئی جی تبدیل!

14 ماہ میں 4 چیف سیکرٹری،5 آئی جی تبدیل!

08:15 am

٭کالم جانے کا وقت ہورہاہے، تادم تحریر آرمی چیف کی مدت ملازمت کی توسیع کے بارے میں سپریم کورٹ میں سماعت جا رہی تھی۔ اب تک فیصلہ آ چکا ہو گا۔ اس قسم کا کیس پہلی بار سامنے آیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران اہم بات سامنے آئی کہ سابق جنرل کیانی اور فوجی ڈکٹیٹر جرنیلوں کی اپنے ہاتھوں سے اپنے آرمی چیف کے عہدے کی مدت ملازمت میں توسیع بالکل غیر آئینی اور غیر قانونی تھی!! فاضل عدالت کے فیصلہ پر آج کچھ کہہ سکوں گا۔
٭پنجاب: 14 ماہ کی مختصر مدت میں چار چیف سیکرٹری، پانچ آئی جی پولیس اور درجنوں دوسرے اعلیٰ افسروں کے تبادلے! نہائت فائق، اعلیٰ درجے کے ’منتظم‘ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی باکمال صلاحیتوں، رعب داب اور شان و شوکت کے اظہار کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔موصوف کی حکمرانی کو ابھی صرف 14 ماہ ہوئے ہیں، ساڑھے تین سال باقی پڑے ہیں۔ یہی حکمرانی رہی تو آخر تک مزید آٹھ نئے چیف سیکرٹری اور دس آئی جی پولیس آ چکے ہوں گے۔ ان دونوں عہدوں پر فائز افسر صوبے میں سول اور پولیس کی افسر شاہی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انہیں کم از کم تین سال کے لئے ان عہدوں پر بھیجا جاتا ہے تا کہ وہ اس مدت میں اچھی طرح قدم جما کر کام کر سکیں۔ اس سے پوری انتظامیہ بھی کنٹرول میں رہتی ہے۔ اور یہاں! ایک افسر ایم طاہر کو 18 ستمبر2018ء کو آئی جی پنجاب مقرر کیا گیا اور صرف 28 دنوں کے بعد 16 اکتوبر کو تبدیل کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ بزدار کے دور میں کوئی بھی چیف سیکرٹری یا آئی جی آٹھ نو ماہ بھی پورے نہ کر سکا۔ اس نے انتظام کیا چلانا تھا؟ نتیجہ یہ کہ لاکھوں ملازموں کی پوری صوبائی انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی چیف سیکرٹری، یا آئی جی پولیس کو پتہ نہیں ہوتا کہ کب اچانک اسے ہٹا دیا جائے گا۔ اس نے کیا کام کرنا ہے، کیا فیصلے کرنے ہیں؟ اور جس انتظامیہ کو علم ہو کر اس کا سربراہ عارضی طور پر آیا ہے وہ اس کے احکام پر کیا عمل کرے گی؟ یہ ساری بدنظمی،بدانتظامی صرف موجودہ دور میں دیکھی جا رہی ہے۔ ماضی میں ناصر محمود کھوسہ، زاہد سعید اور سلمان صدیق جیسے چیف سیکرٹری تین سال سے زیادہ عرصے تک اس عہدہ پر قائم رہے اور جم کرکام کیا۔ انتظامیہ نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور موجودہ حکمرانی!! اس کے دور میں کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو گولیاں مار کر قتل کرنے والے اور صادق آباد میںاے ٹی ایم کی چوری کے ملزم کو ٹھڈے مار کر قتل کرنے والے تمام پولیس اہلکار نہ صرف باعزت رہا ہو گئے بلکہ انہیں ترقیاں بھی مل گئیں!! استغفار!! وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صاحب! پنجاب کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے بار بار احکام اور انتباہ کے باوجود آپ لاہور کی مرکزی اہم ترین سڑک مال روڈ پر مظاہرے نہیں روک سکے۔ یہ سڑک روزانہ بند رہتی ہے۔ آپ کے دور میں مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ڈاکٹر اور وکیل روزانہ سڑکیں گھیر لیتے ہیں، آپس میں لڑ رہے ہیں، چوریاں ڈاکے بڑھ گئے ہیں۔پتہ نہیں آپ کیا کر رہے ہیں؟
٭چودھری شجاعت حسین نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ’کَٹّا‘ (بھینس کا بچہ) کھولنے کی کیا ضرورت جب کہ ٹماٹر اتنے مہنگے ہو رہے ہیں؟ میں موصوف کی دونوں باتیں نہیں سمجھ سکا! کیا وہ پرویز مشرف کے لئے ’کَٹّا‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں؟ اور یہ کہ اس کے خلاف مقدمے کا ٹماٹروں کی مہنگائی سے کیا تعلق بنتا ہے؟ ٹماٹر سستے ہوتے تو کیا مقدمہ درست ہوتا؟ ویسے چودھری برادران کی جنرل (ر) پرویز مشرف کے ساتھ والہانہ عقیدت اور محبت کی سرشاری سمجھ میں آتی ہے۔ اس کے مارشل لائی دور میں چودھری شجاعت حسین کو صرف 59 دنوں کے لئے عارضی وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ یوں وہ وہ ہمیشہ کے لئے سابق وزیراعظم کہلانے لگے۔ چودھری پرویزالٰہی نے تو انتہا کر دی۔ جنرل پرویز مشرف نے انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا۔ انہوں نے احسان مندی اور شکر گزاری کے طور پر سرعام اعلان کیا کہ ہم جنرل صاحب کو دس بار باوردی صدر منتخب کریں گے۔ مگر جب سے پرویز مشرف کے خلاف کارروائیاں شروع ہوئیں، ایک بار بھی اس کا حال نہیں پوچھا! یہ سیاست ہے! بہرحال قارئین کرام! گائے کے بچے کو ’بچھڑا‘ اور بھینس کے بچے کو ’کَٹّا‘ کہتے ہیں! میں سوچ رہا ہوں کہ چودھری شجاعت حسین نے جنرل مشرف کا ذکر کرتے ہوئے ’کَٹّا‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا؟
٭نوازشریف کو لندن گئے دس دن سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ اب تک بخیریت ہیں۔ لندن میں چل پھر رہے ہیں، مہنگے شاپنگ پلازوں میں شاپنگ کر رہے ہیں۔ تین بڑے ہسپتالوں میں معائنے ہو چکے ہیں۔ انہیں بھی بیماری سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اب شائد امریکہ جانا پڑے!
٭لندن کے مشہور اخبار ڈیلی میل نے ایک سال قبل شہباز شریف کے خلاف زلزلہ کی امدادی رقوم کا سکینڈل چھاپا۔ شہباز شریف سخت برہم ہوئے۔ اخبار کے خلاف بھاری ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ مقدمہ دائر کرنے کی مدت ایک سال تھی جو گزر چکی ہے۔ اب شہباز شریف لندن میں ہیں۔ اخبار کے رپورٹر ڈیوڈ روز نے طنزیہ مضمون لکھا ہے کہ شہباز صاحب! مقدمہ کدھر گیا؟
٭اپوزیشن کی کل پارٹیز کانفرننس میں شہباز شریف اور اسفند یار ولی خاں شریک نہیں ہوئے۔ حسب معمول تقریریں ہوئیں۔ پرانے مطالبات دہرائے گئے کہ عمران خاں استعفا دیں، اسمبلیاں توڑ دی جائیں، نئے انتخابات کرائے جائیں ان میں فوج شریک نہ ہو (فوج کے خلاف توہین آمیز بداعتمادی!) یہ مطالبات بار بار دہرائے جا رہے ہیں مگر حکومت ان کا نوٹس نہیں لے رہی۔ مولانا کہہ چکے ہیں کہ جنوری میں نئے انتخابات ہونگے، ان کا دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔اپوزیشن سے ایک وضاحت بار بارپوچھی گئی ہے جس کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا کہ چلیں فوج تو الگ ہو جائے مگر انتخابات کون کرائے گا! یہی الیکشن کمشن! جس نے پچھلے انتخابات کرائے تھے؟ اب کس کے زیر اہتمام کرائے جائیں گے؟ ویسے الیکشن کمشن میں دو ممبروں کے عہدے خالی پڑے ہیں، چیف الیکشن کمشنر 6 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈرشہباز شریف غیر معینہ عرصے کے لئے ملک سے باہر ہیں۔ یوں 6 دسمبر کے بعد تو الیکشن کمیشن کا وجود ہی بے عمل ہو جائے گا، پھر جنوری میں انتخابات؟؟
٭ ملک میں مختلف سطحوں پر پاکستان کے قیام اور اس کے موجودہ وجود کے بارے میں تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ ٹیلی ویژن پر کچھ اینکر پرسن مسلسل زہر اگل رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں طلبا کے گروپ بنائے جا رہے ہیں۔ عام موضوعات پر مذاکرے منعقد کئے جاتے ہیں ان میں پاکستان کے خلاف باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اب پریس کلبوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد راولپنڈی کے نیشنل پریس کلب کے لائبریری روم میں کچھ ’’مخصوص سینئر صحافیوں‘‘ نے پاکستان کے پرچم کو قدموں تلے روندنے اور فوج کے خلاف مسلسل نفرت انگیز مہم چلانے والے منظور پشتین کو مہمان خصوصی کے طور پر بلایا۔ ظاہر ہے کہ کیا مقصد تھا! پریس کلب کی انتظامیہ نے معاملے کی نزاکت کے پیش نظر مذاکرے کی اجازت دینے سے انکار کرایا۔اس پر ان خود ساختہ سنیٹر صحافیوں نے آزادی رائے کے نام پر آسمان سر پر اٹھا لیا ہے! مجھے حیرت ہے کہ قوم کی ’دردمند‘، محب وطن، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی تنظیمیں کہاں ہیں!
٭ایس ایم ایس:گڑھی میر عالم ڈاک خانہ بڈامیر منڈان بنوں کے ایک شہری فضل خُمار ولد فضاد خاں ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ ان کا حیات آباد میڈیکل کالج میں ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا مگر تکلیف بڑھتی جا رہی ہے۔ فضل خمار کی اپیل کے مطابق علاج کے لئے بہت سا اثاثہ بک چکا ہے، سرپر بہت بھاری قرض چڑھ گیا ہے۔ اسے اتارنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ دردمند مخیرشہریوں سے امداد کی اپیل کی گئی ہے۔ میرے پاس فضل خمار کا مختلف ہسپتالوں کا علاج اور آپریشن کا ریکارڈ موجود ہے۔ کوئی صاحب ان کی مشکل آسان کرنا چاہیں تو مجھ سے 03334148962  پر رابطہ کر کے ان کے عزیزوں کے نمبر حاصل کر سکتے ہیں۔
 

تازہ ترین خبریں