08:42 am
غیرت مسلم ابھی باقی ہے

غیرت مسلم ابھی باقی ہے

08:42 am

آج اچانک مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ سردیوں کے دن تھے۔ ان دنوں دیہات میں دسمبر ، جنوری میں درجہ حرارت نقطہء انجماد سے بھی نیچے گر جایا کرتا تھا، خشک گھاس پر جمی تہہ جسے پوٹھوہاری میں کورہ کہتے ہیں سفید چادر کی مانند لگتا تھا ،گھر وں سے باہر رکھے گئے ٹب، بالٹیوں اور کھلے برتنوں میں پانی جم جایا کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں لحاف سے نکل کر سکول کی طرف پیدل سفر کرنے کا دل کسی کا نہ کرتا تھا۔ علم دوست والدین بہتر مستقبل کی امید میں اپنے لاڈلے بچوں کو گرم بستروں سے نکال کر دستیاب گرم کپڑے پہنا کر سکول روانہ کر دیتے تھے۔ ایک دن کا منظر مجھے یاد آ گیا کہ میرے مرحوم بھائی نصیر الدین ہمایوں جنہیں گھر میں پیار سے خان کہتے تھے نے شدید سردی کی وجہ سے صبح سویرے اٹھائے جانے پر بہانہ لگانے کی کوشش کی اور امی جی سے کہنے لگے کہ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں اس لیئے میں آج سکول سے چھٹی کروں گا۔ امی جی نے ہمایوں خان سے پوچھا کہ بیٹا آپ کی طبیعت کو کیا مسئلہ ہے آپ کیا محسوس کر رہے ہو ۔ ان سوالوں کے جواب پر خان صاحب سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو امی جی ساری صورتحال کو بھانپ گئیں اور کہنے لگیں ہمایوں خان لگتا ہے آج تمہیں دم ٹرکی کی بیماری لگ گئی ہے، اس جواب پر دم ٹرکی کے مریض کو بستر سے نکلنا پڑ گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی سکول جانا پڑا ۔ قارئین محترم اب آپ بھی جان گئے ہونگے کہ دم ٹرکی کس قدر خطر ناک مرض ہے۔ آج کے کالم میں اس بیماری کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ کہنا مناسب نہ ہوگا۔
قارئین محترم!روزانہ کی بنیاد پر دنیا میں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ جن کو دیکھ کر کبھی اپنا سر شرم سے جھک جاتا ہے اور کبھی کبھی سر فخر سے بلند بھی ہو جاتا ہے۔ بحیثیت امت ہم مسلمان قابل فخر کردار کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مسلم ممالک کے اکثر سربراہان اپنے اقتدار کے لیے ان قوموں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ جن سے کبھی بھلائی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ۔ خال خال کوئی حکمران ایسا بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو مسلمانوں کو اکھٹا کرنے کی کوششیں کرتا ہے ۔ شاہ فیصل، ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگوں نے امت کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوششیں کیں مگر انہیں اپنوں ہی کے ہاتھوں مروادیا گیا۔ طویل عرصہ کے بعد ترکوں میں طیب اردگان کی شکل میں باغیرت، با ہمت اور با ضمیر حکمران پیدا ہوا جس نے ترکی سے باہر نکل کر بھی مسلمانوں کی بات کی۔ طیب اردگان کے خلاف بھی فوجی بغاوت کی کوشش کروائی گئی مگر باغیرت اور ہوش مند ترکوں نے بغاوت کو کچل دیا۔ خوش قسمتی سے عمران خان کی شکل میں مملکت خداداد پاکستان کو ایک ایسا حکمران میسر آیا ہے کہ جو انسانیت کی بقاء کی بات بھی کرتا ہے ۔اسے کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ بھی بے چین کیئے ہوئے ہے جو محض 72 گھنٹوں میں ایران اور سعودی حکمرانوں کے پاس جا کر انہیں آگ اور خون کی ہولی سے بچاتا ہے اور یمن میں حوثیوں اور عرب حکمرانوں کے درمیان امن معاہدہ کروانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ختم نبوت کی بات کرتا ہے اور اپنے پڑوسی ممالک سے امن کی خواہش بھی رکھتا ہے مگر روایتی طور پر اس کے خلاف نادیدہ قوتیں پوری قوت سے سر گرم نظر آتی ہیں۔ عمران خان پورے یقین اور کامل ایمان کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نے اللہ سے اپنی زندگی اس ملک کی بہتری کی خاطر ما نگی ہے۔ہوائیں اور فضائیں عمران خان کے حق میں موافق لگتی ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اگر عمران اپنے موقف میں سچا ہے تو مالک اس کی مدد و نصرت فرمائے۔ 
 نہ جانے کیوں اسلام مخالف قوتیں امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلنے کی کوششیں کرتی ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی ہو یا سلمان رشدی اہل مغرب انہیں تحفظ دے کر ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔  اب ناروے میں ایک لعین بد بخت نے قرآن کریم کو جلا کر امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی مگر اجڑے ہوئے شام کے باسی عمر الیاس نامی مرد مجاہد نے اس لعین کے منہ پر لات مار کر دنیا کو پیغام دیا کہ غیرت مسلم ابھی باقی ہے۔ حکومت پاکستان نے ناروے کے سفیر کو طلب کر کے پاکستانی عوام اور حکومت کے غم و غصے اور جذبات سے آگاہ کیا اور ناروے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بد بخت لعین مجرم کو جلد سے جلد سخت سزا دی جائے۔
یہ درست ہے کہ ہم مسلمان بے عمل ہو چکے ہیں۔ ہم اپنے مذہب سے دور جا چکے ہیں۔ عملی طور پر اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ کی نہیں مانتے۔ حوض کوثر سے نبی رحمتﷺ ؐ کے ہاتھوں پیالہ پینے کے خواہش مند تو ہیں مگر چھوٹی سے چھوٹی سنت کے بھی طارق ہیں لیکن ان سب بد اعمالیوں کے باوجود نہ جانے کیوں خون مسلم سے وہ چنگاری بجھائی نہ جا سکی کہ آج بھی اگر کوئی بد بخت توہین رسالت یا قر آن کریم کے حوالے سے کوئی گستاخی کرتا ہے تو ایسے لعین کی گردن زدنی کے لیے لاکھوں کروڑوں دیوانے مچل جاتے ہیں۔ میں اپنی بات کو اس رباعی پر ختم کرتا ہوں
نماز اچھی، روزہ اچھا ، حج اچھا اور زکوۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

تازہ ترین خبریں