08:43 am
نعت خواں اور نذرانہ

نعت خواں اور نذرانہ

08:43 am

نعت مصطفیٰ ؐپڑھنا سننا یقینا نہایت عمدہ عبادت ہے مگر مقبولیت کی کنجی اخلاص ہے، نعت شریف پڑھنے پر اُجرت لینا دینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ 
میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں سوال ہوا: زید نے اپنے پانچ روپے فیس مولود شریف کی پڑھوائی کے مقرر رکھے ہیں، بغیر پانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتا نہیں۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا: زید نے جو اپنی مجلس خوانی خصوصاً راگ سے پڑھنے کی اُجرت مقرر کر رکھی ہے ناجائز و حرام ہے، اسکا لینا اسے ہرگز جائز نہیں، اسکا کھانا صراحۃً حرام کھانا ہے۔ اس پر واجب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کر کے سب کو واپس دے، وہ نہ لےرہے ہوں تو ان کے وارثوں کو پھیرے، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پر تصدق کرے اور آئندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے تو گناہ سے پاک ہو۔ اوّل تو سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر پاک خود عمدہ طاعات و اَجل عبادات سے ہے اور طاعت و عبادت پر فیس لینی حرام ہے۔ (امام، مؤذن، معلم دینیات اور واعظ وغیرہ اس سے مستثنیٰ ہیں، ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ج19، ص486)۔ ثانیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعر خوانی و زمزمہ سنجی (راگ اور ترنم سے پڑھنے) کی فیس لیتا ہے، یہ بھی محض حرام۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: گانا اور اشعار پڑھنا ایسے اعمال ہیں کہ ان میں کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج23، ص725-724)
 
جو نعت خواں اسلامی بھائی ٹی وی یا محفل میں نعت پڑھنے کی فیس وصول کرتے ہیں اُن کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا، اہلسنّت کے امام، ولی کامل کا فتویٰ جوکہ یقیناً حکم شریعت پر مبنی ہے، وہ آپ تک پہنچانے کی جسارت کی ہے، حب ِ جاہ و مال کے باعث طیش میں آ کر تیوری چڑھا کر، اُلٹی سیدھی زبان چلا کر علمائے اہلسنّت کی مخالفت کرنے سے جو حرام ہے، وہ حلال ہونے سے رہا، بلکہ یہ تو آخرت کی تباہی کا مزید سامان ہے۔ 
ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ بات آئے کہ یہ فتویٰ تو اُن کیلئے ہے جو پہلے سے طے کر لیتے ہیں، ہم تو طے نہیں کرتے، جو کچھ ملتا ہے، وہ تبرکا ً لے لیتے ہیں، اسلئے ہمارے لئے جائز ہے، اُن کی خدمت میں سرکارِ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ایک اور فتویٰ حاضر ہے، سمجھ میں نہ آئے تو تین بار پڑھ لیجئے۔
تلاوتِ قرآن عظیم بغرضِ ایصالِ ثواب و ذکر شریف میلادِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور منجملہ عبادات و طاعت ہیں تو ان پر اِجارہ بھی ضرور حرام و محذور (ناجائز) اور اِجارہ جس طرح صریح عقد ِ زبان (واضح قول و قرار) سے ہوتا ہے، عرفاً شرطِ مَعْرُوف و مَعْھُود (رائج شدہ انداز) سے بھی ہو جاتا ہے مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہو گا (اور) وہ (پڑھنے والے بھی) سمجھ رہے ہیں کہ ’’کچھ‘‘ ملے گا، انہوں نے اس طور پر پڑھا، انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا، اجارہ ہو گیا، اور اب دو وجہ سے حرام ہوا (۱)ایک تو طاعت (عبادات) پر اِجارہ یہ خود حرام، (۲) دوسرے اُجرت اگر عرفاً معین نہیں تو اسکی جہالت سے اجارہ فاسد، یہ دوسرا حرام۔ (ملخص از: فتاویٰ رضویہ ج19، ص487-486) لینے والا اور دینے والا دونوں گنہگار ہوں گے۔ (ایضاً ص495) 
اس مبارک فتوے سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گیا کہ صاف لفظوں میں طے نہ بھی ہو تب بھی جہاں Understood ہو کہ چل کر محفل میں قرآنِ پاک، آیت کریمہ، درود شریف یا نعت شریف پڑھتے ہیں، کچھ نہ کچھ ملے گا رقم نہ سہی ’’سوٹ پیس‘‘ وغیرہ کا تحفہ ہی مل جائیگا اور بانی محفل بھی جانتا ہے کہ پڑھنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا ہی ہے۔ بس ناجائز و حرام ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ یہ ’اجرت‘ ہی ہے اور فریقین (یعنی دینے اور لینے والے) دونوں گنہگار۔
سفر اور کھانے پینے کے اخراجات پیش کر کے نعتیں سننے کی غرض سے نعت خواں کو ساتھ لے جانا جائز نہیں کیونکہ یہ بھی اُجرت ہی کی صورت ہے۔ لطف تو اسی میں ہے کہ نعت خواں اپنے اخراجات خود برداشت کرے، بصورتِ دیگر قافلے والے مخصوص مدت کیلئے مطلوبہ نعت خواں کو اپنے یہاں تنخواہ پر ملازم رکھ لیں مثلاً ذیقعدہ الحرام، ذوالحجہ الحرام اور محرم الحرام ان تین مہینوں کا اس طرح اجارہ (معاہدہ) کریں ’فلاں تاریخ سے لیکر فلاں تاریخ تک روزانہ اتنے بجے سے لیکر اتنے بجے تک (مثلاً دوپہر تین سے لیکر رات نو بجے تک) اتنے گھنٹے (چھ گھنٹے) کا آپ سے ہم نے ہر طرح کی خدمت کے کام کا اجارہ کیا اور یہ خدمت آپ سے مکے مدینے اور متعلقہ سفر میں لی جائے گی‘‘۔ (اگر مختلف ایام میں مختلف گھنٹوں میں کام لینا ہے تو  دنوں اور گھنٹوں کے تعین کیساتھ باقاعدہ بیان کیا جائے) اب اس دوران چاہیں تو اس سے کوئی سا بھی جائز کام لے لیں یا جتنا وقت چاہیں چھٹی دیدیں، حج پر ساتھ لے چلیں اور اخراجات بھی آپ ہی برداشت کریں اور خوب نعتیں بھی پڑھوائیں۔ یاد رہے! ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنا یعنی اجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے البتہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہوا ہے تو اب سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کر سکتا ہے۔
سامعین کی طرف سے نعت شریف پڑھنے کے دوران نوٹ پیش کرنا اور نعت خواں کا قبول کرنا درست ہے، اگر فریقین میں طے کر لیا گیا کہ نوٹ لفافے میں ڈال کر دینے کے بجائے دورانِ نعت پیش کئے جائیں یا طے تو نہ کیا مگر دلالۃً ثابت ہو کہ محفل میں بلانے والا نوٹ لٹائے گا تو اب اجرت ہی کہلائے گی اور ناجائز۔ بانی محفل جانتا ہے کہ نوٹ نہیں چلائیں گے تو آئندہ نعت خواں نہیں آئیں گے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں