08:43 am
کشمیر میں اسرائیلی ماڈل اور مفتی کفایت اللہ

کشمیر میں اسرائیلی ماڈل اور مفتی کفایت اللہ

08:43 am

ہمارے دوست اور جمعیت علماء اسلام کے رہنما مفتی کفایت اللہ ’’شہید‘‘ ہوتے ہوتے رہ گئے، بدمعاش دہشت گردوں نے تو سریوں کے ساتھ ان کی ہڈیاں اور پسلیاں توڑنے کی پوری کوشش کی تھی مگر شائد قدرت کو ابھی یہی منظور تھا کہ وہ ٹاک شوز میں اپنے دلائل و براھین والے دبنگ انداز تکلم سے مخالفین کی نیندیں اڑاتے رہیں، مفتی کفایت اللہ سفید ریش والے ممتاز عالم دین اور نامور سیاست دان ہیں، ان پہ حملہ آور دہشت گردوں کو گرفتار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ٹاک شوز میں ان کی (ر) جرنیلوں سے بالکل بھی نہیں بنتی تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کوئی بری بات نہیں ہے لیکن  لہجے میں متانت اور شائستگی برقرار ہے تو بڑی سے بڑی مخالفانہ بات بھی قابل برداشت ہوتی ہے، ابھی تک یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ مفتی صاحب پر حملہ کرنے والے نقاب پوش کون تھے؟ لیکن وہ جو کوئی بھی تھے انہوں نے اس طرح سے ایک بوڑھے عالم دین پر تشدد کرکے جو گھٹیا روایت قائم کی ہے۔ مجھے ڈرہے کہ اگر اس ’’عمل‘‘ کا ’’ردعمل‘‘ شروع  ہوگیا تو پھر بات بڑی دور تک جائے گی۔مفتی کفایت اللہ خود بھی امن پسند شخصیت کے حامل ہیں اور ان کی جماعت جمعیت علماء اسلام نے حال ہی میں کراچی سے اسلام آباد تک لاکھوں انسانوں پر مشتمل آزادی مارچ کیا۔
اسلام آباد میں کئی دن تک دھرنا بھی دیا۔ اپنے، پرائے،دوست،دشمن سب یہ بات تسلیم  کرنے پر مجبور ہوئے کہ جمعیت کا آزادی مارچ  انتہائی پرامن تھا۔ اسلام آباد میں دیا جانے والا دھرنا بھی امن و سلامتی کا خوگر رہا، ایک پرامن جماعت کے امن پسند رہنما پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے جبکہ مرکز میں عمران خان تخت نشیں ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ یہ مفتی کفایت اللہ پہ حملہ کرنے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ ملک اس وقت سخت ہیجانی کیفیت کا شکار ہے۔ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ عدالت میں زیر بحث ہے، افواہ ساز فیکٹریوں سے قسم قسم کی افواہیں پھیلا کر ملک میں بے چینی کی فضاء پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، یہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک میں ہرحال میں قانون کی حکمرانی کے تصور کو اجاگر رکھا جائے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو لگے 115دن ہوچکے،امریکہ کے شہر نیویارک میں کشمیری پنڈتوں اور بھارتیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکروتی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نریندر مودی انتظامیہ کشمیر میں ہندو آبادی کو نو آبادیاتی یقینی بنانے کے لئے اسرائیل کی طرز پر قائم کردہ  قبضہ بستیوں کی تعمیر کرے گی، سندیپ چکروتی کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل فلسطینی علاقوں میں اپنے لوگوں کو آباد کر سکتا ہے تو ہم بھی اس کی  پیروی کرتے ہوئے کشمیر میں ہندوئوں کو بسا سکتے ہیں، ہمارے حکمران اور اپوزیشن سیاست کھیل رہے ہیں جبکہ نریندر مودی حکومت کی ساری توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی گرفت کی مضبوطی پر مرکوز ہے۔ نریندر مودی کی حکومت کشمیر کو بھارت کا صوبہ بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور عمران خان حکومت  رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دفاع پر اپنی ساری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔
گو کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر میں اسرائیلی ماڈل لانے کے  بھارتی اعلان کو فسطائی سوچ قرار دیا ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اس فسطائی سوچ کا مقابلہ کرنے کے لئے انہوں نے کیا حکمت عملی بنائی ہے؟ عمران خان نریندر مودی کو کئی بار ’’ہٹلر‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں لیکن پھر اسی ’’ہٹلر‘‘ کو وہ مس کالیں کرنے سے بھی  پیچھے نہیں ہٹتے۔ اسی ’’ہٹلر‘‘ سے وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کی توقع بھی رکھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر میں اسرائیلی ماڈل لانے کا بھارتی اعلان فسطائی سوچ کا  مظہر ہے تو پھر عمران خان نے اس فسطائی سوچ کا مقابلہ کرنے کے لئے  کیا حکومتی اقدامات اٹھائے؟ دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ بھارت کے فسطائی ہتھکنڈوں کا نشانہ کشمیر کے مسلمان بن رہے ہیں،بھارت کشمیریوں پر مظالم کی ساری حدیں توڑ چکا ہے اور پاکستان ابھی تک عالمی برادری کی امداد کی طرف ہی دیکھ رہا ہے۔ شاید وزیراعظم عمران خان یہ سمجھتے ہوں کہ امریکہ، اقوام متحدہ یا عالمی برادری کشمیر کو فتح کرکے پاکستان کی جھولی میں ڈال دے گی، ناممکن  ناممکن۔کشمیر کو آزاد کروانے کے لئے پاکستان کو جارحانہ عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے،ہر آنے والا دن کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، نئی نئی داستانیں اپنے دامن میں سمیٹ کر رات کی تاریکی میں  ڈوب جاتا ہے مگر کشمیریوں پر مظالم کی داستاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، ہم 72سالوں سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر رہے  ہیں لیکن ہم کھڑے کہاں ہیں یہ آج تک ہم بھی جان نہیں پائے۔ کشمیریوں کو نریندر مودی کے فسطائی ہتھکنڈوں اور ہٹلرانہ مظالم سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان ہنگامی اور جہادی بنیادوں پر ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا پوری دنیا کو نظر آئے۔
عمران خان تحریک انصاف کے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ انہیں صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کو ہی نہیں بلکہ ساری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہے، سیاسی نفرتوں کو اس قدر ہوا نہ دی جائے کہ عمران خان کے مخالف پاکستانی ان کے سائے سے ہی بھاگنے پر مجبور ہو جائیں،پاکستان اس وقت سیاسی نفرتوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، کہا جاتا تھا کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی ، لیکن چہار اطراف پھیلی ہوئی نفرتوں کو دیکھ کر میں یہ بات لکھنے پر مجبور ہوں کہ عمران خان  عوام کے لئے ماں، باپ کی شفقت کا کردار تو کیا ادا کرتے، الٹا ان کا اقتدار عوام کے لئے ایک ڈرائونا خواب بنتا جارہا ہے، ان حالات میں حکومت کے سخت ترین ناقد مفتی کفایت اللہ پر ہونے والا حملہ کہیں ملک میں کسی مزید خلفشار کا سبب نہ بن جائے۔ سریے، راڈ، گولی اور گالی سے حالات بگڑا کرتے ہیں، سنورا نہیں کرتے، اس لئے گولی اور گالی کی بجائے دلیل سے بات کرنا ہی عقلمندی کی علامت ہے۔