08:44 am
بھارتی مسلمانوں کی نئی آزمائش

بھارتی مسلمانوں کی نئی آزمائش

08:44 am

بھارت میں عام انتخابات کے نتائج دیکھ کرہی سیاسی مبصرین اوربالخصوص مودی کے ناقدین نے اپنے شدیدخدشات کااظہارکردیاتھا کہ اب بھارت کی سیاسی ثقافت مکمل طورپرتبدیل ہوجائے گی۔مودی دوسری باروزیراعظم منتخب ہوئے اوران کے پہلے دورِحکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے میں نے تحریرکیا تھا کہ اب بھارت کے مسلمانوں کیلئے بھی مسائل بڑھ جائیں گے اور میرے خدشات صدفیصددرست ثابت ہوئے اور مودی کے دوسری باروزیراعظم بننے پر بھارتی مسلمانوں میں بجاطورپرخوف میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری بار کامیابی نے بی جے پی کے کارکنوں اور قیادت کی طرزِ فکر وعمل میں مسلمانوں کے حوالے سے مزیدسختی پیداکردی ہے۔پہلے دورِحکومت میں بھی بھارتیہ جنتاپارٹی نے مسلمانوں کیلئے غیر لچک داررویہ اپنایاتھا۔انتہاپسندی عروج پرتھی ۔ نئی دہلی کے نواح میں گڑگائوں کے علاقے میں مقامی کونسل کے سربراہ شہزادخان کہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمان محفوظ نہیں۔مسائل بڑھ گئے ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کی تعداد کم وبیش 21کروڑہے۔اتنی بڑی اقلیت ہونے کے باوجود انہیں مسائل کاسامناہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوبارہ اقتدارمیں آنے پربھارتی مسلمان خود کو مزیدالگ تھلگ محسوس کررہے ہیں۔ان کے خدشات میں اضافہ ہوگیاہے۔وہ اچھی طرح جانتے  ہیں کہ جو کچھ پچھلے دورمیں ہوااب اس سے زیادہ ہوگا اوربابری مسجدکے فیصلے نے شکوک کویقین میں تبدیل کردیاہے۔
حالیہ انتخابات کے حوالے سے جومہم چلائی گئی تھی وہ کئی حوالوں سے انتہائی نوعیت کی تھی۔ایک طرف توآسام میں بسنے والے بنگالی مسلمانوں کو بنگلا دیشی قراردیکرانہیں ملک سے نکالنے پرزوردیاگیااور دوسری طرف گاندھی کوقتل کرنے والے نتھورام گوڈسے کوحقیقی محب وطن قراردینے کی بھرپورکوشش کی گئی۔نتھورام گوڈسے نے گاندھی کواس لیے قتل کیا تھاکہ اس کے خیال میں وہ مسلمانوں کے مطالبات کوکچھ زیادہ اہمیت دے رہے تھے اوران کی طرف جھک گئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہرپیداکرنے کی بھرپورکوشش سے بھارتیاجنتاپارٹی نے کسی بھی مرحلے پرگریزنہیں کیا۔ اس کے باوجود قوم نے بی جے پی کوپسندکیا اور27کروڑووٹروں نے بی جے پی کو مینڈیٹ سے نوازاجو ایک نیاریکارڈہے اوریقیناً وزیراعظم عمران خان کی بھارتی پائلٹ کی غیرمشروط رہائی نے بھی کلیدی کرداراداکیا۔
آج کے بھارت میں مسلمانوں کیلئے اٹھ کھڑے ہونے والے مسائل سے متعلق کتاب کی مصنفہ نازیہ ارم کہتی ہیں پانچ سال قبل جب بی جے پی نے ووٹ مانگے تھے تب اس کے سامنے ترقی کاایجنڈاتھا۔اِس نکتے پرزوردیاگیاتھاکہ بھارت کونئی زندگی بخشی جائے گی۔ قوم کویقین دلایاگیاتھاکہ ترقی کانیادورشروع ہو گا،جس کے نتیجے میں عوام کوبھرپورزندگی بسرکرنے کاموقع ملے گا۔ہمیں یقین تھاکہ پانچ سال قبل بی جے پی نے اقتدارملنے کے بعدجوکچھ کیاتھااس کی روشنی میں اِس بارقوم غلطی نہیں کرے گی،یعنی حساب مانگے گی اور ووٹ کے ذریعے فیصلہ سنائے گی مگرافسوس کہ ایساکچھ بھی نہیں ہوا۔ہم غلطی پر تھے ۔
اِس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ بھارت میں واضح ہندواکثریت اورمسلم اقلیت کے درمیان کشیدگی رہی ہے اوردونوں مذاہب کے ماننے والوں کے اندرونی اختلافات بھی کم نہیں رہے مگرپھریہ انتہائی افسوسناک امریہ ہے کہ بی جے پی کے گزشتہ دورمیں گائے کی حفاظت کے نام پرمیدان میں نکلنے والے انتہاپسندوں کے ہاتھوں ملک بھرمیں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ تشددمیں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دورمیں گائے کی حفاظت کاذمہ لینے والے انتہا پسند ہندوئوں کے ہاتھوں45مسلمان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔گڑ گائوں میں دوسرے علاقوں سے آنے والے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔یہ لوگ مقامی فیکٹریزمیں ہندوئوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔گڑگائوں صنعتی علاقہ ہے جس میں آئی ٹی کی بہت سی کمپنیاں بھی کام کرتی ہیں۔اس علاقے میں مسلمانوں کیلئے نمازپڑھنے کی جگہ بھی کم پڑتی جارہی ہے۔مساجدمیں زیادہ گنجائش نہیں،جس کے باعث مسلمان سڑکوں پریاکھلے مقامات پرنمازاداکرتے ہیں۔اس پربہت سے ہندوئوں کو اعتراض ہے۔مسلمانوں کونئی مساجد تعمیر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔کھلے مقامات پرنمازادا کرنے کے خلاف مہم چلانے والے ہندوقوم پرست گروپ کے سربراہ راجیو متل کاکہناہے کہ ہماری مہم دراصل ٹائون پلاننگ کے اصولوں کے مطابق ہے۔ہم اس بات کے خلاف نہیں کہ مسلمان نمازپڑھیں۔ ہمارا زوراس بات  پرہے کہ وہ مساجدمیں یاپھرنماز کیلئے مختص دیگرمقامات ہی پرنمازاداکریں۔
بی جے پی کے بہت سے کارکن اورقائدین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حال ہی میں ختم ہونے والے مودی کے پہلے دورِوزارتِ عظمیٰ کے دوران  ہندومسلم فسادات کی تعدادنہ ہونے کے برابررہی۔ان کایہ بھی دعویٰ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کی لہرنہیں پائی جاتی۔انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی بہت سی تنظیموں اورگروپس کی رائے بالکل اس کے خلاف ہے۔ان کاکہناہے کہ بی جے پی کے پچھلے دورِحکومت میں مسلمانوں کونشانے پررکھنے کی روش پروان چڑھائی گئی اوران کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہوا۔مودی کے گزشتہ دورِحکومت میں مجموعی طور پرفضا ایسی رہی کہ مسلم مخالف جذبات کو کھل کرپنپنے کاموقع ملااور اِس حقیقت سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ مسلمان خودکوپہلے سے زیادہ غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔انتہا پسندہندواب بہت کھل کرسامنے آچکے ہیں۔وہ اپنے ارادوں کوعملی جامہ پہنانے میں ذرابھی باک محسوس نہیں کرتے۔
ہیومن رائٹس واچ کی سائوتھ ایشین ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کہتی ہیں فسادات سے زیادہ  خطرناک بات یہ ہے کہ اب کسی بھی وقت کسی بھی مسلمان کونشانہ بنایا جاسکتا ہے۔سبزی بیچنے والے مسلمانوں کوبھی گھیر کرتشددکانشانہ بنایا جاتا ہے۔بہت سے مسلمان گھر سے کھانالیکرنکلتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں گائے کا گوشت چیک کرنے کے نام پرتلاشی لینے کے عمل میں انہیں تشددکا نشانہ نہ بنایاجائے۔انتہاپسندہندویہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کسی بھی معاملے میں اختلافی آوازاٹھانے کاپوراحق ہے اوراس معاملے میں  وہ تشددکی راہ پر گامزن ہونے سے ذرابھی گریزنہیں کرتے۔دوسری طرف مسلمانوں اوردیگراقلیتوں کوپورایقین ہے کہ اگر انہیں تشددکا نشانہ بنایاجائے گاتوریاست کسی بھی مرحلے پرمداخلت نہیں کرے گی۔        (جاری ہے)


حالیہ انتخابی مہم نظریاتی اعتبارسے غیرمعمولی تھی۔کانگریس کے ششی تھروکے مطابق یہ بھارت کیلئے نظریاتی اورروحانی شناخت کامعاملہ تھا۔ان کا استدلال ہے کہ بی جے پی نے بھارت کی نظریاتی شناخت کوانتہائی مسخ کردیاہے۔مودی کے پہلے دورِحکومت میں جوکچھ ہوا،اس کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہوگیاہے۔بہت جلدبھارت آبادی کے حوالے سے دنیاکاسب سے بڑاملک ہوگااورایسے میں انتہاپسندی کاجن پوری طرح بوتل سے باہرآئے گااورخرابیاں قابوسے باہرہوجائیں گی۔بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہروکے دورمیں بھارتی قوم پرستی جس نوعیت کی تھی وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔تب قومی سوچ غالب تھی،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے پنپنے کی گنجائش تھی اورلوگ تمام باتیں بھول کربھارت کاسوچتے تھے۔بی جے پی نے ہندوانتہاپسندی کواس قدرپروان چڑھایاہے کہ اب بھارت کاسیکولرازم دائو پر لگ چکاہے اوربھارت کے ہندوریاست ہونے کابھرپورتاثرابھرکرسامنے آچکاہے۔
نہرومجموعی طورپراس بات کے حق میں تھے کہ بھارت میں تمام مذاہب کے لوگ مل کررہیں اورملک کی بہبودکیلئے کام کریں۔دوسری طرف ونایک ساورکر تھے جواگرچہ ملحدتھے مگر ہزاروں سال سے اس خطے میں بسے ہوئے ہندوئوں کوملک کی سب سے بڑی حقیقت کے طورپرتسلیم کرانے کے حق میں تھے اور ان کے نظریے کی روشنی میں بھارت میں صرف ہندوئوں کیلئے گنجائش تھی،مسلمانوں کیلئے ذرابھی گنجائش نہ تھی۔ ساور کرکے نظریے کے مطابق صرف ہندوئوں کو بھارت کی سرزمین پررہنے کاحق تھااوراس کا سبب یہ تھا کہ ان کے دیوی دیوتائوں،رسوم ورواج اورثقافت کاتعلق بھارتی سرزمین سے تھا۔دوسری طرف مسلم اورمسیحی ان کی نظرمیں بھارت میں رہنے کے حق دارنہ تھے کیونکہ ان کی مقدس سرزمین عرب تھی یاپھرفلسطین اوریہ کہ ان کے خدا کی سرزمین بھی بھارت نہ تھی۔
کون ہندوستانی ہے اورکون نہیں،اس حوالے سے ہندوئوں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ساورکرکی نظرمیں صرف ہندوئوں کو ہندوستان میں رہنے کاحق تھا۔انہوں نے اس بات پرزوردیاکہ ہرہندوکوعسکری تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ان کے نظریات کے مطابق معرض وجود میں آنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ میں اب تھوڑی بہت تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے اذہان کاکہناہے کہ مسلمانوں اورمسیحیوں کو نظر انداز کرکے بھارت کو مکمل تصورنہیں کیا جاسکتا۔ ان کی نظرمیں مسلمان اورمسیحی بھی اپنے مذہب کے ساتھ ملک کالازمی حصہ ہیں اورانہیں تسلیم کیاجاناچاہیے۔
انتہاپسنداوربنیادپرست ہندوئوں کادعوی ہے کہ نہرونے سیکولرازم کی بات صرف اس لیے کی تھی کہ مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔ان کے خیال میں مسلمانوں کوشرعی اصولوں کے مطابق شادی کی اجازت دیکریاکشمیریوں کیلئے زیادہ خودمختاری کااعلان کرکے صرف ووٹ بٹورے جاسکتے ہیں ،بھارت کی حقیقی خدمت نہیں کی جا سکتی۔آج بھارتی معاشرہ مکمل طورپرتبدیل ہوچکاہے۔نہرونے ہندوقوم پرستی کی شکل میں ابھرنے والی انتہاپسندی کوکچلنے کیلئے آرایس ایس پرپابندی سمیت بہت سے اقدامات کیے۔یہ تمام اقدامات اب کچراکنڈی کی نذرہوچکے ہیں۔آج کے بھارت میں سیکولرازم کے پنپنے کی گنجائش برائے نام دکھائی دے رہی ہے۔مجموعی سوچ انتہاپسندی کی ہوچکی ہے ۔ بی جے پی اس سوچ کومزیدپروان چڑھانے پرتلی ہوئی ہے۔
ایک زمانہ تھاکہ کبھی کبھی کوئی ہندو مسلم فسادہوجاتاتھا۔اب یہ سب کچھ یومیہ بنیاد پر ہو رہاہے۔تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں ہندو اکثریت ہے وہاں مسلم اوردیگر غیرمسلم طلبہ کو واضح طورپرامتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں تشددکانشانہ بنایاجاتاہے اورپوری کوشش کی جاتی ہے کہ وہ دب کررہیں،ان کی شخصیت مسخ ہوجائے۔نازیہ ارم نے اپنی کتاب کی تیاری کیلئے درجنوں طلبہ اوران کے والدین سے گفتگو کی۔انہیں بتایاگیاکہ تعلیمی اداروں کو انتہا پسندوں نے خصوصی طور پرنشانہ بنایا ہے۔ بھرپورکوشش کی گئی ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بہتراندازسے تعلیم مکمل نہ کرسکیں اوران میں مجموعی طورپرخوف کا ماحول برقراررہے۔اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروں میں بھی یہی ماحول پنپ رہاہے۔ایک دورتھاکہ کسی بھی معاملے پرہندومسلم فسادہوتاتھاتوکچھ دن بعدمعاملات معمول پرآجاتے تھے اورسب پھرمل جل کررہنے لگتے تھے۔اب ایسانہیں ہے۔اب مسلمانوں میں الگ تھلگ رہنے کارجحان خطرناک حد تک پروان چڑھ چکا ہے۔ وہ ہندوئوں سے واضح طورپرالگ رہنے پرمجبورہیں۔نازیہ ارم کاکہناہے کہ الیکٹرانک چینل اورسوشل میڈیانے معاملات کوانتہائی بگاڑدیاہے۔سوشل میڈیاپرہروقت کوئی نہ کوئی اِیشوزندہ رکھاجاتاہے۔پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آہنگی کی فضاکسی بھی طورپیداہی نہ ہو۔اختلافی امورکوہوادی جاتی ہے۔ملک کے بارے میں عمومی تاثریہ ہے کہ یہاں توہمیشہ کشیدگی ہی برقراررہتی ہے۔نازیہ کہتی ہیں کہ بھارت میں بہت کچھ خطرناک حدتک بدل چکاہے۔کل تک لوگ  ساتھ رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے بھی تھے۔اب ایسانہیں ہے۔ اب صرف شکوک ہیں،نفرت ہے اور کشیدگی ہے۔
ستم ظریفی تویہ ہے کہ تقسیم  ہندکے بعدجب پاکستان سکھوں کی مذہبی ٓآزادی کااحترام کرتے ہوئے کرتارپورراہداری کاباقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے دنیابھرکی سکھ برادری کا دل جیت رہے تھے ،عین اسی دن بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجدکافیصلہ کرتے ہوئے بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے مذہب کے استعارہ ’’بابری مسجد‘‘کاہندوئوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے عالمی طورپراپنے منہ پرکالک ملنے کا بھرپور مظاہرہ کیاجس پرخودبھارت کے مسلمانوں میں شدیدبے چینی پیداہوگئی ہے اورمسلمان رہنماء اسدالدین اویسی سمیت بے شماردیگرمسلمان رہنماء چیخ اٹھے ہیں۔یقیناً آج انہیں دوقومی نظریہ کی حقانیت کا ضرورپتہ چل گیاہے کہ سفاک مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کامستقبل کیا ہے ؟