08:45 am
صد شکر !مسئلہ حل ہو گیا!

صد شکر !مسئلہ حل ہو گیا!

08:45 am

٭بالآخر جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا معاملہ سلجھ گیا۔ حکومت نے چھ ماہ میں مناسب قانون سازی کی مدت طلب کر لی۔ سپریم کورٹ نے چھ ماہ کی مدت دے دی۔ اس دوران حکومت کی نااہلی اور حماقتوں نے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی ملک کی رسوائی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایک عام سے معاملہ پر پانچ سمریاں! ایک سمری واپس، تین مسترد پھر عدالت کی رہنمائی میں 5 ویں سمری! کروڑوں روپے بجٹ والی وزارت، لاکھوں روپے ماہوار والے سیکرٹری، متعدد ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر، اٹارنی جنرل اور بے شمار دوسرے سینکڑوں اعلیٰ افسر! اور عدالت میں پیش کی جانے والی چند سطری سمریاں غلط!! اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج کے مطابق ایسی وزارت قانون کی ضرورت کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں  توسیع کی جواجازت دی ہے اس پر قوم نے شکر کا سانس لیا ہے۔ مختصر فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ چھ ماہ میں آرمی چیف کی تقرری و توسیع کا نیا قانون بنائے گی۔ دودنوںکی اعصاب شکن کارروائی کے دوران حکومت کی نااہلی اور حماقتوںکی بار بار بازگشت سنائی دی۔ اس کی وزارت قانون نے ایک موضوع پریکے بعد دیگرے اس کیس کی چار سمریاں پیش کیں، چاروں ناقص اور نامکمل نکلیںپھر 5 ویں آ گئی! اٹارنی جنرل کے لئے یہ چاروں سمریاں مصیبت بن گئیں۔ عدالت کے روبرو کبھی ایک بیان پھر اپنے ہی بیان کے برعکس بیان۔ ایک بار کہا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا، پھر کہا کہ ریٹائر ہوتا ہے۔ اور حکومت کی قلابازیاں! آج تک کسی حکومت کی ایسی نااہلی اور نالائقی دیکھنے میں نہیںآئی، جس کے اقدامات کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ سپریم کورٹ میں چار حماقت خیز سمریوں کے بارے میں اخبارات میں جو تفصیل سامنے آتی رہی ہے اس پر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ 19 اگست کو جنرل باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ وزیراعظم نے یہ جانے بغیر کہ اس عہدہ کے اختیارات کی حدود کیا ہیں؟ خود کو لامحدود اختیارات کا مختارِ کل سمجھتے ہوئے جو جی میں آیا حکم جاری کر دیا پھر یُوٹرن لے لیا۔ 19 اگست والی سمری غلط نکلی اسے واپس لے لیا پھر کروڑوں روپے کے بجٹ والی وزارت قانون نے ایسے شرم ناک گل کھلائے کہ سپریم کورٹ کا معاملہ اپنی جگہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی کو کہنا پڑا کہ ’’وزارت قانون کی کیا ضرورت ہے، وہ جو نوٹیفکیشن بھی بناتی ہے، غلط ہوتا ہے۔‘‘ حیرت ہے انور منصور جیسے ممتاز قانون دان اس ’بے مثال‘ حکومت کے اٹارنی جنرل کے عہدے سے اب بھی چمٹے ہوئے ہیں!
یہ سارا معاملہ پوری قوم کے اعصاب پر پریشان کن بوجھ بن گیا۔ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں صرف چند گھنٹے رہ گئے تھے۔ حکومتی نمائندے سپریم کورٹ کو متعلقہ قوانین میں متعدد خامیوں کے بارے میں مطمئن نہ کر سکے تھے۔ سپریم کورٹ کسی بھی غیر قانونی اقدام کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی۔ عجیب نفسیاتی کشیدگی اور تنائو کی فضا چھا رہی تھی۔ آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع رک جاتی تو یہ انتہائی اہم عہدہ خالی ہو جاتا اور ملک میں پہلی بار فوج کسی کمانڈ کے بغیر رہ جاتی۔ یہ نہائت نازک صورت حال تھی۔ ملک بھر میں پریشانی پھیل رہی تھی۔ خود سپریم کورٹ بھی اس صورت حال سے بچنا چاہتی تھی۔ سوچنا بھی محال ہو رہا تھا کہ ملک کی فوج کی کمانڈ موجود نہ ہو اور روائتی کمینہ صفت دشمن ہمسایہ ملک پر چڑھائی کر دے تو ملک کو بچانے کی ذمہ داری کون نبھائے گا؟ حالت یہ تھی کہ حکومت کی انتہائی نالائق اور نااہل وزارت قانون کی چوتھی سمری بھی ناقص نکلی۔ اس سمری کی منظوری کے لئے وزراء کے گھروں پر قاصدبھیجے گئے۔ انتہائی افراتفری میں چوتھی سمری بنائی گئی اس میں پھر اپنی صوابدید پر آرمی چیف کی ملازمت میں تین سال کی توسیع شامل کر دی گئی جس کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے پھر اعتراض کر دیا۔ اور پھر اچانک اٹارنی جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ انتہائی نازک صورت حال میں حکومت کو نیا قانون بنانے کی اجازت دی جائے۔ یہ مناسب اور معقول حل تھا۔ سپریم کورٹ نے اسے ان شرائط کے ساتھ منظور کر لیا کہ توسیع کی  قانون سازی کی مدت چھ ماہ ہو گی موجودہ حالات میں توسیع کی مدت سپریم کورٹ طے کرے گی۔ اس دوران پارلیمنٹ ضروری قانون بنائے گی۔
٭ ایک اور منظر: سابق دور میں حکومتی سطح پر سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا اور موجودہ حکومت نے خود ہی اس مقدمہ کا فیصلہ روکنے کی درخواست کر دی! عدالت میں حکومت کے مضحکہ خیزموقف پرفاضل سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’’اس وزارت قانون کی کیا ضرورت ہے، جو بھی نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے، غلط ہوتا ہے‘‘ دوسرے جج جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’’حکومت کی غلطیاں ہم کیوں ٹھیک کریں، وہ خود ٹھیک کرے!‘‘
٭سپریم کورٹ میں اس انتہائی اہم کیس کی سماعت کے دوران بھارتی میڈیا اور قانونی حلقوں نے پاکستان کی حکومت کا بھرپور تمسخر اڑایا کہ یہ حکومت بالکل ناکام ہو چکی ہے اسے قانونی سمری بھی بنانا نہیں آتی، چار سمریاں بنائیں، چاروں غلط نکلیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس گووند ماتھور نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے طنز کی کہ پاکستان قانون سازی اور قانون کی حکمرانی میں بھارت سے بہت پیچھے رہ گیا ہے، وہ ہر معاملہ میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس جج سے کون سوال کرتا کہ تمہاری عدالت نے بابری مسجد کو شہید کرنے کا مقدمہ کس جواز کے ساتھ 27 برسوں تک لٹکائے رکھا؟ سمجھوتہ ٹرین میں بہت سے مسلمانوں کو زندہ جلانے اور اسکا اعتراف کرنے والے بھارتی فوجی کرنل کو کس قانون کے تحت بری کر دیا؟ بہت سی اور مثالیں بھی ہیں مگر میں بھارت کو کیا کہوں؟ خود میرے ملک کی حکومت ایک کیس میں چار سمریاں جاری کرتی ہے، چاروں غلط نکلتی ہیں! استغفار!
٭حکومت نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمہ کا فیصلہ رکوا دیا، اس پر پاکستان بار کونسل نے ملک بھر میں وکلا کی ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ حکومت کا یہ اقدام بلاشبہ قابل اعتراض اور قابل مواخذہ ہے مگر وکلا کی ہڑتال!! یہ بھی عوام اور عوامی مفاد کے خلاف ناپسندیدہ بلکہ غیر قانونی حرکت ہے۔ ایک رواج بن گیا ہے کہ وکلا ذرا ذرا سی بات پر ہڑتال کر دیتے ہیں۔ اس کا کوئی اخلاقی، اصولی و قانونی جواز نہیں۔ ان لوگوں نے ہڑتال کو تفریحی مشغلہ بنا لیا ہے۔ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ کچہریوں میں پولیس کے افسرو ں اور اہلکاروں کو زدوکوب کرتے ہیں، سڑکیں بند کر کے عوام کو آمدورفت کو روک دیتے ہیں، ہسپتالوں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور پھر الٹا ہڑتال کر دیتے ہیں۔ پتہ نہیں کالا کوٹ پہنتے ہی یہ لوگ خود کو آئین و قانون سے مبرا کیوں سمجھتے ہیں؟ مگر یہ عمل صرف نئے نئے وکیل کرتے ہیں۔ میری صحافت کاطویل عرصہ وکلا کے درمیان گزرا ہے۔ بیشتر سینئروکلا ہڑتالوں کے مخالف ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ وکیل اپنے موکل سے پیشگی بھاری فیس وصول کر کے اس کے کیس کی مسلسل پیروی کا پابند ہو جاتا ہے۔ غریب موکل عوام بھاری اخراجات اٹھا کر دور دور سے آتے ہیں اور یہ دیکھ کر سخت اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کا وکیل عدالت میں جانے کی بجائے سڑک پر کھڑا نعرے لگا رہا ہے! ہڑتال وکیل اور موکل کے درمیان معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہے عدالت میں جان بوجھ کر پیش نہ ہونا قانونی طور پر قابل مواخذہ جرم ہے۔ مگر آج تک کسی سطح پر کبھی اس کا نوٹس نہیں لیا گیا! ویسے نوجوان ڈاکٹروں کی آئے دن ہڑتالوں کا کبھی کسی نے نوٹس لیا؟ ڈاکٹری تو ویسے ہی مقدس پیشہ ہے۔ یہ لوگ بھی جب تفریح کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ سڑکیں بند کر کے پک نک منانے لگتے ہیں! آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
٭ان سارے معاملات میں مقبوضہ کشمیر کی حالت زار کا معاملہ دب گیا۔ پلوامہ میں بھارتی فوج نے تین مزید کشمیری نوجوان شہید کر دیئے۔اس بارے میں پاکستان سے کوئی سرکاری، غیر سرکاری ردعمل! جنرل اسمبلی میں ایک تقریراور بس!

تازہ ترین خبریں