07:26 am
نعت خواں اور نذرانہ

نعت خواں اور نذرانہ

07:26 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
 نعت خواں بھی اسی لئے دلچسپی سے آتے ہیں کہ یہاں نوٹ چلتے ہیں تو کئی صورتوں میں یہ لین دین بھی اُجرت بن جائیگا اور ثواب کی بجائے گناہ و حرام کا وَبال سر آئیگا لہٰذا نعت خواں غور کر لے کہ رضائے الٰہی مقصود ہے یا محض روپے کمانا؟ کاش! اے کاش! صد کروڑ کاش! اخلاص کا دور دورہ ہو جائے اور نعت خوانی جیسی عظیم سعادت کو چند حقیر سکوں کی خاطر برباد کرنے والی حرص کی آفت ختم ہو جائے۔
اُن کے سوا کسی کی دِل میں نہ آرزو ہو
دُنیا کی ہر طلب سے بیگانہ بن کے جائوں
سب کے سامنے اُٹھ اُٹھ کر نوٹ پیش کرنے والا اپنے ضمیر پر لازمی غور کر لے کہ اگر اس سے کہا جائے، سب کے سامنے بار بار دینے کی بجائے نعت خواں کو چپکے سے اکٹھی رقم دے دیجئے کہ حدیث پاک میں ہے: ’’پوشیدہ عمل، ظاہری عمل سے 70 گنا افضل ہے‘‘۔ (فردوس الاخبار، ج3ص153) تو وہ چپ چاپ دینے کیلئے راضی ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا اسلئے کہ ’’واہ واہ‘‘ نہیں ہو گی! اگر واہ واہ کی خواہش ہے تو ریاکاری ہے اور ریاکاری کی تباہ کاری کا عالم یہ ہے کہ سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حُبُّ الْحَزَن‘‘ سے پناہ مانگو۔ عرض کیا گیا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: جہنم میں ایک وادی ہے کہ جہنم بھی ہر روز چارسو مرتبہ اس سے پناہ مانگتا ہے، اس میں قاری داخل ہونگے جو اپنے اعمال میں رِیا کرتے ہیں۔ (ابن ماجہ۔ ج1، ص166، حدیث256، دارالمعرفۃ بیروت)۔ بہرحال دینے میں ریاکاری پیدا ہوتی ہو تو رقم ضائع نہ کرے اور آخرت بھی دائو پر نہ لگائے، نیز اگر نوٹ چلانے سے ’’محفل گرم‘‘ ہوتی ہو یعنی نعت خواں کو جوش آتا ہو مثلاً نوٹ آنے کے سبب شعر کی بار بار تکرار، اُس کیساتھ اضافہ اشعار، آواز بھی پہلے سے زوردار پائیں تو بار بار سوچ لیں کہ کہیں اِخلاص رُخصت نہ ہو گیا ہو، پیسوں کے شوق میں پڑھنے والے کو دینا ثواب کے بجائے اس کی حرص کی تسکین کا ذریعہ بن سکتا ہے اسلئے دینے والوں کو بھی اس میں احتیاط کرنی چاہئے اور نعت خواں کے اخلاص کا خون کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ دیکھنے سننے والے کو کسی معین نعت خواں پر بدگمانی کی اجازت نہیں۔
جہاں خوب نوٹ نچھاور ہوتے ہوں وہاں نعت خواں کا اہتمام کیساتھ جانا، اختتام تک رُکنا مگر غریبوں کے یہاں جانے سے کترانا، حیلے بہانے بنانا، یا گئے بھی تو دُنیوی کشش نہ ہونے کے سبب جلد لوٹ جانا سخت محرومی ہے اور ظاہر ہے کہ اخلاص نہ رہا۔ اگر پیسے، کھانا یا اچھی شیرینی ملنے کی وجہ سے مالدار کے یہاں جاتا ہے تو ثواب سے محروم ہے اور یہی کھانا اور شیرینی اس کا ثواب ہے۔ یونہی غریبوں سے کترانا اور مالداروں کے سامنے بچھے بچھے جانا بھی دین کی تباہی کا سبب ہے۔ منقول ہے: ’’جو کسی غنی (مالدار) کی اسکے غنا (مالداری) کے سبب تواضع کرے اسکا دوتہائی دین جاتا رہا‘‘۔ (کشف الخفاء، ج2، ص215، دارالکتب العلمیۃ بیروت) عدم شرکت کیلئے جھوٹے حیلے بہانے بنانا مثلاً تھکن و مرض وغیرہ نہ ہونے کے باوجود ’میں تھکا ہوا ہوں‘ طبیعت ٹھیک نہیں، گلا خراب ہو گیا ہے، وغیرہ زَبان یا اشارے سے کہنا ممنوع و ناجائز اور حرام ہے۔
اگر کوئی نعت خواں صراحۃً یا دلالۃً ملنے والی اُجرت یا رقم کا لفافہ لیکر مسجد، مدرسے یا کسی دینی کام میں صرف کر دے تب بھی اُجرت لینے کا گناہ دُور نہ ہو گا۔ واجب ہے کہ ایسا لفافہ یا تحفہ قبول ہی نہ کرے۔ اگر زندگی میں کبھی قبول کر کے خود استعمال کیا یا کسی نیک کام مثلاً مدرسے وغیرہ میں  دیا ہے تو ضروری ہے کہ توبہ کرے اور جس جس سے جو لیا ہے اُس کو واپس لوٹائے، وہ نہ رہے ہوں تو اُن کے وارثوں کو دے، وہ بھی نہ رہے ہوں یا یاد نہیں تو فقیر پر تصدق (خیرات) کرے۔ ہاں چاہے تو پیش کرنے والے کو صرف مشورہ دیدے کہ آپ اگر چاہیں تو یہ رقم خود ہی فلاں نیک کام میں خرچ کر دیجئے۔
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نعت شریف سن کر سیدنا امام شرف الدین بوصیری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو خواب میں ’’بردِ یمانی‘‘ یعنی ’’یمنی چادر‘‘ عنایت فرمائی اور بیداری ہونے پر وہ چادر مبارک اُن کے پاس موجود تھی، اسی وجہ سے اس نعت شریف کا نام قصیدہ بردہ شریف مشہور ہوا۔ اگر اس واقعہ کو دلیل بنا کر کوئی کہے کہ نعت خواں کو نذرانہ دینا سنت اور قبول کرنا تبرک ہے تو اسکا جواب ہے کہ بیشک سرکارِ دوعالم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عطا فرمانا سر آنکھوں پر، یقیناً سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بردِ یمانی عطا کرنے کا طے نہیں فرمایا تھا نہ ہی معاذ اللہ امام بوصیری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے شرط رکھی تھی کہ چادر ملے گی تو پڑھوں گا بلکہ اُن کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ بردِ یمانی عنایت ہو گی۔ آج بھی اسکی تو اجازت ہی ہے کہ نہ اُجرت طے ہو اور نہ ہی دلالۃً ثابت ہو اور نعت خواں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو اور اگر کوئی کروڑوں روپے دیدے تو یہ لینا دینا یقیناً جائز ہے۔    (جاری ہے)