07:27 am
سچ کیاہے

سچ کیاہے

07:27 am

میاں نواز شریف کی بیماری کےبارے میں حکومتی ذرائع جو ان کےملک سے جانے تک پوری جانکاری اور مختلف ذرائع حاصل ہونےوالی میڈیکل رپورٹوں جوخود حکومت کےتشکیل زدہ میڈیکل بورڈ نےجس میں ماہرین  شامل تھے اور جن کاتعلق شوکت خانم   ہسپتال سےبھی تھا اُن کی رپورٹ کوحکومتی سطح پر جانچا گیا تھا، انھیں درست تسلیم کرنے کےبعد بھی تمام حیلےاختیار کئےگئے۔ بندے کی جتنی زندگی لکھی ہوتی ہے
وہ  چاہے کتناہی کیوں نا بیمار ہو بےہوش ہو قومہ میں ہو چاہے کتناہی زخمی کیوں ناہو لیکن اسے بھی موت تب ہی آےگی جب اس کاوقت پورا ہوگا، اس سے پہلے نابعد یہ اللہ کاقانون ہے کسی کےچاہنے، کسی طرح کےحربےاستعمال کرنےسے کوئی نہیں مرتا۔اب جبکہ میاں نواز شریف بیرون ملک جاچکےوہ بھی عدالتی حکم کےمطابق گئے ہیں کسی انسانی ہمدردی کےتحت نہیں گئے،میاں صاحب کےاپنے گھر سےنکلتے ہی حکومت کےکارپردازوں کواحساس ہونےلگا کہ اُن سےغلطی ہوگئی میاں صاحب توٹھیک ٹھاک تھےکیونکہ وہ کسی اسٹریچر یاوہیل چیئر کےبجائے اپنے پیروں سےچل کر گاڑی میں بیٹھے، ائیرپورٹ پر اپنے پیروں سےچل کر جہاز میں سوار ہوئے اورسونےپہ سہاگہ وہ کسی صحت مندانسان کی طرح سوٹ ٹائی لگا کرنکلے تھےجبکہ اُن کےحریفوں کاخیال تھا کہ جوحالت ڈاکٹر صاحبان نے بتائی ہے انہیں ایمبولینس میں جاناچاہیے تھا اگر میاں صاحب ایسا ہی کرتےتب بھی اعتراض کرنےوالوں نےاعتراض توکرناہی تھا کیونکہ میاں نواز شریف براہ راست ہسپتال جانےکے اپنے بیٹے کے گھر پہنچےاور خود چل کرگاڑی سےاُترےاور چل کر اندر داخل ہوئے، اس سے بھی مخالفین کاشک یقین میں بدل گیا کہ میاں صاحب کی بیماری ڈرامہ ہےیہاں تک خود وزیراعظم جنہوں نےذاتی طور پرخود بھی تحقیق کی تھی انہیں یقین ہوگیا تھاکہ واقعی میاں صاحب شدید بیمار ہیں اب وہ بھی شکوہ کررہے ہیں کہ اُن کےساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پہلے انہوں نےعدلیہ کی طرف اگلی اُٹھائی تھی وہاں سے فوری ردعمل کےطورپرخاطرخواہ جواب آگیا اس کے بعد سرکار نےاپناہدف میڈیکل ٹیم کوبنایاتھاکیونکہ اُن کےمشیر وزیرانہیں یقین دلارہے تھےکہ میاں صاحب حقیقت میں بیمار نہیں  ہیں اُن کے مطابق میاں صاحب ان کے ہاتھ سےنکل گئےجبکہ  لندن میں میاں نوازشریف کاڈاکٹر ہرروز معائینہ  کررہےہیں، مختلف ٹیسٹ کیےجارہے ہیں بیماری اتنی پیچیدہ ہے جس کی تشخیص میں وقت لگ رہاہے۔ میاں صاحب جس خوداعتمادی سےچل پھر رہے ہیں اس سے بہت سے لوگ پریشان ہورہے ہیں، شک وشبہات کاشکار ہورہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ جس پرپڑتی ہے وہی جانتاہے تکلیف کتنی اورکیسی ہے۔ میاں نوازشریف کےرویےسے حکومت سخت پریشانی  کاشکار ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میاں صاحب وزیراعظم کے مزاج آشناہوں وہ دانستہ اپنی جان پرکھیل رہےہوں صرف فریق مخالف کوپریشان کرنےکےلیے، سچ کیا ہے یہ میاں صاحب یااللہ ہی جانتاہے۔ 
ادھر مولانافضل الرحمٰن اپنی سیاسی سرگرمیوں سے الگ پریشان کررہے ہیں۔ تماشہ دیکھنےوالوں کےمطابق مولانا  کاپلان Aاور پلان Bبھی ناکام رہے اب مولانا نےجوA P C بلائی تھی اُس کانتیجہ بھی صفر ہی نظرآرہاہے جانے کس بنیاد پر مولانا ناصرف مطمئن نظرآرہے ہیں بلکہ پریقین انداز میں آنےوالےانقلاب کے بارے میں پورےوثوق سے بیان دےرہے ہیں اب جبکہ سپہ سالار کے معاملے کی گرد بھی بیٹھ چکی ہے اب بظاہر کوئی بات ایسی نہیں نظر آرہی جسے مولانا کی خواہش پوری ہوتی محسوس ہوسکے۔ یہ بات بھی درست ہے جوتجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب اورشہباز شریف کےناہونے سےحزب اختلاف کمزورپڑگئی ہے، مولانا معاملات کوصحیح طریقہ سے سنبھال نہیں پارہے شاید میاں نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم بی بی کوبھی سیاسی بیان بازی اورعملی سیاست سےدور رہنے کی تاکید کرگئےہیں تب ہی مریم نواز ایک دم خاموش ہیں، اس وجہ سےبھی شاید مسلم لیگ ن کچھ پرجوش نہیں دکھائی دےرہی۔ پیپلزپارٹی ابھی دیکھو اورانتظار کروکی پالیسی اپنائے ہوئے ہے کہ ہم ساتھ بھی ہیں اور فعال بھی نہیں ہیں جبکہ مولانا اکیلےرہ جانے کےباوجود جانے کس کی یقین دہانی کی ناصرف بات کررہے ہیں بلکہ تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند پرجوش اور خوش گوار انداز میں بات کررہے ہیں۔ اللہ ہی جانے کہ کس طاقت نے پھونک بھردی ہے۔مولانا صاحب کےاندازگفتگو سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ میاں نوازشریف کی وضع کردہ خلائی مخلوق نے توکہیں مولانا کےکانوں میں کچھ نہیں پھونک دیاہے،اگرواقعی کسی خلائی مخلوق نے مولاناکی پشت پرہاتھ رکھ دیاہے توپھرکچھ بھی ممکن ہوسکتاہے کیونکہ وہ خلائی ہاتھ میاں صاحب کی پشت کی جگہ سینے پرآگیاتھا جس نےمیاں کوپیچھے دھکیل دیاتھاتب ہی میاں صاحب بار بار کہہ دہےتھے مجھے کیوں نکالا۔ اگروہی ہاتھ ہے تو پھر ممکن ہے۔ اب دیکھنایہ بھی ہے کہ وہ ہاتھ کب جانےوالوں کےسینے تک پہنچتاہےکب مولاناقوم کو،اپنے حلیفوں کوکوئی خوش خبری سناتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رات گئی بات گئی پھرجوہوگاوہ بھی قوم دیکھےگی اور دیکھتی رہے گی۔