07:27 am
بھارتی مسلمانوں کی نئی آزمائش

بھارتی مسلمانوں کی نئی آزمائش

07:27 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
حالیہ انتخابی مہم نظریاتی اعتبارسے غیرمعمولی تھی۔ کانگریس کے ششی تھروکے مطابق یہ بھارت کیلئے نظریاتی اورروحانی شناخت کامعاملہ تھا۔ان کا استدلال ہے کہ بی جے پی نے بھارت کی نظریاتی شناخت کوانتہائی مسخ کردیاہے۔مودی کے پہلے دورِ حکومت میں جوکچھ ہوا،اس کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہوگیاہے۔بہت جلدبھارت آبادی کے حوالے سے دنیاکاسب سے بڑاملک ہوگااورایسے میں انتہاپسندی کاجن پوری طرح بوتل سے باہرآئے گا اورخرابیاں قابوسے باہرہوجائیں گی۔بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہروکے دورمیں بھارتی قوم پرستی جس نوعیت کی تھی وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔تب قومی سوچ غالب تھی،جس میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے پنپنے کی گنجائش تھی اورلوگ تمام باتیں بھول کربھارت کاسوچتے تھے۔بی جے پی نے ہندوانتہا پسندی کواس قدرپروان چڑھایا ہے کہ اب بھارت کا سیکولرازم دائو پر لگ چکاہے اور بھارت کے ہندو ریاست ہونے کابھرپورتاثرابھر کرسامنے آچکاہے۔
نہرومجموعی طورپراس بات کے حق میں تھے کہ بھارت میں تمام مذاہب کے لوگ مل کررہیں اورملک کی بہبودکیلئے کام کریں۔دوسری طرف ونایک ساورکر تھے جواگرچہ ملحدتھے مگر ہزاروں سال سے اس خطے میں بسے ہوئے ہندوئوں کوملک کی سب سے بڑی حقیقت کے طورپرتسلیم کرانے کے حق میں تھے اور ان کے نظریے کی روشنی میں بھارت میں صرف ہندوئوں کیلئے گنجائش تھی،مسلمانوں کیلئے ذرابھی گنجائش نہ تھی۔ ساور کرکے نظریے کے مطابق صرف ہندوئوں کو بھارت کی سرزمین پررہنے کاحق تھااوراس کا سبب یہ تھا کہ ان کے دیوی دیوتائوں،رسوم ورواج اورثقافت کاتعلق بھارتی سرزمین سے تھا۔دوسری طرف مسلم اورمسیحی ان کی نظرمیں بھارت میں رہنے کے حق دارنہ تھے کیونکہ ان کی مقدس سرزمین عرب تھی یاپھرفلسطین اوریہ کہ ان کے خدا کی سرزمین بھی بھارت نہ تھی۔
کون ہندوستانی ہے اورکون نہیں،اس حوالے سے ہندوئوں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ساورکرکی نظرمیں صرف ہندوئوں کو ہندوستان میں رہنے کاحق تھا۔انہوں نے اس بات پرزوردیاکہ ہرہندوکوعسکری تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ان کے نظریات کے مطابق معرض وجود میں آنے والی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ میں اب تھوڑی بہت تبدیلی واقع ہوچکی ہے۔اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے اذہان کاکہناہے کہ مسلمانوں اورمسیحیوں کو نظر انداز کرکے بھارت کو مکمل تصورنہیں کیا جاسکتا۔ ان کی نظرمیں مسلمان اورمسیحی بھی اپنے مذہب کے ساتھ ملک کالازمی حصہ ہیں اورانہیں تسلیم کیاجاناچاہیے۔
انتہاپسنداوربنیادپرست ہندوئوں کادعوی ہے کہ نہرونے سیکولرازم کی بات صرف اس لیے کی تھی کہ مسلمانوں کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔ان کے خیال میں مسلمانوں کوشرعی اصولوں کے مطابق شادی کی اجازت دیکریاکشمیریوں کیلئے زیادہ خودمختاری کااعلان کرکے صرف ووٹ بٹورے جاسکتے ہیں ،بھارت کی حقیقی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ آج بھارتی معاشرہ مکمل طورپرتبدیل ہوچکا ہے۔ نہرونے ہندوقوم پرستی کی شکل میں ابھرنے والی انتہا پسندی کوکچلنے کیلئے آرایس ایس پرپابندی سمیت بہت سے اقدامات کیے۔یہ تمام اقدامات اب کچراکنڈی کی نذرہوچکے ہیں۔آج کے بھارت میں سیکولرازم کے پنپنے کی گنجائش برائے نام دکھائی دے رہی ہے۔ مجموعی سوچ انتہاپسندی کی ہوچکی ہے ۔ بی جے پی اس سوچ کومزیدپروان چڑھانے پرتلی ہوئی ہے۔
ایک زمانہ تھاکہ کبھی کبھی کوئی ہندو مسلم فساد ہو جاتا تھا۔اب یہ سب کچھ یومیہ بنیاد پر ہو رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں جہاں جہاں ہندو اکثریت ہے وہاں مسلم اوردیگر غیرمسلم طلبہ کو واضح طور پرامتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں تشدد کانشانہ بنایا جاتاہے اورپوری کوشش کی جاتی ہے کہ وہ دب کر رہیں،ان کی شخصیت مسخ ہوجائے۔نازیہ ارم نے اپنی کتاب کی تیاری کیلئے درجنوں طلبہ اوران کے والدین سے گفتگو کی۔انہیں بتایاگیاکہ تعلیمی اداروں کو انتہا پسندوں نے خصوصی طور پرنشانہ بنایا ہے۔ بھرپورکوشش کی گئی ہے کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بہتراندازسے تعلیم مکمل نہ کرسکیں اوران میں مجموعی طورپرخوف کا ماحول برقراررہے۔ اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروں میں بھی یہی ماحول پنپ رہا ہے۔ایک دورتھاکہ کسی بھی معاملے پرہندومسلم فساد ہوتاتھاتوکچھ دن بعدمعاملات معمول پرآجاتے تھے اورسب پھرمل جل کررہنے لگتے تھے۔اب ایسانہیں ہے۔اب مسلمانوں میں الگ تھلگ رہنے کارجحان خطرناک حد تک پروان چڑھ چکا ہے۔ وہ ہندوئوں سے واضح طورپرالگ رہنے پرمجبورہیں۔نازیہ ارم کا کہناہے کہ الیکٹرانک چینل اورسوشل میڈیانے معاملات کوانتہائی بگاڑدیاہے۔سوشل میڈیاپرہر وقت کوئی نہ کوئی اِیشوزندہ رکھاجاتاہے۔پوری کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آہنگی کی فضاکسی بھی طور پیداہی نہ ہو۔اختلافی امورکوہوادی جاتی ہے۔ملک کے بارے میں عمومی تاثریہ ہے کہ یہاں توہمیشہ کشیدگی ہی برقراررہتی ہے۔نازیہ کہتی ہیں کہ بھارت میں بہت کچھ خطرناک حدتک بدل چکاہے۔ کل تک لوگ  ساتھ رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے بھی تھے۔اب ایسانہیں ہے۔ اب صرف شکوک ہیں،نفرت ہے اور کشیدگی ہے۔
ستم ظریفی تویہ ہے کہ تقسیم  ہندکے بعدجب پاکستان سکھوں کی مذہبی ٓآزادی کااحترام کرتے ہوئے کرتارپورراہداری کاباقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے دنیابھرکی سکھ برادری کا دل جیت رہے تھے ، عین اسی دن بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجدکافیصلہ کرتے ہوئے بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے مذہب کے استعارہ ’’بابری مسجد‘‘کاہندوئوں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے عالمی طورپراپنے منہ پرکالک ملنے کا بھرپور مظاہرہ کیاجس پرخودبھارت کے مسلمانوں میں شدیدبے چینی پیداہوگئی ہے اورمسلمان رہنماء اسدالدین اویسی سمیت بے شماردیگرمسلمان رہنماء چیخ اٹھے ہیں۔یقیناً آج انہیں دوقومی نظریہ کی حقانیت کا ضرورپتہ چل گیاہے کہ سفاک مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں کامستقبل کیا ہے ؟

تازہ ترین خبریں