07:28 am
کراچی کے بعد حیدر آباد کی ’’ترقی‘‘ کو بھی جھٹکے؟

کراچی کے بعد حیدر آباد کی ’’ترقی‘‘ کو بھی جھٹکے؟

07:28 am

گاڑی نے جب کھڈوں سے جھٹکے کھانے شروع کیے تو میں نے اپنے دوست احمد علی سلام سے پوچھا کہ اس روڈ کانام کیا ہے؟ وہ بولے کالی موری گورنمنٹ کالج روڈ، یہ روڈ کب تک بننے کی امید ہے؟ میرا اگلا سوال سن کر احمد علی نے بے ساختہ جواب دیا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت رہی تو شاید آئندہ50 برسوں میں بھی نہ بن سکے۔ یہ غیر متوقع جواب سن کر مجھے حیرت کا جھٹکا لگا، سندھ کے عوام کی پیپلز پارٹی کی حکومتی کارکردگی سے مایوسی دیکھی نہیں جاتی ، احمد علی سلام مجھے لیاقت کالونی کے سخی پیر روڈ، نہر والا روڈ، اسٹیشن روڈ، کپڑا مارکیٹ والا روڈ، ہیرا آبادوغیرہ سے گھماتے پھراتے نورانی بستی کی طرف لے گئے ۔ حیدر آباد جیسے خوبصورت شہر کی بدصورت سڑکیں، ٹوٹے پھوٹے کھنڈر بنے روڈ دیکھ کر نہایت افسوس ہوا۔
  •  
ایسے لگتاہے کہ جیسے ’’حیدر آباد‘‘ اور ’’ترقی‘‘ کی آپس میں سخت چپقلش ہو۔ حیدر آبادیوں سے ترقی کب سے روٹھی ہوئی ہے؟ میرے سوال کا احمد علی سلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ1984 ء کے بعد سے ، جیسے ہی ایم کیو ایم قائم ہوئی حیدر آباد سے ’’ترقی‘‘ نے منہ موڑ لیا،1984 ء سے پہلے حیدر آباد ترقی کررہا تھا، یہاں سڑکوں اور علاقوں کی صفائی کا بھی بہترین انتظام تھا، یہاں مہاجر، سندھی، پٹھان، بلوچ، پنجابی سب ہی ہنسی خوشی مل کر رہتے تھے، لیکن پھر یکایک  کراچی کے ساتھ ساتھ حیدر آباد کے امن اور ترقی کو نائن زیرو کے ’’اُلو‘‘ کی نظر لگ گئی، کوئی شک نہیں کہ نائن زیرو کا لندن میں پناہ گزین وہ ’’اُلو‘‘ کرا چی اور حیدر آباد میں بسنے والے انسانوں کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کا بھی قاتل ثابت ہوا، سخت گرمی کے موسم میں بھی حیدر آباد کی ٹھنڈی ہوائوں والی شامیں اور سہانی راتیں ، لندن میں مفرور اس ’’اُلو‘‘ کی ذلت و رسوائی والی چیخیں سن کر مستی میں ڈوب جاتی ہیں، میں نہ اسے قائد تحریک لکھوں گا اور نہ قائد مانتا ہوں، جس میں ’’اُلو‘‘ والی خوبیاں پائی جاتی ہوں اسے اُلو سے تشبیہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، گزشتہ دنوں موصوف دہلی کی طرف منہ کرکے چنگھاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ بابر ی مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنا ہندوئوں کا حق ہے اور اس سے اگلے ہی روز نائن زیرو کے اس اُلو کا ایک دوسرا وڈیو کلپ  وائرل ہوا جس میں موصوف انڈیا کی شہریت حاصل کرنے کے لئے ممیاتے ہوئے نظر آئے، پرویز مشرف، نوازشریف اور آصف علی زرداری یہ کبھی نہ کبھی لندن میں پناہ گزین ’’را‘‘ کے اس گماشتے کے اتحادی رہے، پرویز مشرف ہوں، زرداری ہوں یا نواز شریف انہوں نے اپنے اپنے اقتدار کے لئے اس ’’را‘‘ مارکہ اُلو کی مافیا نما جماعت کو اقتدار کا حصہ بنائے رکھا، سمجھ میں نہیں آرہا، غلط کون تھا یہ یا وہ اُلو؟ آج اگر کراچی یا حیدر آباد ترقی سے محروم ہیں تو اس کی بنیادی وجہ وہ مافیا گروپس ہیں کہ جو سیاست کے لبادے میں کرپشن کے بادشاہ اور خونخوار بھیڑیئے ثابت ہوئے۔
ایک اجلاس میں بلاول نے پیپلز پارٹی کے بعض وزراء کانام لے کر وارننگ دی کہ وہ اپنی کارکردگی کو ٹھیک کریں ورنہ پارٹی کے پاس دیگر آپشنز بھی ہیں ، اب ناقص کارکردگی والے وزراء کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جاسکتا، شکر ہے کہ بلاول زرداری کو سندھ حکومت کے وزراء کی کارکردگی کا خیال تو آیا یقیناً الطاف حسین کی ایم کیو ایم سند ھ کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ تھی لیکن ہم کب تک کراچی، حیدر آباد سمیت سندھ کی بربادی کی ذمہ داری ایم کیو ایم کے سر تھوپ کرخود بری الزمہ ہوتے رہیں گے۔ لندن میں پناہ گزین ’’اُلو‘‘ کی کہانی ختم ہوئے بھی دو سال بیت گئے مگر حیدر آباد تو اب بھی ترقی سے محروم ہے، حیدر آباد شہر کی جن سڑکوں کا اس خاکسار نے کالم کے آغاز میں ذکر کیا ہے، صرف وہ چند سڑکیں ہی نہیں بلکہ پورے حیدر آباد کی اندرونی سڑکیں، گلیاں او ر مارکیٹوں کے قرب و جوار کی سڑکیں اگر آج بھی موہنجودوڑو کے مناظر پیش کررہی ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ سبزی منڈی روڈ، جالی روڈ، گاڑی کھاتہ، کچے قلعے والا روڈ، پنجرہ پول، امریکن کوارٹرز کے گردونواح کی سڑکوں کی تباہ حالی تو دیکھی نہیں جاتی، ہاں البتہ قاسم آباد کے علاقے میں ترقی کے آثار ضرور نظر آئے، وجہ دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ نواز شریف کے مخصوص نعرے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا عملی مظہر دیکھاجاسکتا ہے؟ کیا مطلب، میری حیرت دیکھ کر احمد علی بولے کہ یہاں پیپلز پارٹی کے ووٹرز کی زیادہ تعداد بستی ہے، اس لئے سندھ حکومت نے یہاں ووٹر کو عزت دینے کی کوشش کی ضرور کی ہے۔
اچھی بات ہے، قاسم آباد بھی تو حیدر آباد کا  حصہ ہے لیکن بلاول زرداری کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکمرانوں کے کان کھینچ کر پوچھیں کہ آخر بقیہ حیدر آباد کا کیا قصور ہے؟ رانی باغ کو کسی دور میں حیدر آباد کی پہچان سمجھا جاتا تھا اب وہ رانی باغ بھی بیوہ کی اجڑی مانگ کی طرح اجڑا اجڑا سا لگا، حیدر آباد کے شہریوں کو اب بھی تقریباً آٹھ گھنٹے یومیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب سہنا پڑتا ہے، احمد علی سلام1971 ء میں حیدر آباد ہی میں پیدا ہوئے، انہیں سرزمین حیدر آباد پر رہتے ہوئے 49 برس بیت رہے ہیں، وہ عوام میں سے ہیں تجارت ان کا پیشہ ہے، اسلام، پاکستان اور حیدرآباد ان کی محبت ہے مگر میرے دوست کا حکمرانوں سے سوال یہ ہے کہ آخر ان کے شہر کا جرم کیا ہے کہ جو اسے ترقی سے محروم رکھا جارہا ہے؟ جس طرح تحریک انصاف والوں سے مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت میں اضافے کی کوئی وجہ پوچھے تو یہ پچھلے حکمرانوں  پر ان سب برائیوں کا بوجھ ڈال کر خود جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں ، بالکل اسی طرح پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے وزراء سندھ کی ترقی میں رکاوٹ کی ذمہ داری ایم کیو ایم کے کندھوں پر ڈال کر خود کو بری الزمہ سمجھ لیتے ہیں، جس کانقصان  آئندہ انتخابات میں انہیں ضرور پہنچے گا۔

تازہ ترین خبریں