07:30 am
ملک خطرناک بحران سے بچ گیا!

ملک خطرناک بحران سے بچ گیا!

07:30 am

٭سپریم کورٹ کا فیصلہ، ملک خطرناک بحران سے بچ گیا پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیمO عمران خان! پہلے چیف جسٹس پر تنقید، اب تعریف!O نوازشریف، کینسر کا خطرہ، ٹیسٹ کرانے، امریکہ جانے سے انکارO پنجاب: وزیراعلیٰ کے تبادلوں کے اختیارات چیف سیکرٹری، آئی جی کو منتقلO بجلی کی قیمت، مزید اضافہO دالوں کی قیمت میں ناقابل برداشت اضافہO مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت کا منصوبہO پنجاب جیلیں، کروڑوں کی کرپشن کے سات قیدی، کروڑوں کی سرکاری امداد پر رہاO عراق:ایران کے خلاف مظاہرے، نجف میں ایرانی قونصل خانہ جلا دیا گیاO مالدیپ: سابق صدر یامین: منی لانڈرنگ، 5 سال قید50 لاکھ ڈالر جرمانہ۔
٭تین روز کے اعصاب شکن ماحول کے بعد آرمی چیف کی تقرری و توسیع کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ کسی ملک کے معاشی حالات کے مستحکم یا غیر مستحکم ہونے کا اندازہ وہاں کے سٹاک ایکسچینج کے اتار چڑھائو سے لگایا جاتا ہے۔پاکستان میں مسلسل ابتر حالات کے باعث سٹاک ایکس چینج کی پوزیشن 45 ہزار کے انڈیکس سے 29 ہزار تک گر گئی تھی جو ملکی معیشت کی شدید بدحالی ظاہر کر رہی تھی۔ بڑے سرمایہ داروں نے بڑے صنعتی منصوبوں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیاتھا۔ تاہم شکر ہے کہ صورت حال سنبھلنا شروع ہوئی، سٹاک ایکس چینج میں بہتری پیدا ہونے لگی اور صورت حال 37 ہزار کے انڈیکس تک پہنچ گئی۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں آرمی چیف کے کیس کے بارے میں ملک میں اضطراب اور پریشانی کے ماحول سے سٹاک ایکس چینج میں پھر ابتری کا خدشہ پیدا ہو گیا مگر فیصلہ آتے ہی اک دم سرمایہ کاری تیزہو گئی اور جمعرات کے روز سٹاک ایکس چینج 38800 کی نفسیاتی حد تک پہنچ گیا ہے۔ ملکی معیشت کے لئے یہ یقیناًخوش آئند بات ہے۔
٭اب اس ساری صورت حال کا مختصر قانونی جائزہ۔ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی موجودہ مدت میں چھ ماہ کی عبوری توسیع کی اجازت دے کر اس مسئلے کو مستقل حل کے لئے پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا ہے۔ ملک میں سپریم کورٹ کے اس اقدام پر عمومی طور پر اظہار تحسین کیا جا رہا ہے، کچھ قانونی حلقے اسے قانون کے منافی نظریہ ضرورت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ قانون میں آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کی کوئی شق موجود نہیں تھی تو توسیع سے انکار کر دینا چاہئے تھا۔ فرض کریں ایسا ہو جاتا تو ملک شدید بحران کا شکار ہو سکتا تھا، ملکی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ آئین و قانون کے مطابق اس صورت حال کا کوئی فوری حل ممکن نہ تھا۔ ایک پہلو یہ بھی تھا کہ فوج کے ایک سربراہ کو تین سال کی توسیع دے کر اسے منسوخ کرنے سے اس کی سبکی سے فوج میں بددلی پھیل سکتی تھی۔ مزید یہ کہ حکومت اور عدلیہ میں ناگوار قسم کی کش مکش شروع ہو جاتی جو ملک و قوم کے لئے پریشان کن ثابت ہوتی۔ ایسے اور بھی عوامل تھے جن کے پیش نظر فاضل عدالت نے ایک عارضی حل نکالا اور یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔ بلاشبہ یہ عدالت عظمیٰ کا قابل تحسین تاریخی کارنامہ ہے۔ آئین، قانون، سیاست، ہر چیز پاکستان  اور اس کی سلامتی کے ضامن ہیں۔ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے بعض اوقات آئین اور قانون سے ہٹ کر اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ جنگ ہو رہی ہو تو آئین میں دیئے ہوئے تمام بنیادی حقوق معطل ہو جاتے ہیں۔ بہر حال شکر ہے، ملک کسی خطرناک بحران سے بچ گیا ہے!
٭کیا منظر نامہ ہے! وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بارے میں ناروا تنقیدی الفاظ کہے اور بعض ہدایات جاری کیں۔اس پر چیف جسٹس نے تلخ جواب دیا اور اب!!یہی وزیراعظم اس چیف جسٹس کی شان میں انتہا درجے کی قصیدہ خوانی فرما رہے ہیں، یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے جسٹس آصف سعید کھوسہ جیسا عظیم منصف پیدا کیا ہے! اس پر کیاکہا جائے! عمران خان صاحب، کبھی سوچ سمجھ کر بھی بات کر لیا کریں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کو آصف زرداری نے صدر مملکت کی حیثیت سے 18 فروری 2010ء کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ 21 مئی 1998ء سے لاہور ہائی کورٹ کے جج رہ چکے تھے۔ اس سال جنوری میں وہ آپ کی مہربانی سے نہیں، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کے طور پر اپنے استحقاق کی بنا پر چیف جسٹس کے عہدہ پر آئے تھے۔ آپ چاہتے بھی تو ان کو اس عہدے پر آنے سے نہیں روک سکتے تھے! وزیراعظم صاحب! آپ تو چند روز پہلے چیف جسٹس صاحب کو غریب امیر کو یکساں انصاف فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر رہے تھے، آج یہ قصیدہ گوئی!
٭قارئین کرام! جسٹس آصف سعید کھوسہ تعلیمی لحاظ سے بلاشبہ قابل ترین جج ہیں۔ ان کے پاس قانون کی اعلیٰ ترین ایسی ڈگریاں ہیں جو شائد پوری اعلیٰ عدلیہ میں کسی اور کے پاس نہیں۔ ان کا اندرون ملک تعلیمی ریکارڈ بھی قابل تحسین ہے۔ لاہور ثانوی تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ امتحان میں پورے بورڈ میں اول آئے، پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کے امتحان میں بھی پنجاب یونیورسٹی میں اول آئے۔ امتیازی نمبروں کے ساتھ اسی کالج سے ایم اے انگریزی اور ایل ایل بی کیا۔ اس کے بعد کوئنز کالج کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ امتیاز کے ساتھ ایل ایل ایم (ماسٹر آف لا) اور قانون کی اعلیٰ ترین ’’ٹرائی پوس ان لا‘‘ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے علاوہ لندن کے قانون کی اعلیٰ تعلیم کے ادارے ’لِنکز اِن‘ سے بیرسٹری کی ڈگری بھی لی۔ قانون کے شعبے میں وکیل بننے کے لئے مقامی ایل ایل بی کی ڈگری کافی سمجھی جاتی ہے۔ ایل ایل ایم اس سے بالاتر ڈگری ہے (وہ بھی کیمبرج یونیورسٹی سے!) مزید یہ کہ ’ٹرائی پوس ان لا‘ کی ڈگری بیرسٹری اور ایل ایل ایم کی ڈگریوں سے بھی برتر قرار پاتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے یہ اعزازات شائد کسی اور کے پاس نہیں!
٭سخت دکھ ہے کہ جماعت اسلامی کے سوا حکومت اوردوسری تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مفادات کے چکر میں مقبوضہ کشمیر کی حالت زار کو بھول گئیں اور عالم یہ ہے کہ بھارت کے سرکاری نمائندے اعلانیہ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی طرح ہندوئوں کی بستیاں بسا کر اسے ہندو اکثریت کا علاقہ بنایا جا رہا ہے۔ جنوبی بھارت کی دو بڑی صنعتی کمپنیاں مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں ایکڑ اراضی خریدنے کے لئے ٹینڈر بھی داخل کر چکی ہیں۔ حکومتی نمائندے مقبوضہ کشمیر کی مسلم خواتین کے بارے میں انتہائی ناقابل برداشت باتیں کہہ رہے ہیں۔ دو روز قبل پلوامہ کے علاقہ میں تین مزید نوجوان شہید کر دیئے گئے، اس سال شہدا کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے ۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ مدت گزر گئی، نوازشریف، شہباز شریف، فضل الرحمٰن، آصف زرداری، بلاول زرداری، چودھری برادران، حمزہ شہباز، مریم اورنگزیب، احسن اقبال سے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں کوئی بات نہیں سنی گئی۔ وزیراعظم اور وزارت خارجہ کبھی کبھی دو تین جملے بول دیتے ہیں اور بس!
٭جدہ میں بے جان اسلامی سربراہی کانفرنس کی 50 سالہ تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے اسلامی امور کا کوئی بڑا عالم، کسی یونیورسٹی کا کوئی پروفیسر، آزاد کشمیر کا صدر، وزیراعظم، کوئی نظر نہ آیا اور نمائندگی وزارت اطلاعات کی معاون خصوصی ایم بی بی ایس خاتون نے کی!!پورے ملک میں اہلیت، قابلیت کی اتنی سخت قلت!
٭نوازشریف کی بیماری: نوازشریف کو انتہائی نازک اور تشویش ناک حالت میں لندن پہنچایا گیا۔ وہاں دو ہفتوں سے گھر پر زیرعلاج ہیں۔ کسی موقع پر کوئی تشویش ناک خبر نہیں آئی۔ بظاہر پرسکون ہیں۔ پاکستان میں شور مچتا رہا کہ ان کے جنیٹک اور بون میرو ٹیسٹ ناگزیر ہیں اور یہ کہ یہ ٹیسٹ صرف لندن میں ہو سکتے ہیں۔ لندن میں دو ہفتے گزر چکے ہیں، یہ ٹیسٹ نہیں ہوئے۔ اب حسین نواز کا بیان آیا ہے کہ والد صاحب نے یہ دونوں ٹیسٹ کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
مبارک سلامت! حکومت نے پٹرول 25 پیسے لٹر سستا کر دیا! کتنی بڑی سخاوت ہے۔ قومی خزانے کی کیاحالت ہو گی۔شائد کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔

تازہ ترین خبریں