10:36 am
       سی پیک، غزل اور جواب آں غزل

       سی پیک، غزل اور جواب آں غزل

10:36 am

یہ حقیقت ایک بار پھر عیاں ہو کر رہ گئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی اور خوش گوار تعلقات کی خاطر ہونے والی سرگرمیاں پاک امریکہ تعلقات کے چیچک زدہ خدوخال کی پلاسٹک سرجری کی ایک کوشش ہے ۔پلاسٹک سرجری بھی نہیں اسے فقط سادہ میک اپ کہاجائے تو اچھا ہوگا ۔پلاسٹک سرجری میں معاملے کی نوعیت بدل جاتی ہے مگر میک اپ حقیقت کو چھپانے اور آئینے کی آنکھ کو دھوکا دینے کی ایک
عارضی سی کوشش ہوتی ہے۔حالات اور وقت کی پہلی برسات کی پہلی پھوار ہی اس سب کو دھوڈالتی ہے۔تعلقات کی اس ملمع کاری کا پہلا ثبوت اس وقت ملا جب امریکہ کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز بہت کھل کر پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف بول پڑیں بلکہ انہوں نے اس طویل المیعاد منصوبے کے مقابل معاشی ترقی کے حوالے پاکستان کے لئے امریکہ کے ایک متبادل ماڈل کا اشارہ بھی دیا ۔گویا کہ امریکہ ابھی تک یہ سوچ ذہنوں میں بسائے بیٹھا ہے کہ اگر پاکستان سی پیک منصوبے کو ترک کردے تو پاکستان اسے معاشی طور پر سہارا دینے کے لئے اپنی پرائیویٹ کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے لئے آگے بڑھائے ۔امریکی عہدیدار کی زبان سے یہ آدھی بات ہی ادا ہوئی ہے ۔سرد جنگ کے بعد سے امریکہ کے پاس پاکستان کے لئے جو ماڈل موجود ہے اس میں پاکستان کی بجائے بھارت کو مرکزیت حاصل ہے ۔امریکہ ایشیا کی سیاست میں ایسا پاکستان چاہتا ہے جو بھارت کی دُم کے ساتھ بندھا ہواور چین کے مقابلے میں بھارت کے تابع مہمل کا کردار ادا کرتا رہے۔پاکستان ترقی تو ضرورکرے مگر خطے میں بھارت کا ضمیمہ اور طفیلی بن کر ۔سردجنگ کے بعد کے تین عشرے امریکہ اور پاکستان کے درمیان اسی کھینچا تانی کی نذر ہوئے۔ پاکستان کے لئے معاملہ چین اور امریکہ میں سے کسی ایک کے چنائو کا ہو تو ایک بڑا حلقہ لمحہ بھر کو تذبذب کا شکار ہو سکتا ہے مگر جب بات چین اور بھارت میں کسی کو ترجیح بنانے کی ہو تو اس میں سوچنے اور سمجھنے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔پاکستان کسی پنجابی فلم کی ہیروئن کی طرح ولن سے اپنا بازو چھڑ ارہا ہے تو امریکہ اسے گھسیٹ کر کسی اور کے حوالے کرنا چاہتا ہے ۔ان تین دہائیوں میں پاکستان کے بہت سے عارضوں ،مسائل اور مشکلات کا تعلق اسی کھینچا تانی اور زورا زوری سے ہے ۔ایک بار تو وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اسلام آباد میں کھلے لفظوں میں بتا گئی تھیں کہ بھارت کے ساتھ دوستی اورتجارت کے باعث پاکستان کی معیشت راکٹ کی رفتار سے ترقی کرے گی۔دوستی تعلق اور تجارت سے کون انکاری ہوسکتا ہے مگر اس دوستی میں برابری سے زیادہ برتری کا تاثر نمایاں اور مطلوب ہے ۔اسی لئے پاکستان ان کوششوں کا مزاحم ہے۔اب بھی پاکستان اور امریکہ نظریہ ضرورت کی راہوں کے راہی ہیں ۔امریکہ کو قوی امید ہے کہ وہ افغانستان میں جس فتح کا متلاشی ہے وہ اسے پاکستان کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور پاکستان کو ایک موہوم امید ہے امریکہ بدلے میں اسے کشمیر میں کسی ’’انعام ‘‘ سے نواز سکتا ہے۔امریکہ نے پاکستان کی اس اہمیت کا ادراک افغانستان میں پندرہ سولہ سال کے تلخ تجربے کے بعد کیا تھا۔ڈیڑھ عشرے تک امریکہ افغانستان میں پاکستان کو مسئلے کے حل کی بجائے مسئلہ سمجھ کر حکمت عملی اپنائے رہا ۔امریکہ نے افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بھارت کو ایک بڑا اور سائیڈ رول دیا جس سے یہ مسئلہ اُلجھتا چلا گیا ۔اب بھی دونوں ملک بے شمار ملاقاتوں کے بعد اجنبی اور کھنچے کھنچے سے ہیں ۔تعلقات کا پرنالہ اپنی جگہ معلوم ہوتا ہے۔امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایشیا کے تزویراتی منصوبوں دو متضادسمتوں میں بدستور جاری ہیں اور تازہ اشارے بات کا پتا دیتے ہیں کہ مصنوعی اقدامات اور میک اپ کے باوجود تعلقات کا پرنالہ اپنی جگہ موجود ہے۔امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے اچانک کھل کر سامنے آگئیں۔پہلے امریکہ پردوں کے پیچھے چھپ چھپ کر اپنا کردار ادا کرتا تھا اس بیان سے و ہ خاصا کھل کر سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک جا ری رہا تو پاکستان کو بہت نقصان ہوگااس منصوبے سے صرف چین کو فائدہ ہوگا۔پاکستان کو چین سے سخت سوالات کرنا ہوں گے۔امریکہ کے پاس پاکستان کی ترقی کے لئے متبادل ماڈل ہے۔اسلام آباد میں چینی سفیر یائو جنگ نے امریکہ کی اعلیٰ عہدیدار کے اس بیان پر براہ راست ردعمل جا ری کیا اور اس حوالے سے کئی وضاحتیں کیں۔ جس کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفیر بھی بول پڑے اور انہوں نے ایلس ویلز کی باتوں کو امریکہ کی پالیسی کہہ کر حمایت کی ۔یوں سی پیک پہلی بار امریکہ کے درمیان غزل اور جواب آں غزل کی صورت میں سامنے آیا۔چینی سفیر نے یہ سوال بھی پوچھا جب پاکستان توانائی کے سنگین بحران کا سامنا کررہا تھا امریکہ اس وقت کہا ں تھا؟بہت دلچسپ سوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت طویل اور دلچسپ ہوسکتا ہے ۔مثلاً یہ کہ جب پاکستان توانائی کے بحران کے باعث اندھیروں میں ڈوب رہا تھا امریکہ اس وقت پاکستان میں’’ ریمنڈ ڈیوس ‘‘بھیج رہا تھا اور امریکہ کے زیر اثر افغانستان سے پاکستان کے بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں خوش گوار ہوا کی بجائے لُو کے تھپیڑے چل رہے تھے جس کے باعث گوادر کی بندرگاہ بسنے اور بننے سے پہلے ہی ویران اور بھوت نگر بن رہی تھی۔ایلس ویلز کا بیان جس روز سامنے آیا عین اسی دوران امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار اور افغان امور کی انچارج نینسی ایزوجیکس نے ایک تھنک ٹینک میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور امداد کو سراہتا ہے۔بھارت اس وقت افغانستان میں تین بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ سی پیک سے افغانستان میں بھارت کی موجودگی تک امریکہ اپنے موقف پر قائم ہے ۔سی پیک کو پاکستان معاشی ترقی کا انجن اور گیم چینجر کہہ رہا ہے افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو اپنے گھیرائو سے تعبیر کرتا ہے ۔امریکہ ان دونوں باتوں پر قائم ہے تو پھر سمجھ جانا چاہئے کہ بہتر تعلقات کی ڈور کا سرا ہاتھ میں آنا قطعی مشکل ہے ۔سی پیک میں امریکی اعتراض صرف چین سے پاکستان کی بہتر سودے بازی نہ کرنے تک محدود ہوتا تو اس میں کوئی حرج نہیں تھا ۔خود پاکستان کے لوگوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ سی پیک کے معاملات کیا ہیں اور لین دین کی اصل کہانی کیا ہے؟ اس پر سوال پوچھنا بلکہ حکمت عملی کے سقم کو دور کرنا ہمارے روایتی تصورِ’’ قومی مفاد‘‘ کے خلاف نہیں اور نہ ہی سی پیک تقدیس ِدوراں کی حامل کوئی خانقاہ اور روحانیت سے جڑا کوئی منصوبہ ہے مگر امریکہ پاکستان کو بھارت کی جانب بھارت کی شرائط پر دھکیل کر اسے چین کے مزید قریب ہونے پر مجبور کرتا رہا ہے اور اس کھینچا تانی میں جائز سوال پوچھنا بھی حساسیت کے خول میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔



 

تازہ ترین خبریں