10:37 am
نعت خواں اور نذرانہ

نعت خواں اور نذرانہ

10:37 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
 جس خوش نصیب کو سردارِ مکہ مکرمہ، سرکارِ مدینہ منورہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ عطا فرما دیں، خدا کی قسم! اُسکی سعادتوں کی معراج ہے اور رہا سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگنا تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اور اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگنے میں نعت خواں وغیرنعت خواں کی کوئی قید بھی نہیں، ہم تو انہی کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔ سرکارِ والاتبار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عنایت نشان ہے: اللہ عزوجل عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔(بخاری، ج1، ص43، حدیث71، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
 
قاری و نعت خواں کو کھانا پیش کرنے کے سلسلے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: پڑھنے کے عوض کھانا کھلاتا ہے تو یہ کھانا نہ کھلانا چاہئے، نہ کھانا چاہئے اور اگر کھائے گا تو یہی کھانا اسکا ثواب ہو گیا اور (یعنی مزید) ثواب کیا چاہتا ہے بلکہ جاہلوں میں جو یہ دستور ہے کہ پڑھنے والوں کو عام حصوں سے دُونا (یعنی ڈبل) دیتے ہیں اور بعض احمق پڑھنے والے اگر اُن کو اوروں سے دُونا نہ دیا جائے تو اس پر جھگڑتے ہیں۔ یہ زیادہ لینا دینا بھی منع ہے اور یہی اُسکا ثواب ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ کنزالایمان: ’’میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو‘‘۔ (پ1، البقرۃ 41)۔ (فتاویٰ رضویہ، ج21، ص663) 
اسی صفحے پر ایک دوسرے فتوے میں ارشاد فرمایا: جب کسی شادی میں عام دعوت ہے جیسے سب کو کھلایا جائیگا، پڑھنے والوں کو بھی کھلایا جائیگا، اُس میں کوئی زیادت و تخصیص نہ ہو گی (یعنی دوسروں کے مقابلے میں نہ زیادہ ملے گا نہ ہی کوئی سپیشل ڈش ہو گی) تو یہ کھانا پڑھنے کا معاوضہ نہیں، کھانا بھی جائز اور کھلانا بھی جائز۔ (ایضاً) 
قاری اور نعت خواں کی دعوت سے متعلق امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتاویٰ سے جو اُمور واضح ہوئے وہ یہ ہیں کہ (کھانا کھلانے کیلئے جائز نہیں کہ وہ ان نیک کاموں کی اُجرت کے طور پر مذکورہ افراد کو کھانا کھلائے۔ قاری اور نعت خواں کیلئے جائز ہے کہ وہ بطورِ اُجرت دعوت کھائیں۔ اُجرت کی صورتیں پیچھے بیان کر دی گئیں لہٰذا ’اُجرت کے کھانے‘ کو نفس کی حرص کی وجہ سے ’نیاز‘ کہہ کر من کو منا لینا اس کھانے کو حلال نہیں کر دیگا لہٰذا مذکورہ افراد میں سے کوئی قرأت یا نعت شریف پڑھنے کے بعد ’صراحۃً یا دلالۃً طے شدہ خصوصی دعوت قبول کرتے ہوئے کھائے گا تو ثوابِ اُخروی سے محروم رہیگا بلکہ یہی کھانا چائے بسکٹ وغیرہ اسکا اَجر ہو جائیگا۔ اگر عام دعوت ہو (یعنی وہ نعت خواں غیرحاضر ہوتا جب بھی یہ دعوت ہوتی) تو اب ضمناً ان مذکورہ افراد کو کھلانے اور ان افراد کے کھانے میں کوئی مضائقہ ہیں۔ اگر دعوت تو عام ہو مگر قاری یا نعت خواں کیلئے خصوصی کھانے کا اہتمام ہو مثلاً لوگوں کیلئے صرف بریانی اور ان کیلئے سلاد، رائتے اور چائے کا بھی اہتمام ہو یا دیگر لوگوں کو ایک ایک حصہ اور ان کو زیادہ دیا جائے تو وہ خصوصیت و زیادت (یعنی مخصوص غذا اور اضافہ) اُجرت ہونے کے باعث فریقین کیلئے ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانیوالا کام ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ اس میں بھی وہی شرط ہے کہ پہلے سے صراحۃً یا دلالۃً طے ہو تب حرام ہو ورنہ اگر طے نہ تھا اور اسکے بغیر ہی اہتمام ہو تو پھر جائز ہے۔ 
اگر نعت خواں اور قاری صاحبان یہ کہیں کہ ہم نے نہ تو اس خصوصی دعوت کیلئے کہا تھا اور نہ ہی اُجرت کے طور پر کھاتے ہیں بلکہ دعوت قبول کرنا سنت ہے اسلئے تبرک سمجھ کر نیاز کھا لیتے ہیں، ایسا کہنے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ اگر کسی اجتماعِ ذکر و نعت کے موقع پر نیاز کے نام پر خصوصی دعوت نہ دی جائے تو کیا اپنی دلی کیفیات میں تبدیلی نہیں پاتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ کیسے عجیب (بلکہ معاذاللہ) کنجوس لوگ ہیں کہ پانی تک کا نہیں پوچھا؟ کیا آئندہ اس جگہ پر نعت خوانی کیلئے آنے میں بے رغبتی نہیں ہو گی؟ اگر مذکورہ افراد اپنی دِلی کیفیات تبدیل نہیں پاتے اور آنیوالے وساوس کو نفس و شیطان کی شرارت قرار دیتے ہوئے ضیافت نہ کرنیوالے کی کسی کے سامنے نہ شکایت کرتے ہیں نہ ہی آئندہ ایسی جگہ جانے سے کتراتے ہیں نیز دیگر غریب اسلامی بھائیوں کی دعوت قبول کرنے میں بھی پس و پیش سے کام نہیں لیتے تو اُن پر آفرین ہے، ایسے نعت خواں قابل ستائش ہیں مگر دِلوں کی حالت ایسی ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ قاری و نعت خواں حضرات خوب جانتے ہیں، اپنے دِل کی گہرائی میں جھانک کر اسکا فیصلہ خود ہی کر لیں۔ 
نعت پڑھتا رہوں، نعت سنتا رہوں
آنکھ پرنم رہے دِل مچلتا رہے
اُن کی یادوں میں ہر دَم کھویا رہوں
کاش! سینہ محبت میں جلتا رہے
نعت خواں حضرات کو چاہئے کہ نعت شریف شروع کرنے سے قبل یا دورانِ نعت لوگ جب نذرانہ لیکر آنا شروع ہوں تو اس وقت اس طرح اعلان فرما دیجئے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز و ناتواں بندے ہیں، براہِ کرم! نذرانہ دیکر نعت خواں کو امتحان میں مت ڈالئے، رقم آتی دیکھ کر اپنے دِل کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ نعت خواں کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کی طلب میں نعت شریف پڑھنے دیں لہٰذا نوٹوں کی برسات میں نہیں بلکہ بارشِ انوار و تجلیات میں نہاتے ہوئے نعت شریف پڑھنے دیں اور آپ بھی ادب کیساتھ بیٹھ کر نعت پاک سنیں۔
مجھ کو دُنیا کی دولت نہ زَر چاہئے
شاہِ کوثر کی میٹھی نظر چاہئے