10:40 am
سینکڑوں افسروں کے تبادلوں کا سیلاب!

سینکڑوں افسروں کے تبادلوں کا سیلاب!

10:40 am

٭وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے اعلیٰ افسروں کے تبادلوں کا سیلابO اعلیٰ عدلیہ کا جج بننے کے لئے انٹرویو Oعراق نجف میں کرفیو، مظاہرے، سینکڑوں ہلاک و زخمیO ینگ ڈاکٹروں کی پھر ہڑتال، ہزاروں مریض رُل گئےO پیپلزپارٹی کا 50 واں یوم تاسیس مظفرآباد میں جلسہ۔
٭وفاقی اور پنجاب کی حکومتوں نے ایک ہی دن میں اعلیٰ سرکاری افسروں کے تبادلوں کا طوفان برپا کر دیا۔ ملک کی پوری تاریخ میں اتنے وسیع پیمانہ پر اعلیٰ افسروںکے اکھاڑ پچھاڑ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایوب خاں، یحییٰ خاں اور ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں سینکڑوں اعلیٰ افسروں کی برطرفی کے واقعات تو ہوئے (ساہیوال کے نہائت دیانت دار شاعر ڈپٹی کمشنر مصطفی زیدی نے برطرفی پرخودکشی کر لی) مگر اس انداز میں تبادلوں کا سونامی!! وفاقی حکومت نے درجنوں سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل اور دوسرے افسر تبدیل کر دیئے ان میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی جگہ واجد ضیا کی تقرری بھی شامل ہے جبکہ شائع شدہ مواد کے مطابق سپریم کورٹ نے ایئرمارشل اصغر خاں کیس کا فیصلہ ہونے تک بشیر میمن کے تبادلے کے بارے میں حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ وفاقی اور پنجاب کی حکومتوں نے جس وسیع انداز میں افسروں کے تبادلے کئے ہیں، ان کی فہرستیں اخبارات کے دو کالموں سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ صرف پنجاب میں تین ایڈیشنل چیف سیکرٹری 27 سیکرٹری18 ایڈیشنل آئی جی، ڈی آئی جی، 19 آر پی او اور 131 ڈپٹی کمشنرا ور اسی عہدے کے دوسرے افسر شامل ہیں۔ وفاقی حکومت کے تبادلوں کی فہرست بھی ایسی ہی طویل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ تبادلے کرپشن یا نااہلی وغیرہ کے الزامات کی بنا پر نہیں کئے گئے مگر سابقہ حکومتوں کے تمام اقدامات کو نیست و نابود کر کے اپنی ذاتی انا کو تسکین دینے کے لئے کئے گئے ہیں۔نئے افسروں کو نئی جگہ پر آنے کے لئے کم از کم سات دن درکار ہوتے ہیں۔ یوں پنجاب کا سارا نظام سات دنوں کے لئے ٹھپ ہو گیا ہے۔ حد یہ کہ پنجاب کے نئے چیف سیکرٹری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے دوسرے ہی دن نہ صرف شہباز شریف کے زمانے والے بلکہ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ سالہ عرصے میں مقرر ہونے والے تین سابق چیف سیکرٹریوں کے دور میں ہونے والی تمام تقرریوں کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ قانون کے مطابق نئے افسروںکو دوسری جگہ جانے کے لئے کم از کم سات دن درکار ہوتے ہیں، یوں اب پوری انتظامیہ سات دنوں کے لئے خالی ہو گئی اورسارا نظام معطل ہو گیا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ہر روز صبح ناشتہ سے پہلے کوئی نہ کوئی ایک یا زیادہ افسروں کے تبادلے کا شوق تھا۔ اس سے صوبائی انتظامیہ بری طرح مفلوج ہو رہی تھی اب ان کا یہ اختیار چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان  بھی وفاقی سطح پر ایسے ہی تبادلے کرتے رہتے تھے۔ مگر کسی غیبی طاقت نے ان دونوں کو مشورہ دیا کہ حکومت کرنی ہے  تو وفاق اور پنچاب کے ہزاروں بڑے افسروں کی پوری ایڈمنسٹریشن کو ختم کر کے اپنی مرضی کے لوگ لے آئو۔ یہ مشورہ پسند آ گیا اور وفاق اور پنجاب کی ساری سابقہ ایڈمنسٹریشن ملیا میٹ کر کے نئے سیٹ اپ لے آئے ہیں۔ ان اقدامات کا قومی و صوبائی خزانوں پر اچانک اربوں کے اخراجات کا بوجھ پڑے گا۔ ایک بڑے افسر کا دوسری جگہ تبادلہ کیا جائے تو اس کے پورے خاندان کے سفری اور دوسرے اخراجات ہزاروں بلکہ لاکھوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ انگریزوں کے دور میں کسی افسر کا تبادلہ سال کے ان دنوں میں کیا جاتا تھا جب اس کے بچے تعلیمی امتحانات سے فارغ ہو جاتے تھے۔ کسی بھی تبادلہ سے متعلقہ افسر کے سکولوں، کالجوں میں زیر تعلیم بچوںکی پڑھائی اپ سیٹ ہوجاتی ہے۔ کسی نئے شہر میں نئے سرے سے تعلیم سخت مشکلات کی زد میں آ جاتی ہے۔ بہت سے بزرگوںکے علاج معالجہ کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ بہت اہم انسانی مسائل ہیں مگر نئی نئی حکمرانی کو اس کا کوئی احساس نہیں۔ یہ لوگ ٹیلی ویژن اور اخبارات میں خبریں پڑھ کر مسرت سے سرشار ہو جاتے ہیں کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ نے فلاں بڑے افسر کو اٹک سے اٹھا کر راجن پور، رحیم یار خاں یا بھکر بھیج دیا ہے!!
٭ایک اہم تبدیلی: پارلیمنٹ کی قانون کی پارلیمانی کمیٹی نے اہم فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہائی کورٹوں کے جج بننے کے لئے نامزد امیدواروں کا باقاعدہ انٹرو کیا جائے گا، کوئی امیدوار انٹرویو کے لئے نہیں آئے گا تو اس کی نامزدگی ختم کر دی جائے گی۔ میں اس فیصلے کی مکمل حمائت کرتا ہوں مگر چند اہم تحفظات بھی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ کافی عرصہ پہلے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جج نامزد کرنے کا مکمل اختیار ہوتا تھا۔ وہ اپنی پسند کے امیدواروں کی ایک فہرست گورنر کو بھیج دیتا تھا جو اس کی تائید کے ساتھ وزیراعظم کے ذریعے صدر مملکت تک پہنچ جاتی تھی اور ججوں کی تقرریاں ہو جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ 1993ء تک جاری رہا۔ اس عمل کا ہر سطح پر فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ نہائت قابل افراد رہ جاتے تھے اور چیف جسٹس کے ساتھ میل ملاقات اہم قرار پاتا تھا۔ اس طریقہ کار کا ایک واقعہ یہ ہوا کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو ایک روز گورنر ہائوس لاہورمیں آئیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس میاں محبوب احمد کو بلاکرپیپلزپارٹی کے رکن 17 وکیلوں کی ایک فہرست دی کہ انہیں ہائی کورٹ کا جج بنا دیا جائے۔ فہرست میں ایسے نوعمر وکیل بھی تھے جو کبھی کسی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے تھے صرف نام کے ساتھ ایل ایل بی درج تھا۔ اسی قسم کی ایک خاتون کا نام بھی فہرست میںشامل تھا۔ جسٹس میاں محبوب احمد نے اس فہرست کو قبول نہیں کیا تو موصوف کو تبدیل کر کے شرعی عدالت کا جونیئر جج بنا دیا گیا۔ ان کے عدالتی حریف سینئر جج جسٹس محمد الیاس کو قائم مقام چیف جسٹس بنا دیا گیا اور پیپلزپارٹی کے وہ تمام 17 وکیل کسی امتحان یا انٹرویو کے بغیر صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج بن گئے۔ یہ علم، سماج، عدل و انصاف کی تمام اقدار کی کھلی تحقیر تھی۔ کچھ عرصے کے بعد سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت یہ تمام ’جج‘ برخاست کر دیئے گئے۔ اس واقعہ کے بعد نیا سسٹم بنایا گیا کہ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مختلف امیدواروں کے نام سپریم جوڈیشل کمیٹی کو بھیجے گا جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں پر مشتمل ہو گی یہ کمیٹی جن ناموں کی سفارش کرے گی وہ پارلیمنٹ کی آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گی۔ یہ کمیٹی قومی اسمبلی اور سینٹ کے حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیوں کے دو دو ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ کمیٹی ان ناموں کی تائید کر کے فہرست صدر کو بھیج دیتی ہے جو اس کی منظوری دے دیتا ہے۔ کمیٹی کو کوئی اعتراض ہو تو فہرست واپس سپریم کورٹ کی کمیٹی کو بھیج دی جاتی ہے۔ اس طریق کار سے ججوں کی تقرریوں میں بہتری پیدا ہوئی مگر بہت بڑاسقم یہ تھا کہ ان عہدوں کے لئے امیدواروں کی تعلیم اور تجربہ تو زیرغور آتا تھا مگر ان کی جج بننے کی استعداد کا اندازہ نہیں ہو پاتا تھا جبکہ اب معمولی سرکاری عہدوں کے لئے بھی امتحان اور انٹرویو کی منزل سے گزرنا پڑتا ہے۔ تمام ترقی یافتہ خاص طور پر مغربی ممالک سے جج بننے کے لئے بہت سخت امتحانات اور انٹرویو کے علاوہ ان کے رہائشی علاقے میں ان کی ذاتی شناخت اور کردار کے بارے میں بھی تحقیقات ہوتی ہیں۔ امریکہ میں تو اس کے علاقے کے دکانداروں کی بھی رائے لی جاتی ہے۔ پھر امتحان میں سخت سوالات ہوتے ہیں اس کے بعد انٹرویو بھی مکمل امتحان کی شکل میں ہی ہوتا ہے۔ میں ایک بار امریکہ میں تھا۔ وہاں پورے ملک کے لاکھوں وکیلوں کی نمائندہ امریکن بار ایسوسی ایشن کی صدر ایک بہت نامور قانون دان خاتون کی خبر چھپی کہ اس نے جج بننے کے اشتہار پر درخواست دی اور پھر امتحان وغیرہ کے کڑے چکر سے گھبرا کر درخواست واپس لے لی۔ اب پاکستان میںبھی یہی نظام اپنایا جا رہا ہے مگر یہ طے نہیں کیا گیا کہ انٹرویو لینے والی کمیٹی کے ارکان کی اپنی تعلیم کا کم از کم معیار کیا ہو گا! یہ بہت ضروری ہے۔
٭ایک نئی روائت! زندہ رہنمائوں کے نام پر ہسپتال، پارک اور سڑکوں کے نام رکھے جانے لگے ہیں مگر بنوں میں ایک نئی مثال سامنے آئی ہے، ’’اکرم درانی قبرستان‘‘!!
 

تازہ ترین خبریں